493

۔۔۔میرا تعارف۔۔۔

تحریر شئیر کریں


✍️⁩: محمد قاسم راجہ

کیا تعارف صرف نام و نسب پر ہی محیط ہے؟؟؟ اگر ہاں تو لیجئے میرا نام محمد قاسم راجہ ہے۔ میرے ماں باپ، عزیز و اقارب اور یار احباب مجھے اسی نام سے جانتے، پہچانتے ہیں۔
میرا نام میرے ماضی، حال ، مستقبل، اچھی و بری یادیں، کامیابی اور ناکامی میں برابر کا حصہ دار ہے؛ دُنیاۓ فانی میں مجھے روزِ اوّل سے اسی نام کے ساتھ پُکارا گیا؛
یوں میرے وجود کو اِک شناخت بخشی گئ جسے میں نے مکمل حواس، جانچ، پرکھ کے بعد بخوشی قبول کیا۔۔۔
محترم قارئین! آپ کا شعور شاید مجھے کئ اعزازی القابات سے نواز چُکا ہو کہ لکھنے والے کا قلم، اپنے تعارف( جو کہ حضرتِ انسان کی منظر کشی کرتا ہے) لکھتے ہوۓ بھی آئیں بائیں شائیں میں بھٹک کر رہ گیا۔۔
جی ہاں۔۔! آپ کے سوالات، القابات اپنی جگہ بجانب ہیں۔ میرا قلم الفاظ کو حُسن ِسچ کی سیاہی سے زیب پا کرتا ہے۔
آخر کیوں مجھے اپنا تعارف اس قدر معیوب معلوم لگا جو لکھنے سے قاصر رہ گیا یقیناً اس ادنیٰ سی کوشش کو پڑھنے کے بعد آپ احباب اور بالخصوص میرے جموں و کشمیر کے بھولے باشندے اپنے وجود اور شناخت کی پرکھ ضرور کرنا چاہیں گے۔
قارئین! نام و نسب آپ کی بصارتوں کی نظر ہو چکا اب میرا قلمِ نادم اس حقیقت کی طرف آپ کی توجہ دِلانا چاہتا ہے، جسے آپ اور میں کئ دھائیوں سے سب کچھ جانتے ہوۓ بھی جان بوجھ کے انجان بنے بیٹھے ہیں اور اپنی آنکھوں کے سامنے ایسے منظر کھینچ چُکے ہیں کہ اس کی دوسری جانب دیکھنا جرم سمجھتے ہیں۔ وہ ایسا حقیقی منظر ہے جسے دیکھ کر میرا ہر ہم وطن خود کو مفلوج، اپاہج، مجبور اور بے بس سمجھتا ہے؛
میرے کشمیریو! پاک و ہند کے راگ الپنے والو! ہمارا تعارف نام و نسب تک ہی محدود ہے۔
کرہ ارض پر پھیلے ہوۓ 195ممالک میں میرے کشمیر جنت نظیر کا نام موجود تک نہیں، وہ کشمیر جو دنیا کے 49 ممالک سے رقبے کے لحاظ سے بڑا ہے، وہ کشمیر جہاں شرح خواندگی ایشیاء کے بیشتر ممالک سے بہتر ہے، وہ کشمیر جو قدرتی حُسن اور وسائل سے مالامال ہے، وہ کشمیر جہاں کے باسی سخت جان اور جنگجو ہیں، وہ کشمیر جو ایشیاء کے امن کا ضامن ہے، وہ کشمیر جو قریباً چھ ہزار سالہ ریاستی تشخص، شناخت اور وقار رکھتا ہے،وہ کشمیر جو تقسیم ہند کے وقت سب سے بڑی ریاست اور مسلمانوں کی آماجگاہ رہی ہے۔
محترم قارئین! تاریخ سے آپ بخوبی واقف ہیں۔ نا چیز آپ کی نظر ان وجوہات کی طرف مبذول کروانا چاہتا ہے جن کی بِنا پر سارے ہم وطن اپنے تعارفی نقش آویزاں نہ کر سکے؛
چھ ہزار برس سے خطہ جموں کشمیر مختلف ادوار ، حالات و واقعات اور کئی نشیب و فراز سے گزرا؛ آج ہم ان چند حقائق کو کُریدنے کی جسارت کرینگے٫
جو ہمارے نا مکمل تعارف کا سبب ہیں۔
میں اس ریاست کا باشندہ ہوں جس کا دنیا کے نقشے پر کوئ وجود نہیں؛ کرہ ارض پر بسنے والےڈیڑھ ارب انسانوں میں نصف سے زیادہ لوگ خطہ جموں و کشمیر کے جغرافیہ اور تشخص سے نا واقف ہیں.
انتہائ ندامت کے ساتھ عرض کر رہا ہوں کہ اس نا مکمل تعارف کی وجہ, بد قسمتی سے آپ اور میں خود ہیں، وہ روح جس کی بنیاد پر کوئ بھی قوم اپنا وجود برقرار رکھ سکتی ہے وہ مذہبی روح ہے؛ الیکٹرانک اور پِرنٹ میڈیا بے شک شب و روز ولڈ آرڈر کو پوجا کے لائق بُت ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہیں لیکن! آپ ولڈ آرڈر کی اساس کا مطالعہ فرما لیں اس کے پیچھے بھی حقیقتاً٫ واقعتاً مذہبی روح ہی ہے: اور رہی بات ریاست جموں کشمیر کی تو یہ خطہ ارضی مسلم امت کی اکثریت سے مزین ہے، اس خطے کی ناکامی، معذوری، اور بے بسی کا واحد سبب مذہبی روح سے دوری ہے؛
عزیزم قارئین! ہماری بقا اور تشخص پر سب سے بد نما داغ مذہبی روح سے دوری اور اس ولڈ آرڈر کے کھیل میں اپنی جدوجہد کو قومیت، لسانیت اور گروہ در گروہ تقسیم کرنا ہے.
ریاست ہاۓ جموں و کشمیر کے تمام انسان آزادئ راۓ کا حق رکھتے ہیں؛ اس خطے پر بسنے والے تمام انسانوں کی آزادی پاک و ہند کے ساتھ مشروط نہیں ہے, ہم صدیوں سے اپنا ایک الگ وجود اور تشخص رکھتے ہیں۔ ضرورت ہے تو صرف اس بات کی کہ آزادی کی اس جدوجہد کو تمام بُتوں سے پاک کر کے حقیقی اور پاکیزہ اساس “کلمہ طیبہ” کو تھاما جاۓ؛
گزشتہ تہتر سالوں میں ہماری بیش بہا قربانیوں کے باوجود ہم آزادی جیسی نعمت سے محروم رہے؛ اگر ہم پاکیزہ مذہبی روح کو اخلاص کے ساتھ تھام لیں گے تو ان شاء اللّٰه ان شاء اللّٰه نصف سے بھی قلیل عرصے میں رب تعالیٰ کی مددونصرت کے ساتھ آزادی ہمارا مقدر ہو گی؛
پھر اللّٰه کے حکم سے” اسلامی ریاست جموں و کشمیر” نہ صرف مسلم امت کے لیے عدل و انصاف کی علمبردار ہو گی، بلکہ ان شاء اللّٰه۔۔۔ باری تعالیٰ کے فضل سے تمام انسانیت کے حقوق کی حقیقی محافظ ہو گی۔
واللّٰه اعلم بالصواب
⁦

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں