569

اصل چٹنی بھوک ہے

تحریر شئیر کریں

بھوک لگنی کیوں ضروری ہے؟

اصل چٹنی بھوک ہے یہ وہ راز جسے کھوجنے کی ضرورت ہے۔
سالوں پہلے کی بات ہے میں ایم اے کی طالبہ تھی۔یونیورسٹی میں ہمارے ایک پروفیسر تھے جو اس سے پہلے اکسفورڈ اور دیگر مشہور یونیورسٹیوں میں بھی تدریس کے فرائض سرانجام دے چکے تھے۔بہت سی زبانوں پہ عبور رکھتے تھے۔ہمیں وہ ہسٹری پڑھایا کرتے تھے ایک دن دوران کلاس سوال۔پوچھا۔۔کہتے بتاؤ اصل چٹنی کیا ہے؟کسی نے کہا ذائقہ کسی نے کچھ اور ۔۔۔مگر اصل تہہ تک کوئی نا پہنچ سکا۔جواب دینے کے لیے خود ہی بولے کہ ْاصل چٹنی بھوک ہے۔جب تک آپ کو بھوک نہیں لگے گی۔آپ کبھی کھانا انجواے نہیں کر سکتے۔بات تو واقعتا کمال تھی۔جب بھوک ختم ہو جاتی تو مزیدار سے مزیدار کھانے سے بھی دل اچاٹ ہو جاتا ہے۔

بھوک کیوں لگتی ہے؟کب لگتی ہے؟یہ جاننے کی بہت ضرورت ہے۔بیس موٹے لوگوں پہ ریسرچ کی گی ۔وجہ یہ سامنے آئی کہ ان میں سے زیادہ تر لوگوں کو جب پیاس لگتی ہے تو یہ بھوک سمجھ کر کھا لیتے ہیں۔جس سے موٹاپا پیدا ہو رہا ہے۔لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ بھوک اور پیاس میں تمیز کرنا سیکھی جاۓ۔
ایک چیز اور پیٹ بھرا ہوا ہونا اور بات اور بھوک ہونا اور بات ۔۔بعض لوگ بہت کھاتے مگر بھوک نہیں مٹتی۔۔۔اور بعض لوگ تھوڑا کھا کر بھی سیر ہو جاتے ہیں۔یہ راز ہے جسے جاننے کی ضرورت ہے۔حلال اور طیب کھانے سے بھوک مٹتی ہے۔جبکہ حرام اور ناجائز کی کمائی کے کھانے سے بھوک بڑھتی چلی جاتی ہے۔اس کا ایک میڈیکل اثر یہ بھی ہے۔کہ بھوک تب لگتی ہے جب ہمارے جسم میں کسی چیز کی کمی ہو رہی ہوتی ہے۔جب تک متوازن غذا نا کھائی جاۓ تب تک وہ کمی پوری نہیں ہوتی۔اور بھوک نہیں مٹتی۔۔جب بھوک نہیں مٹتی تو ہم ہر الم غلم کھاتے رہتے۔۔۔۔جو موٹاپے کا سبب بن رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

بچے کھانا کیوں نہیں کھاتے؟

16 اکتوبر بھوک کا عالمی دن


میڈیکل سائنس یہ بھی کہتی ہے کہ ہم جو کھاتے ہیں اسے چار گھنٹے لگتے ہضم ہونے میں۔۔جبکہ اگر ہم ان چار گھنٹوں کے درمیان کچھ کھا لیتے ہیں تو معدہ پچھلا کھانا ضائع کر کے نۓ سرے سے ہضم کا میکنزم شروع کر دیتا ہے۔اس لیے سواۓ پانی کے ان چار گھنٹوں کے درمیان کچھ نہیں کھانا چاہیے۔

شریعت اسلام کا فارمولا سب سے الگ اور جدا ہے۔وہ یہ کہتی کہ جب بھوک لگے تب کھاؤ نہیں تو مت کھاؤ۔ہم نے تین ٹائم تقسیم کر کے کھانے کا وقت بنایا ہوا ہے۔کہ بھوک ہے یا نہیں بس کھانے کا وقت ہوگیا سو کھاو۔۔ جسم کو ضرورت ہے یا نہیں اس کی چنداں فکر نہیں۔حالانکہ اصل چٹنی بھوک ہے۔جوں جوں کھانے کی مقدار بڑھتی جا رہی تو ں توں ذائقہ کم ہوتا جارہا۔۔۔اور اس ذائقے کاسبب بننے والے عوامل کو دور کرنے کی بجاۓ ہم اور کھاتے اور کھاتے چلے جاتے ہیں اور گوشت کا پہاڑ بن جاتے ہیں۔
سائنس کہتی ہے ہمارے دماغ میں بھوک اور سیر ہونے کی انڈیکشن کرنے والا حصہ وقت۔کے ساتھ ساتھ بڑھتا ہے۔ایک ریسرچ ہے کہ جو بچے ماں کا دودھ پیتے انکے دماغ کا یہ حصہ بڑھتا ہے۔جبکہ جو بچے فیڈر پیتے ان کا یہ حصہ ڈویلپ نہیں ہوتا۔اس لیے فیڈر والے بچے پیتے چلے جاتے۔۔اور موٹاپے کاسبب بنتے ہیں۔

بھوک لگنے کے لیے ضروری ہے ک کم کھایا جاے اور متوازن یاور معیاری کھاناکھایا جاے تاکہ وہ۔ہمارے بدن کا۔حصہ بن کر توانائی مہیا کرسکے۔ اس مقصد کے لیے کھانے کھاتے ہوے کچھ احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں۔مثلا

کھانا خاموشی سے اار چبا چبا کر کھایا جاۓ۔

رب تعالی عمل کی توفیق عطا فرماۓ۔ آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں