357

کس سے منصفی چاہیں

تحریر شئیر کریں

کس سے منصفی چاہیں؟سانحہ سیالکوٹ کےتناظر میں لکھی گئ دلگداز تحریر

جہاں ۔۔۔۔ جہالت کو مذہب ٹھرالیا جائے۔۔۔۔۔۔ وہاں شیطان کا جلوس رقص، سال بھر کا ثواب ۔۔۔۔۔۔ زنجیر زنی باعث جنت۔۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔۔۔ نعرہ بازی فتوی بن جایا کرتی ہے۔


سیال کوٹ۔۔۔۔ تو، تو اقبال جیسے دانش ور علامہ کا شہر تھا۔۔۔ ابراہیم میر جیسے عالم شہیر کا تو دیس تھا۔۔۔ تجھے کس کی آہ لگ گئی۔۔۔؟؟ تیرے شہر کے لوگ اتنے ظالم کیوں کر ہوگئے؟؟ ۔۔۔ ابھی کیا ہی سال گزرے ہیں ؟ کہ دو بھائیوں کو یونہی گھسیٹتے مارتے پھرے تھے تمہارے یہ عوام کالانعام ۔۔۔ درندے بنے یہ ظالم۔۔۔


یہ جاہل ۔۔۔ جن کو نماز تک پڑھنی نہیں آتی، ۔۔۔ یہ کند ذہن ۔۔۔ جن کو کلمہ طیبہ اپنے اصل اعراب و لہجہ میں پڑھنا نہیں آتا ،۔۔۔ یہ جاہل ۔۔۔یہ بے شعور لوگ مفتی کب سے بن گئے۔۔۔۔؟؟ یہ آقائے دوجہاں، نبی اخر الزماں صل اللہ علیہ وسلم کی اتباع و اطاعت میں سود چھوڑ نہیں سکتے، زبان و بیان کے زہرناک لہجے ترک نہیں کر سکتے۔۔۔ یہ حدیث کا ایک لفظ پڑھنا نہیں جانتے۔۔۔۔۔ وہ بھی محبت رسول کا دعوی کرے!!!! ۔۔۔ ہائے ستم ظریفو۔۔۔!! تمہیں کیا ہوگیا ہے۔۔۔ تم کس راہ پر چل پڑے۔۔۔؟؟؟


جس نبی علیہ السلام نے جلائے جانے کی سزا ۔۔۔۔ جرم کے ثبوت مل جانے کے بعد بھی دینے کی اجازت نہ دی ہو۔۔۔۔ تم نے محض نعرہ بازوں کے نعرے سن کر ۔۔۔۔ زندہ انسان کو رسوا کرکے ۔۔۔۔ جلا دیا ۔۔۔۔ کہاں گیا ہے وہ جذبہ محبت جو تمہیں دین کے علم کے لئے بھی یونہی نکال دے ۔۔۔ کبھی ، نبی محترم علیہ السلام کی حدیث سننے کے لئے بے تاب ہوئے تم؟؟؟۔۔۔۔


جب نہیں ۔۔۔۔ تو ۔۔۔ توہین کرنے والوں کو سزا کے استحقاق کا فتوی دینے کا اختیار بھی تمہارےپاس نہیں بلکہ علمائے دین مفتیان شرع متین کے پاس ہے۔۔۔ فقط ان کے پاس ۔۔۔ اور سزادینے کا اختیار صرف قانون کے پاس ۔۔

اہل اقتدار !!! نعرہ بازوں کو راضی رکھنے کے لئے جو عوامی مگر جاہلانہ طریقے تم اختیار کرتے ہو نا۔۔۔۔ یہ اسی سے شہ پاتے درندے ہیں۔ ۔۔۔۔
اگر جہالت نہیں مٹنے دو گے ، دین کے علوم کو حقیر جان کر حجرہ نشین بناتے جاو گے نا۔۔۔۔ تو تم انہیں جاہل وحشیوں کو مفتی ماننے پر مجبور ہوتے رہو گے۔۔۔۔
(🖌️ ڈاکٹر زاہدہ المسلمہ)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں