تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ جب بھی انسانی عقل نے مادی وسائل کے زعم میں خدائی نظام سے سرکشی کی، کائنات نے اسے اپنی بے بسی کا آئینہ دکھا دیا۔ انسانی فطرت کا خاصہ ہے کہ وہ امن کے دور میں ‘سبب’ کو ‘مسبب’ سمجھ بیٹھتی ہے، لیکن جب سمندروں کی لہریں بپھرتی ہیں اور زمین کی طنابیں کھینچتی ہیں، تو اسے یاد آتا ہے کہ اس عظیم الشان کارخانہ قدرت کا کوئی ناظمِ اعلیٰ بھی ہے جو بن کہے سب سنتا اور بن دیکھے سب دیکھتا ہے۔
آج مشرقِ وسطیٰ کی زمین لرز رہی ہے، سپلائی چین کے بکھرتے مہرے اور تیل کی بڑھتی قیمتیں عالمی معیشت کے ماتھے پر پسینہ لے آئی ہیں۔ بظاہر یہ ایک جغرافیائی یا معاشی بحران ہے، مگر حقیقت میں یہ ‘ایمانی استقامت’ کا امتحان ہے۔ ایک مسلمان کے لیے یہ وقت خوف زدہ ہو کر کونوں میں چھپنے کا نہیں، بلکہ اپنے رب سے تعلق کو استوار کرنے کا ہے۔ جب دنیا ‘ہیج فنڈز’ اور ‘بنکرز’ میں پناہ ڈھونڈ رہی ہے، مومن کا حصار ‘شکر اور توکل’ ہے۔ یہ توکل ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنے کا نام نہیں، بلکہ اونٹ کو باندھ کر اسے رب کے سپرد کرنے کا نام ہے۔ پانچ وقت کی نماز محض ایک فریضہ نہیں، بلکہ اس قادرِ مطلق کی بارگاہ میں حاضری ہے جو عالمی فیصلہ سازوں کے بند کمروں سے لے کر سمندروں کی گہرائیوں تک، ہر شے پر تصرف رکھتا ہے۔
جدیدیت کے علمبردار اور مغربی مفکرین، جنہوں نے دہائیوں تک ‘عقلیت پسندی’ اور ‘مادی ترقی’ کو نجات دہندہ بنا کر پیش کیا، آج خود اپنی ہی ایجاد کردہ افراتفری کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں۔ لبرل طبقہ جو کل تک انسانی خود مختاری کے گیت گاتا تھا، آج مارکیٹس کے اتار چڑھاؤ پر دہائیاں دے رہا ہے۔ یہ منافقت کا عروج ہے کہ جس نظام نے انسان کو مشین بنا دیا، آج وہی نظام انسانیت کو تحفظ دینے میں ناکام ہے۔ مادی خداؤں کے پاؤں مٹی کے ثابت ہوئے ہیں، اور وہ عقل جس پر انہیں ناز تھا، آج بحران کی گرد میں گم ہو چکی ہے۔
اس پُر آشوب دور میں نجات کا راستہ صرف ایک ہے: ‘رجوع الی اللہ’۔ شور و غوغا سے بھرپور خبروں کے طوفان سے نکل کر اپنے ضمیر کی آواز سنیں اور الرزاق کی صفت پر کامل یقین پیدا کریں۔ ہم گھبراہٹ والی قوم نہیں، ہم وہ قوم ہیں جن کا ماضی معجزوں سے بھرا پڑا ہے۔ اگر ہماری نیتیں صاف، عمل خالص اور منصوبہ بندی حکمت پر مبنی ہے، تو یاد رکھیں کہ کائنات کا ذرہ ذرہ اللہ کے حکم کا پابند ہے۔ اپنی بنیاد درست کریں، صالحین کی صحبت اختیار کریں اور اپنی تدبیر کو اللہ کی تقدیر کے سپرد کر دیں۔ کامیابی مادی عروج میں نہیں، بلکہ اس اطمینانِ قلب میں ہے جو آخرت کی ابدی زندگی کا ضامن ہے۔
11 مارچ 2026ء