272

گردے خراب ہونے کی نشانیاں

تحریر شئیر کریں

“گردے خراب ہونے کی ایسی خاموش نشانیاں جن کے بارے میں جان کر آپ بڑے نقصان سے بچ سکتے ہیں”

—

گردے خراب ہونے کی ایسی خاموش نشانیاں جن کے بارے میں جان کر آپ بڑے نقصان سے بچ سکتے ہیں

گردے انسانی جسم کے وہ خاموش خادم ہیں جو دن رات خون کو صاف کرتے، فاسد مادوں کو نکالتے، اور جسم کے توازن کو قائم رکھتے ہیں۔ لیکن اکثر ان کی خرابی کی علامات اتنی خاموش اور معمولی ہوتی ہیں کہ انسان وقت پر سمجھ نہیں پاتا، اور جب پتہ چلتا ہے تو بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔

گردے کی بیماریوں کو “خاموش قاتل” کہا جاتا ہے کیونکہ ان کی ابتدائی علامات زیادہ واضح نہیں ہوتیں، مگر اندر ہی اندر جسم کو نقصان پہنچا رہی ہوتی ہیں۔ اگر آپ ان علامات کو بروقت پہچان لیں تو آپ گردوں کی بڑی بیماری سے بچ سکتے ہیں۔

پہلی خاموش علامت ہے پیشاب کی مقدار یا رنگ میں تبدیلی۔ اگر آپ کو معمول سے کم یا بہت زیادہ پیشاب آ رہا ہے، یا پیشاب کا رنگ گہرا، جھاگ دار یا بدبو دار ہو رہا ہے، تو یہ گردوں میں خرابی کی علامت ہو سکتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ گردے جسم سے فاضل مادے صحیح طریقے سے نہیں نکال پا رہے۔

دوسری اہم علامت ہے جسم میں سوجن۔ خاص طور پر آنکھوں کے نیچے، پاؤں یا ٹخنوں میں سوجن۔ جب گردے فاضل پانی نہیں نکال پاتے تو وہ جسم کے مختلف حصوں میں جمع ہونے لگتا ہے اور یہ سوجن کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔

ایک اور خاموش مگر خطرناک علامت ہے تھکن اور کمزوری۔ گردے خون کو صاف کرتے ہیں اور ایسے ہارمون پیدا کرتے ہیں جو خون میں آکسیجن لے جانے کی صلاحیت کو بڑھاتے ہیں۔ جب گردے خراب ہو جائیں تو یہ ہارمون کم ہو جاتے ہیں، جس سے انسان ہر وقت تھکا تھکا اور بےجان محسوس کرتا ہے۔

کھانے سے بھوک کا کم لگنا یا منہ کا ذائقہ کڑوا ہونا بھی ایک خاموش اشارہ ہو سکتا ہے۔ گردوں کی خرابی سے جسم میں زہریلے مادے جمع ہونے لگتے ہیں، جس سے منہ کا ذائقہ تبدیل ہو جاتا ہے، متلی محسوس ہوتی ہے، اور کھانے سے جی بھرنے لگتا ہے۔

خارش یا جلد پر خشکی بھی نظر انداز نہ کریں۔ یہ بھی گردوں کے ناقص کام کرنے کا نتیجہ ہو سکتا ہے کیونکہ جب فاسد مادے جسم میں جمع ہو جاتے ہیں تو وہ جلد پر بھی اثر ڈال سکتے ہیں۔

اگر نیند میں خلل آ رہا ہے یا سانس چڑھنے لگتی ہے تو اس پر بھی غور کریں۔ گردوں کی خرابی سے جسم میں پانی جمع ہو جاتا ہے جو پھیپھڑوں پر دباؤ ڈالتا ہے اور سانس لینے میں دشواری پیدا کرتا ہے۔

اکثر اوقات لوگ ان علامتوں کو معمول کی جسمانی تھکن یا وقتی بیماری سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، لیکن یہی لاپرواہی گردے فیل ہونے کا سبب بن سکتی ہے۔ اگر آپ کو ان میں سے کوئی علامت محسوس ہو رہی ہو تو فوراً کسی ماہر ڈاکٹر سے رجوع کریں، اور اپنے گردوں کا ٹیسٹ کرائیں۔

گردوں کی صحت کو برقرار رکھنے کے لیے پانی کا مناسب استعمال، کم نمک والی غذا، فاسٹ فوڈ سے پرہیز، اور باقاعدہ ورزش ضروری ہے۔ ہر چھ ماہ بعد بلڈ پریشر، شوگر اور یوریا کریاٹینن کے ٹیسٹ کروا لینا بھی فائدہ مند ہے۔

آخر میں ایک بات یاد رکھیں: گردے خاموش ہوتے ہیں، مگر جب وہ بولتے ہیں تو چیخ بن جاتے ہیں۔ اس چیخ سے پہلے ان کی سرگوشی سننا سیکھیں۔ کیونکہ جو وقت پر سن لے، وہ وقت کو بدل بھی سکتا ہے۔

—

گردے خراب ہونے کی خاموش نشانیاں جنہیں لوگ نظر انداز کر دیتے ہیں۔ پیشاب میں تبدیلی، سوجن، تھکن، بھوک کی کمی، اور نیند کی خرابی — ان علامات کو بروقت پہچان کر بڑے نقصان سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟ مکمل معلومات حاصل کریں

—

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں