ڈارک ویب کیس پر ویڈیو اپلوڈ کرنے والے سہیل ایاز کو پھانسی کا فیصلہ سنا دیا گیا۔
جہاں تک سہیل ایاز کی بات ہے۔اس پر ڈارک ویب جو کہ بدنام زمانہ ویب سائیٹ ہے جہاں پر بچوں کے ریپ کی ویڈیوز چلائی جاتیں ہیں۔انسان نما بھیڑیے معصوم بچوں کو اغواکر کے ان سے ریپ کرتے اور ان ویڈیوز کو مہنگے داموں فروخت کیا جاتا ہے۔یہ بھیڑیا بھی اسی جرم میں ملوث تھا اور برطانیہ میں اس سے پہلے بھی سزا کاٹ چکا ہے۔راولپنڈی عدالت نے سہیل نامی درندے کو تین بار سزاۓ موت سنا کر انصاف کا علم بلند کر کے جرائم کا سدباب کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔یہ فیصلہ بارش کا پہلا قطرہ ہی سہی مگر ابتداء تو ہوئی ہے۔جو کہ قابل تحسین ہے۔