کشمیری آزادی کی تعبیر کے لیے کوشاں
آزادی کا خواب ہر بیدار آنکھ دیکھتی ہے۔۔کشمیر ی مسلمان پون صدی سے اس خواب کی تعبیر کے لیے کوشاں ہیں۔انکےعزائم روز روشن کی طرح عیاں ہیں۔انکے عزم اور جدوجہد کو بھارت کبھی دبا نہیں پایا اور نہ ہی دبا پاۓ گی۔وادی میں لاکھوں بچے روزانہ اس خواب کی تعبیر لے کر آنکھ کھولتے ہیں اور سر پہ کفن باندھے بچپن سے جوانی کا سفر طے کرتے ان کی آنکھیں ہر روز اس خواب کی تعبیر کے لیے جدوجہد کرتی ہیں۔خواب کا آنکھوں سے جو رشتہ ہے وہی رشتہ کشمیر کا آزادی سے ہے۔کشمیری قوم اس خواب کو لیے تیسری نسل پروان چڑھ رہی ہے۔انکی آنکھوں کے جلتے دیپ روشن سے روشن تر ہوتے جا رہے ہیں۔انکے شہیدوں کا لہو انکی مٹی میں جوں جوں سرایت کرتا جا رہا توں توں انکے خواب کی تعبیر کا وقت بھی کم ہوتا جا رہا۔
آزادی کا سپنا انکی حیاتی کا سپنا ہے۔جس کے لیے وہ اپنی جانیں اپنے سپوت اس مقصد کی۔نذر کر رہے ہیں۔اب تک لاکھوں نوجوان شہید ہوکر امر ہو چکے۔آج پھر سیاہ پٹیاں باندھے یہ قوم یوم سیاہ منا رہی ہے وادی میں مکمل ہڑتال ہے۔
کشمیری عورتیں بھی اس مقصد میں مردوں سے پیچھے نہیں۔وہ ہر روز لاشیں وصول کرتیں ہیں۔مگر انکی انکھوں کے جلتے دیے مایوسی کے نہیں روشنی کے ہیں جو یہ بتاتے ہیں کہ کشمیری مائیں دنیا کی بہادر ترین عورتیں ہیں جو اپنے بچے قربان کر کے اس مٹی سے رشتہ جوڑے ہوۓ ہیں۔
آج کا دن 27 اکتوبر 1947 ء کے اس غاصبانہ قبضہ کی یاد میں منایا جاتا ہے جب ہندوستان نے اپنی غاصبانہ فوجیں کشمیر میں اتاریں تھیں۔کشمیری قوم نہ کبھی بکی ہے نا بکے گی۔جن کے لیڈر علی رضا کیلانی ہوں وہ بھلا کیسے ہارے گی۔ہماری دعا ہے کشمیری مسلمانوں کی یہ جدوجہد آزادی اپنی تعبیر پالے اور آزادی کا سورج جلد طلوع ہو۔آمین
کشمیری آزادی کی تعبیر کے لیے کوشاں