380

ہم اور ہمارے موسی علیہ السلام

تحریر شئیر کریں

قسط 2 ہم اور ہمارے موسی علیہ السلام سیکھیں حکمت بھری باتیں سورہ کہف کی روشنی میں ڈاکٙر مریم خالد کے قلم سے

“سر آپ نے کل ایک شعر لکھوایا تھا۔”
“جی کون سا؟” استاد صاحب نے پوچھا۔
“اردو ہے جس کا نام ہمِیں جانتے ہیں داغ
یہ شعر میں نے ایک اور کتاب میں پڑھا تھا۔ وہاں اس کا دوسرا مصرع کچھ مختلف تھا۔”
بس میں نے یہی کہنے کی غلطی کی تھی۔ اگلے کتنے ہی لمحے مجھے اپنے اردو کے استاد صاحب کی انتہائی تند و تیز ڈانٹ اور نتیجاً دن کے کتنے ہی پہر اپنے آنسوؤں میں بھیگنا پڑا تھا۔ وہ مان ہی نہیں سکتے تھے کہ وہ اتنے بڑے استاد ہو کر کچھ غلط بھی کر سکتے ہیں۔ ممکن ہے وہ غلط ہوں بھی نہ۔ مگر جواباً ایسا رویہ مناسب نہ تھا۔
یونیورسٹی میں ایک سینیر قرآن کی کسی سورت پہ درس دے رہی تھیں۔
“باجی اس حدیث کا حوالہ بتا دیجیے گا۔” اختتام پہ میں نے ان کے پاس جا کے کہا۔

قسط ١ پڑھنے کے لیے کلک کریں

ہم اور ہمارے موسیٰ علیه السلام


“یہ ہمارے بڑوں نے پڑھائی ہے۔ یہی حوالہ ہے۔ چونکہ ہمارے بڑے کچھ غلط نہیں پڑھا سکتے تو ہم ان پہ سوال نہیں کر سکتے۔”
واقعی؟ میں انہیں حیرت سے دیکھتی رہ گئی۔ انسان کب سے غلطیوں سے ماورا ہونے لگ گئے؟
ہسپتال میں بھی کبھی ایسے مناظر بھی دیکھے کہ سینیر ڈاکٹر کو مریض کے اپنے تشخیص کردہ مرض پہ اصرار ہوا کرتا تھا۔ جونیر ڈاکٹر کی رائے اگر مختلف مگر درست ہوتی تو نتیجہ سبھی کو معلوم تھا۔ مریض کی صحت داؤ پر اور جونیر کی عزت بکاؤ ہوا کرتی۔
ہم بڑے اور تجربہ کار ہو جائیں تو ہم سے غلطی نہیں ہو سکتی۔ ہمیں یہ کیوں لگتا ہے؟
موسیٰ علیہ السلام سے ایک خطا ہوئی تھی۔ وہ اپنے علم کو نادانستہ الله کی طرف منسوب کرنا بھول گئے تھے۔ رب کو غصہ آیا تھا۔


الله نے موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی کہ میرے بندوں میں ایک بندہ تم سے زیادہ علم والا ہے۔ اور وہ فارس اور روم کے دو دریاؤں کے سنگم پہ ملے گا۔
موسیٰ علیہ السلام نے کیا کہا اس پہ؟
ہم ہوتے تو دانت بھینچتے کہ ہاں دیکھتا ہوں کوئی مجھ سے زیادہ ذہین کیسے ہو سکتا ہے؟ کسی کی مجال کہ مجھ سے آگے کھڑا ہو۔ مجھے کون غلط کہہ سکتا ہے؟ ہماری “عزتِ نفس” پہ کتنے ہی تیشے چل چکے ہوتے۔ انا کے دیو نجانے کتنا قد نکال چکے ہوتے۔ وہ آگ بڑھک چکی ہوتی جسے اربابِ دانش “حسد” کہتے ہیں۔
مگر ہمارے موسیٰ علیہ السلام نے فوراً الله سے پوچھا کہ میری اس سے ملنے کی سبیل کیا ہو؟
حکم آیا کہ ایک مچھلی ہمراہ رکھ لو، جہاں وہ گم ہو جائے وہیں وہ ملے گا۔


اور موسیٰ علیہ السلام واقعی مچھلی لے کر اپنے ساتھی کے ساتھ اس علم والے کی تلاش میں نکل گئے!
انہوں نے ایک لمحے کو بھی رک کر الله سے اس علم والے کی ڈگریاں نہیں پوچھیں۔ اس سے پوچھا ہی نہیں کہ کیا آپ نے اس کو بھی خود کلام کر کے علم سکھایا ہے؟ کیا اس پہ بھی کتاب اتاری ہے؟ آخر وہ مجھ سے بڑا ہے تو کیسے ہے؟ کیوں ہے؟
وہ موسیٰ علیہ السلام تھے۔ ہمارے موسیٰ!
وہ ہماری طرح نہ تھے۔ انہیں معلوم تھا کہ علم والے ہم نہیں، الله ہے۔ وہ اپنے خزانے سے جسے جتنا چاہے بانٹ دے۔ ہر دولت ہمیں نہ ملا کرتی۔ وہ جانتے تھے کہ انسان سے سہواً خطائیں ہونا ممکن ہے۔ بہت بار ہمارے علاوہ بھی بہت لوگ چشمۂ علم و حکمت سے بہت سیراب ہوتے ہیں۔ انہیں ماننا چاہیے۔ کسی کو بڑا مان لینے سے آپ کے مرتبے کم نہیں ہوتے۔


وہ موسیٰ علیہ السلام تھے۔ ہمارے موسیٰ!
وہ ہماری طرح نہ تھے۔ اپنی قوم کے پیغمبر و رہبر ہوتے ہوئے بھی وہ فوراً اس سے علم سیکھنے شاگرد بن کر چل نکلے۔ ہمیں بتا گئے کہ علم کا شناسا ہوتا کیا ہے۔ جو جہاں علم دیکھے، حاصل کرنے نکل جائے۔ اس کی راہ میں اپنا ہی خود ساختہ مجسمہ نہیں آتا۔ اپنی ہی انا اسے آگے بڑھنے سے نہیں روکتی۔
مومن موسیٰ علیہ السلام جیسا ہوا کرتا ہے۔ کسی کو کسی بھی چیز میں خود سے آگے دیکھے تو اسے دل سے بڑا مان لیتا ہے۔ اس کی قدر دل میں بسا لیتا ہے۔ اس کے ہنر، لیاقت اور صلاحیت کو چُرانے کی نہیں، سیکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ خود چل کے اس کی طرف جاتا ہے۔
یہی دنیا کے عظیم انسانوں کا طریق ہے۔ جیسے موسیٰ علیہ السلام تھے۔ ہمارے موسیٰ! ❤

بحوالہ: صحیح بخاری

ڈاکٹر مریم خالد

طائرِحرم

ہم اور ہمارے موسی علیہ السلام

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں