122

ای بک علامہ محمد اقبال اور اے آئی باب پانچواں

تحریر شئیر کریں

ای بک علامہ محمد اقبال اور اے آئی باب پانچواں

باب : دشمن کی پہچان اور ٹیکنالوجی کا فتنہ:

اقبالؒ اور اے آئی کا تناظر

: ازلی کشمکش اور جدید لبادہ
کائنات کی تخلیق کے ساتھ ہی حق اور باطل کی وہ جنگ شروع ہوگئی تھی جس کا پہلا مورچہ آسمان تھا اور پہلا دشمن ‘ابلیس’۔ انسانی تاریخ شاہد ہے کہ دشمن کبھی نہیں بدلا، صرف اس کے ہتھیار اور طریقہٴ واردات بدلے ہیں۔ علامہ اقبالؒ نے اپنی شاہکار نظم “ابلیس کی مجلسِ شوریٰ” میں اس حقیقت کو بے نقاب کیا کہ ابلیس کو کسی مادی قوت سے ڈر نہیں لگتا، اسے ڈر ہے تو صرف ‘امتِ مسلمہ کے اس بیدار جذبوں’ سے جو اسے دوبارہ دنیا کی امامت پر فائز کر سکتے ہیں۔

آج کے دور میں ‘اے آئی’ (Artificial Intelligence) اور ڈیجیٹل یلغار دراصل اسی قدیم دشمن کا جدید ترین ہتھیار ہے، جس کا مقصد انسان کو اس کی “خودی” سے محروم کر کے ایک مشینی پرزہ بنانا ہے۔

۱. دشمن کی شناخت: ابلیس سے الگورتھم تک

تاریخ کے ہر موڑ پر دشمن نے وہی آلہ چنا جو اس وقت کے انسان کی کمزوری تھا۔ کبھی وہ فرعون کی خدائی بن کر ابھرا تو کبھی نمرود کی آگ بن کر۔ آج وہ “ڈیجیٹل سامراج” بن کر ابھرا ہے۔

ڈاکٹر جاوید اقبال اپنی کتاب “زندہ رود” میں علامہ کے فکر کو واضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ

اقبال کے نزدیک مغرب کی مادی ترقی میں روح کی غیر موجودگی ہی وہ شیطانی پہلو ہے جو انسانیت کو تباہ کر رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) اگرچہ بظاہر ایک سہولت ہے، لیکن اس کے پسِ پردہ وہ “عقلِ عیار” چھپی ہے جو انسان کو اللہ کی یاد سے غافل کر کے اسکرین کا قیدی بنا دیتی ہے۔

اقبالؒ فرماتے ہیں:

> ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت
> احساسِ مروت کو کچل دیتے ہیں آلات
>
یہاں ‘آلات’ سے مراد ہر وہ ٹیکنالوجی ہے جو انسان کو ہمدردی، حیا اور تعلق باللہ سے دور کر دے۔ آج کا دشمن ہمیں یہ باور کروا رہا ہے کہ اے آئی آپ کی جگہ سوچ سکتی ہے، آپ کی جگہ لکھ سکتی ہے اور آپ کے جذبات کا فیصلہ کر سکتی ہے۔ یہ دراصل “خودی” کا قتلِ عمد ہے۔

۲. عقلِ عیار اور اے آئی (ایک فکری تجزیہ)

علامہ اقبالؒ کی کتاب “تشکیلِ جدید الٰہیاتِ اسلامیہ” (The Reconstruction of Religious Thought in Islam) میں وہ عقل اور وجدان کے تعلق پر بحث کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ “عقل وہ چراغ ہے جو راستہ دکھاتا ہے، لیکن منزل تک صرف وہ جذبہ لے جاتا ہے جسے عشق کہتے ہیں۔”

مصنوعی ذہانت عقلِ عیار کی انتہا ہے۔ یہ آپ کو ڈیٹا تو دے سکتی ہے، مگر ‘دردِ دل’ نہیں دے سکتی۔ دشمن کا موجودہ حربہ یہ ہے کہ وہ اے آئی کے ذریعے انسان کو اس وہم میں مبتلا کر دے کہ وہ “خدا” (نعوذ باللہ) بننے کے قریب ہے۔ ٹرانس ہیومنزم (Transhumanism) جیسی تحریکیں، جو اے آئی کو انسانی بقا کا واحد راستہ قرار دیتی ہیں، دراصل اسی ابلیسی سوچ کا تسلسل ہیں جس نے آدمؑ کو ‘شجرِ ممنوعہ’ کی طرف راغب کرتے ہوئے ‘خلود’ (ہمیشہ کی زندگی) کا جھوٹا وعدہ کیا تھا۔

۳. کامیابیِ آخرت اور ڈیجیٹل فتنہ

آپ کی کتاب کا مرکزی نکتہ “کامیابیِ آخرت” ہے۔ اس تناظر میں ٹیکنالوجی ایک دو دھاری تلوار ہے۔
* دشمن کا ہدف: آپ کو سکرین میں اتنا الجھا دینا کہ نماز، تلاوت اور ذکرِ الٰہی کے لیے وقت نہ بچے۔
* اقبالؒ کا حل: ٹیکنالوجی کو مسخر کرنا، نہ کہ اس سے مسخر ہونا۔
سیّد ابوالاعلیٰ مودودیؒ اپنی کتاب “تجدید و احیائے دین” میں لکھتے ہیں کہ دورِ جدید کے فتنے اتنے لطیف ہوں گے کہ وہ دین کے لبادے میں آئیں گے۔ آج اے آئی ہمیں مذہب کی تبلیغ کے نام پر بھی سکرین کا عادی بنا رہی ہے، جبکہ روحانیت “خلوت” (Isolation for God) کی متقاضی ہے۔ کامیابیِ آخرت اس میں ہے کہ ہم اے آئی کو دنیاوی کاموں کی تیزی کے لیے استعمال کریں تاکہ ہم عبادت اور آخرت کی تیاری کے لیے وقت (Time Management) نکال سکیں۔

۴. سکرین مینجمنٹ: دشمن کے وار سے بچاؤ

دشمن جانتا ہے کہ اگر اس نے انسان کی “نظر” پر قبضہ کر لیا تو “دل” خود بخود قابو میں آجائے گا۔ سکرین مینجمنٹ صرف وقت بچانا نہیں ہے، بلکہ یہ اپنے ایمان کی حفاظت ہے۔
مستنصر حسین تارڑ نے اپنے سفرناموں میں کئی جگہ ذکر کیا ہے کہ جدید انسان مناظر کو آنکھ سے دیکھنے کے بجائے کیمرے کی آنکھ سے دیکھتا ہے۔ یہ مشینی زندگی انسان کو احساس سے عاری کر رہی ہے۔ اقبالؒ کا شاہین آسمانوں کی وسعتوں میں پرواز کرتا ہے، وہ ایک چھوٹی سی سکرین کے پنجرے میں قید ہونے کے لیے نہیں بنا۔

۵. دشمن کے آلات کو پہچاننے کا طریقہ

ہمیں اس دور میں “بصیرت” کی ضرورت ہے۔ بصیرت کا مطلب ہے دشمن کے وار کو اس کے ہونے سے پہلے پہچان لینا۔
* اگر اے آئی آپ کو کاہل بنا رہی ہے، تو یہ دشمن کا حملہ ہے۔
* اگر الگورتھم آپ کو ایسی چیزیں دکھا رہا ہے جو حیا کے خلاف ہیں، تو یہ ابلیسی جال ہے۔
* اگر آپ کا فون آپ کے اور آپ کے رب کے درمیان حائل ہو رہا ہے، تو آپ جنگ ہار رہے ہیں۔
اقبالؒ کا یہ شعر اس صورتحال کی مکمل عکاسی کرتا ہے:
> یورپ کی غلامی پہ رضامند ہوا تو
> مجھ کو تو گلہ تجھ سے ہے، یورپ سے نہیں ہے
>
آج ہم “الگورتھم کی غلامی” پر رضامند ہو چکے ہیں۔ ہم وہ دیکھتے ہیں جو یوٹیوب دکھاتا ہے، ہم وہ سوچتے ہیں جو اے آئی چیٹ بوٹس ہمیں بتاتے ہیں۔ دشمن کا کام دھوکہ دینا ہے، لیکن مومن کا کام اس دھوکے سے بچنا ہے۔

حرف آخر

اس چھٹے باب کا لبِ لباب یہ ہے کہ اے آئی اور ٹیکنالوجی بذاتِ خود شر نہیں ہیں، شر وہ “مقصد” ہے جس کے لیے دشمن اسے استعمال کر رہا ہے۔ ہمیں اے آئی سے ڈرنا نہیں ہے، بلکہ اسے اس طرح استعمال کرنا ہے کہ یہ ہماری آخرت کی کامیابی میں معاون بنے۔
کامیابی اس میں ہے کہ:
* وقت کو اے آئی کے ذریعے بچایا جائے، ضائع نہ کیا جائے۔
* علم کو تحقیق کے لیے استعمال کیا جائے، نہ کہ کاپی پیسٹ کر کے اپنی ذہنی صلاحیتیں ختم کی جائیں۔
* دل کو ہمیشہ اللہ کے ساتھ جوڑ کر رکھا جائے، چاہے ہاتھ میں جدید ترین سکرین ہی کیوں نہ ہو۔
حکیم الامت کا پیغام آج بھی وہی ہے:
> اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی
> تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن، اپنا تو بن
>
اگر آپ اپنی خودی پہچان لیں گے، تو دنیا کی کوئی بھی مصنوعی ذہانت آپ کو اپنا غلام نہیں بنا سکے گی۔ دشمن کا ہر آلہ آپ کے قدموں کی دھول بن جائے گا اور کامیابی دنیا میں بھی آپ کی ہوگی اور آخرت میں بھی۔

ای بک علامہ محمد اقبال اور اے آئی باب پنجم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں