403

ہم کم ظرف اور بزدل

تحریر شئیر کریں


اسامہ خاں

ہم میں سے ہر وه انسان کم ظرف اور بزدل ہے جو کہ ظلم کے خلاف لڑتا نہیں ۔ بچوں اور خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے زمہ دار کہیں نہ کہیں ہم سب خود ہیں کیونکہ ہم ہر واقعے کے بعد صرف آنسووں بہاتے ہیں ،سوشل سائٹس پر بھڑکیں مارتے ہیں اور چند دنوں کے بعد خاموشی اختیار کر لیتے ہیں ۔ہمارے نام نہاد حکمران بھی خواب خرگوش کے مزے لیتے ہیں کہ عوام چپ ہے تو ہم کچھ کیوں کریں ؟اس سب کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وه وحشی درندے ہماری خاموشی اور اس کمزوری کا فائدہ اٹھا کر مزید غلط حرکات کرتے ہیں ۔مجھے اپنے بڑوں پر غصہ آتا ہے کہ وه کیوں چپ رہتے ہیں ؟اصل میں ہر انسان صرف اس وقت تک چپ رہتا ہے کہ جب تک اس کے ساتھ ظلم نہ ہو جاۓ ۔دوسروں پر ہونے والے ظلم پر سب خاموش رہتے ہیں ،پھر اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں اور جب ان کے ساتھ ظلم ہو تو دوسرے تماشہ دیکھتے ہیں ۔اس سب نے مزید خوف و ڈر طاری کر دیا ہے ۔میری ایک کلاس فیلو کے ساتھ راولاکوٹ میں ایک شفٹ کی گاڑی والے نے جنسی زیادتی کی تو یہ سن کر مجھ پر قیامت سی ٹوٹ پڑی ۔میں ان سے ملا تو نہ چاہتے ہوے بھی میں زار و قطار رونے لگا اور میں نے پوچھا کہ آپ نے پولیس میں رپورٹ درج کیوں نہیں کروائی ؟وه کہنے لگی کہ وہاں سے بھلا آج تک کسی کو انصاف ملا ہے کیا ؟مجھے اپنی عزت کا خیال ہے اور میں معاشرے کے طنعوں سے بچ کر جینا چاہتی ہوں ۔وه لڑکی بہادر تھی مگر کچھ تو موقع پر ہی خود کی جان لے لیتی ہیں یا پھر دوسروں کے طعنے سن کر نیم مردہ حالت میں اپنی زندگی بسر کرتی ہیں ۔اس سب کے قصور وار بھی ہم ہیں کیونکہ اگر ہم ایک واقعے کے بعد سڑکوں پر نکلتے اور مجرموں کو سزا دلواتے تو آج اتنے سارے واقعات نہ ہوتے لیکن یہاں تو ہر کسی کو اپنی باری کا انتظار ہے ۔اگر واقعہ ہوتا بھی تو کم از کم کسی کو رپورٹ لکھوانے میں ڈر محسوس نہ ہوتا ۔میں کل کچھ خواتین کا انٹرویو سن رہا تھا تو وه کہہ رہی تھیں کہ ہم اللہ‎ سے دعا مانگتی ہیں کہ ہمیں بیٹا نہ دینا تاکہ اس سے کسی کی بیٹی کو کوئی خطرہ نہ ہو ۔میں نے اس حوالے سے اپنے دوستوں سے بھی بات کی مگر سب بزدل نکلے اور میں نے ایسے بزدلوں سے دوستی توڑ دی جو کہ ظلم کے خلاف کھڑے نہیں ہو سکتے وه دوستی کے لائق نہیں ۔دور حاضر کی ایک مشہور شاعرہ مردوں کو برا بھلا کہہ رہی تھی اور ان کی تائید دیگر خواتین کر رہی تھی ۔مجھے بھی شروع میں مرد نام سے گھن ہونے لگی تھی لیکن پھر سوچا کہ ہمارے نبی بھی تو مرد تھے اور کتنے ولی اللہ‎ اب بھی موجود ہیں ۔اپنی بیٹیوں سے گزارش کرتا ہوں کہ خدا راہ بچوں کے دلوں میں مردوں کے لیے نفرت نہ پیدا کریں کیونکہ ہر مرد وحشی نہیں ہوتا ۔اب بھی دیر نہیں ہوئی اگر ہم سب کوشش کریں ،ہر بیٹی کو اپنی بیٹی سمجھ کر اس کے حقوق کے لڑیں اور مجرمان کو سزا دلوائیں تو یہ سب کچھ رک سکتا ہے ۔پھر کسی میں ہمت نہیں پیدا ہو گئی کہ وه کسی کی بیٹی کی طرف بری نظر سے بھی دیکھے ۔اگر پہلے سانحے سے ہی مجرموں کو سزا دے دی جاتی تو آج حالات یکسر مختلف ہوتے ۔اگر اب ہم نے مجرموں کو سزا نہ دلوائی تو میری بات یاد رکھئیے گا کہ کچھ عرصہ بعد ایسے واقعات معمول بن جائیں گے پھر کوئی بیٹی محفوظ نہیں رہے گئی ،معصومیت ختم ہو جاۓ گئی اور اس سب کے زمہ دار ہم ہو گے ۔چلیں ہم وعدہ کرتے ہیں کہ ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں گے اور ظالموں کو سزا دلوا کر ہی دم لیں گے ۔آپ کوشش کریں گے ناں ؟
حمزہ رائٹس

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں