پیارے بچو! ہم نے ایمان کی پانچ صفات سیکھ لیں۔ آج ہم ایمان کی آخری اور بہت اہم صفت کے بارے میں بات کریں گے: تقدیر پر ایمان۔
تقدیر پر ایمان کا مطلب ہے یہ یقین رکھنا کہ دنیا میں جو کچھ بھی ہوتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے علم، حکمت اور بہترین فیصلے سے ہوتا ہے۔
1. تقدیر کیا ہے؟ (ایک دلچسپ مثال)
فرض کریں آپ ایک بہت بڑی پزل (Puzzle) جوڑ رہے ہیں۔ آپ کو صرف ایک ٹکڑا نظر آ رہا ہے اور آپ پریشان ہیں کہ یہ کہاں لگے گا۔
لیکن جس نے وہ پزل بنائی ہے، اسے پوری تصویر نظر آ رہی ہے۔
بالکل اسی طرح، ہماری زندگی بھی ایک بڑی تصویر کی طرح ہے۔ ہمیں صرف آج نظر آتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ کو ہمارا کل بھی معلوم ہے۔
2. اچھی اور بری تقدیر (دو مختلف رنگ)
جب سب اچھا ہو (شکر):
اگر آپ کو سالگرہ پر پسندیدہ تحفہ ملا یا آپ ریس میں اول آئے تو فوراً کہیں: الحمدللہ۔
جب کچھ برا لگے (صبر):
اگر کھلونا ٹوٹ جائے یا آپ بیمار ہو جائیں تو شکایت کے بجائے یہ سوچیں:
“اللہ نے میرے لیے یہی طے کیا تھا، اور اس میں ضرور کوئی بہتری ہوگی”۔
اس وقت کہیں: قدر اللہ و ماشاء فعل
3. دعا اور کوشش (ہمارا کام)
کچھ بچے سوچتے ہیں: “اگر سب کچھ پہلے سے لکھا ہے تو ہم محنت کیوں کریں؟”
اللہ تعالیٰ نے کامیابی کو محنت کے راستے سے جوڑ دیا ہے۔
جیسے بھوک مٹانا تقدیر میں ہے، لیکن کھانا کھانا ہماری کوشش ہے۔
اور دعا وہ خاص چابی ہے جو تقدیر کے بند دروازے بھی کھول دیتی ہے۔
Activity Idea: اللہ کا پلان سب سے اچھا ہے
ایک دفعہ ایک بادشاہ کی انگلی کٹ گئی۔ اس کے وزیر نے کہا:
“اسی میں اللہ کی بہتری ہوگی”۔
بادشاہ کو غصہ آیا اور اس نے وزیر کو جیل میں ڈال دیا۔ کچھ دن بعد بادشاہ شکار پر گیا جہاں کچھ لوگ اسے قربان کرنے لگے، مگر کٹی ہوئی انگلی دیکھ کر اسے چھوڑ دیا۔
بادشاہ کو سمجھ آ گیا کہ انگلی کا کٹنا اسے موت سے بچانے کے لیے تھا۔ وزیر نے کہا:
“میرا جیل جانا بھی اچھا تھا، ورنہ میری قربانی ہو جاتی”۔
Journaling Corner: میرا اللہ پر بھروسہ
جب مجھے کوئی خوشی ملتی ہے تو میں کہتی ہوں: _____________
ایک ایسی بات جو پہلے بری لگی مگر بعد میں فائدہ ہوا: _____________
میرا عزم: میں ہر حال میں اللہ کے فیصلے پر خوش رہوں گی کیونکہ وہ میرا بہترین دوست ہے۔
Conclusion
پیارے بچو! تقدیر پر ایمان ہمیں سکون، صبر اور اللہ پر بھروسہ سکھاتا ہے۔
اللہ کا ہر فیصلہ ہمارے لیے بہترین ہوتا ہے، چاہے ہمیں ابھی سمجھ نہ آئے۔