251

کیا یہ رویہ قابل اصلاح نہیں؟

تحریر شئیر کریں

کیا یہ رویہ قابل اصلاح نہیں؟

سوچئے کبھی ایسا ہوا کہ ہمیں زکام لگا ہو اور ہم نے بورڈ کا پیپر مس کردیا ہو ۔حقیر سی دنیا کا ایک پیپر بے انتہا خراب طبیعت اور گھر میں کوئی بڑا سا مسئلہ بھی ہو جائیں تو نہیں چھوڑ پاتے۔لیکن چھوٹی سی تکلیف کے باعث بڑے بڑے نیک اعمال کرنا چھوڑ دیتے ہیں، کس قدر ہم لا پروا ہیں،نیکی کے معاملے میں ہم حریص رہے ہی نہیں ۔سر میں درد ہے نماز پڑھنا چھوڑ دیا ۔زکام ہے تو سجدہ نہیں ہوتا ۔تھکن ہوگئی تو نماز قضا کرلیتے ہیں۔نماز کی سنتیں جو مکمل کرنے پہ بدلے میں جنت کا ایک خوبصورت گھر دیتی ہیں،

ہلکی سی طبیعت خراب ہوجائے تو اسے چھوڑ کر اپنا ایک گھر ضائع کردیتے ہیں۔ایک عام سا گھر بناتے ہوئے 1 کڑور روپیہ درکار ہوتا ہے جنت کا گھر تو محل ہوگا ۔کتنے اربوں کھربوں کانقصان کرلیتے ہیں ہم…………….

کس قدر لا پروا ہیں ہم…..؟سست اور کاہل…………یا پھر ہمیں اللہ کی بات پہ یقین ہی نہیں……. ؟یا پھر ہمیں اجر کی امید ہی نہیں…………… ؟صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کا شوق تو ایسا تھا بڑی سی بڑی آفت، مصیبت اور تکلیف میں چھوٹا سا عمل بھی ضائع نہ ہونے دیتے ۔وہ کس قدر حریص تھے جنت کے……………

.ہم اپنی جنت کو خود سے بہت دور کرتے جارہے ہیں۔میں سوچ رہی تھی صحابہ اکرام رضی اللہ عنھم کی جنت کتنی بلند و بالا ہوگی ۔ایک دور تارے کی مانند……….اگر ہم جنت میں چلے بھی گئے، تو ان پہ صرف رشک ہی کر سکیں گے۔ہمارے عمل تو اس قابل ہے ہی نہیں کہ ان کے پڑوس میں کوئی گھر ہمیں مل جائے۔ہمیں موقع ملا ہے مگر ہم اس آخری چانس کو گنوا رہیں

…………..برف پگھلتی جارہی ہے، ہمیں اندازہ ہی نہیں……………ان الانسان لفی خسر الا الذین آمنوا وعملوالالصالحات وتواصوابالحق وتواصوابالصبر………سوچئے کبھی ایسا ہوا کہ ہمیں زکام لگا ہو اور ہم نے بورڈ کا پیپر مس کردیا ہو ۔حقیر سی دنیا کا ایک پیپر بے انتہا خراب طبیعت اور گھر میں کوئی بڑا سا مسئلہ بھی ہو جائیں تو نہیں چھوڑ پاتے۔لیکن چھوٹی سی تکلیف کے باعث بڑے بڑے نیک اعمال کرنا چھوڑ دیتے ہیں،

کس قدر ہم لا پروا ہیں،نیکی کے معاملے میں ہم حریص رہے ہی نہیں ۔سر میں درد ہے نماز پڑھنا چھوڑ دیا ۔زکام ہے تو سجدہ نہیں ہوتا ۔تھکن ہوگئی تو نماز قضا کرلیتے ہیں۔نماز کی سنتیں جو مکمل کرنے پہ بدلے میں جنت کا ایک خوبصورت گھر دیتی ہیں، ہلکی سی طبیعت خراب ہوجائے تو اسے چھوڑ کر اپنا ایک گھر ضائع کردیتے ہیں۔ایک عام سا گھر بناتے ہوئے 1 کڑور روپیہ درکار ہوتا ہے جنت کا گھر تو محل ہوگا ۔کتنے اربوں کھربوں کانقصان کرلیتے ہیں ہم…………….

کس قدر لا پروا ہیں ہم…..؟سست اور کاہل…………یا پھر ہمیں اللہ کی بات پہ یقین ہی نہیں……. ؟یا پھر ہمیں اجر کی امید ہی نہیں…………… ؟صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کا شوق تو ایسا تھا بڑی سی بڑی آفت، مصیبت اور تکلیف میں چھوٹا سا عمل بھی ضائع نہ ہونے دیتے ۔وہ کس قدر حریص تھے جنت کے…………….ہم اپنی جنت کو خود سے بہت دور کرتے جارہے ہیں۔میں سوچ رہی تھی صحابہ اکرام رضی اللہ عنھم کی جنت کتنی بلند و بالا ہوگی ۔ایک دور تارے کی مانند……….

اگر ہم جنت میں چلے بھی گئے، تو ان پہ صرف رشک ہی کر سکیں گے۔ہمارے عمل تو اس قابل ہے ہی نہیں کہ ان کے پڑوس میں کوئی گھر ہمیں مل جائے۔ہمیں موقع ملا ہے مگر ہم اس آخری چانس کو گنوا رہیں…………..برف پگھلتی جارہی ہے، ہمیں اندازہ ہی نہیں……………ان الانسان لفی خسر الا الذین آمنوا وعملوالالصالحات وتواصوابالحق وتواصوابالصبر………

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں