103

ای بک علامہ محمد اقبال اور اے آئی باب چہارم

تحریر شئیر کریں

انسانی تاریخ میں ہر دور کا اپنا ایک ‘جادو’ رہا ہے جس نے انسانوں کے ذہنوں کو مسخر کیا۔ کبھی یہ جادو فرعون کے ساحروں کے پاس تھا، کبھی یہ صنعتی انقلاب کی صورت میں ظاہر ہوا، اور آج یہ جادو مصنوعی ذہانت (AI) اور ڈیجیٹل الگورتھمز کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ علامہ اقبال کا شاہین وہ نہیں جو اس جادو سے ڈر کر پہاڑوں کی غاروں میں چھپ جائے، بلکہ وہ ہے جو اس جادو کو ‘عصائے کلیم’ سے توڑ کر اس پر اپنی حاکمیت قائم کرے۔

اقبال نے فرمایا تھا کہ “عقل” ایک تازیانہ ہے جو انسان کو کائنات کی تسخیر پر اکساتا ہے۔ آج کے دور میں وہ تازیانہ ڈیجیٹل علوم ہیں۔ ہمیں ان کے ہاتھوں تسخیر نہیں ہونا، بلکہ انہیں اپنا خادم بنانا ہے۔

1. اقبال کے جوان اور ستاروں پر کمند

علامہ اقبال کی نظریں ہمیشہ اس ‘نوجوان’ پر جا کر ٹھہرتی تھیں جس کے اندر کچھ کر گزرنے کا مادہ ہوتا تھا۔ اقبال کی ٹیکنالوجی یا علمِ جدید کی تسخیر کی دعوت دراصل اسی محبت کا نتیجہ تھی۔ وہ فرماتے ہیں:

محبت مجھے ان جوانوں سے ہے
ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند

آج کے دور میں ‘ستاروں پہ کمند ڈالنا’ کا مطلب محض خلا میں جانا نہیں، بلکہ ڈیجیٹل کائنات کی تسخیر ہے۔ اقبال کا نوجوان وہ ہے جو محض سکرین پر دوسروں کی کامیابیوں کو نہیں دیکھتا، بلکہ خود ایسے ‘الگورتھم’ اور ‘آلات’ تخلیق کرتا ہے جو کائنات کے سربستہ رازوں کو کھول دیں۔ جب ایک نوجوان AI کو انسانیت کے بڑے مسائل حل کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے، تو دراصل وہ ستاروں پر کمند ہی ڈال رہا ہوتا ہے۔

2. تسخیرِ فن کی اہمیت

تسخیر فن کی اہمیت۔ یان کرتے ہوئے علامہ اقبال تشکیلِ الٰہیاتِ اسلامیہ میں لکھتے ہیں
“علم سے میری مراد وہ قوت ہے جو فطرت کے مظاہر پر قابو پانے کے لیے استعمال کی جائے۔ کائنات کوئی ایسی چیز نہیں جو انسان کے سامنے ایک مکمل دیوار بن کر کھڑی ہو، بلکہ یہ ایک دعوت ہے کہ انسان اپنی عقل کے ذریعے اس کی گہرائیوں میں اترے اور اسے اپنا تابع بنائے۔”

جدید دور کے ٹیکنالوجی ماہر ‘اریک شمٹ’ جو سابق سی ای او، گوگل ہیں کہتے ہیں

“مصنوعی ذہانت انسانی تاریخ کا سب سے بڑا ‘ایمپلیفائر’ یعنی طاقت بڑھانے والا آلہ ہے۔ یہ انسانی عقل کو وہ پر عطا کرتا ہے جس سے وہ صدیوں کا کام دنوں میں کر سکتا ہے۔ جو قوم اس فن میں پیچھے رہ جائے گی، وہ دوسروں کے ڈیٹا اور فیصلوں کی غلام بن کر رہ جائے گی۔”

تبصرہ: اقبال ہمیں یہی سمجھا رہے تھے کہ جوہرِ انسانی تب چمکتا ہے جب وہ مشکل علوم کو فتح کرتا ہے۔ ‘عقابی روح’ سکرین کی پستیوں میں نہیں، علم کی بلندیوں میں بیدار ہوتی ہے:

عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے اس کو اپنی منزل آسمانوں میں

3. ‘علم و فن’ سے آراستہ ہونے کا مشورہ

اقبال نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ علم حاصل کرو تاکہ تم دنیا پر حکمرانی کر سکو۔ وہ علم جو تمہیں دوسروں کا محتاج بنا دے، وہ ان کے نزدیک بوجھ ہے۔ وہ فرماتے ہیں:

تجھ کو شاہیں کیا ہے اللہ نے شہبازِ بلند
اے گرفتارِ شب و روز! ابھی اڑنا ہے تجھے

آج کا نوجوان ‘شب و روز’ کی ان زنجیروں میں گرفتار ہے جو سوشل میڈیا نے اسے پہنا دی ہیں۔ وہ سارا دن دوسروں کے بنائے ہوئے کونٹینٹ کا ‘صارف’ بنا رہتا ہے۔ اقبال اسے جھنجھوڑ کر کہہ رہے ہیں کہ تو ‘شہبازِ بلند’ ہے، تیرا کام ٹیکنالوجی کے ہاتھوں ہیک ہونا نہیں، بلکہ ٹیکنالوجی کے ذریعے نئے جہان بسانا ہے۔

4. مغلوبیت سے حاکمیت تک: شاہین کا آشیانہ

آج کا المیہ یہ ہے کہ ٹیکنالوجی ہمیں استعمال کر رہی ہے۔ اقبال کا حل یہ ہے کہ اپنی خودی کو اتنا مضبوط کرو کہ ٹیکنالوجی تمہارے اشارے پر ناچے۔ وہ فرماتے ہیں:

نہیں تیرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر
تو شاہیں ہے، بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں

آج کے دور میں ‘قصرِ سلطانی کا گنبد’ وہ پرآسائش اور پکی پکائی معلومات ہیں جو AI ہمیں دے رہی ہے۔ ہم محنت کرنا چھوڑ رہے ہیں کیونکہ ہمیں لگتا ہے کہ جواب ایک کلک کی دوری پر ہے۔ جبکہ ‘پہاڑوں کی چٹانیں’ وہ مشکل فنی علوم Problem Solving, Coding ہیں جنہیں سیکھ کر انسان زمانے کا امام بنتا ہے۔ شاہین وہی ہے جو سستی سہولت کے بجائے ‘سخت کوشی’ کو اپنا شعار بنائے۔

5. ڈیجیٹل امامت کا تصور

مستقبل کی امامت اس کے پاس ہوگی جو ڈیٹا اور روح کے درمیان توازن پیدا کرے گا۔ اقبال نے فرمایا تھا:
یورپ میں بہت، روشنیِ علم و ہنر ہے حق یہ ہے کہ چشمہِ حیوان ہے یہ ظلمات

یورپ کی ٹیکنالوجی (AI) میں علم و ہنر کی روشنی تو ہے، لیکن اس میں روح کی تڑپ نہیں ہے۔ ڈیجیٹل شاہین وہ ہے جو مغرب سے ‘ہنر’ سیکھے لیکن اس کی روح ‘فکرِ اقبال’ سے روشن ہو۔ جب ہم AI کو اخلاقی اقدار کے تابع کریں گے، تب ہم مغلوبیت سے نکل کر حاکمیت کے درجے پر فائز ہوں گے۔

ڈیجیٹل شاہین: ‘تسخیرِ فن’ ایکٹیویٹی پلان

اس باب کے فلسفے کو اپنی زندگی میں اتارنے کے لیے درج ذیل مشقیں بے حد ضروری ہیں:

مرحلہ 1: ‘ستاروں پہ کمند’

سرگرمی: روزانہ سوشل میڈیا پر صرف ‘دیکھنے’ کا وقت آدھا کر دیں اور وہ بچا ہوا وقت کسی ایک جدید ٹیکنالوجی (مثلاً Prompt Engineering، Data Analysis، یا AI Graphics کو سیکھنے میں لگائیں۔
مقصد: ٹیکنالوجی کو اپنا ‘غلام’ بنانا سیکھیں۔ جب آپ کسی ٹول کے ‘ماسٹر’ بن جاتے ہیں، تو آپ کی کمند ستاروں تک پہنچنے لگتی ہے۔

مرحلہ 2: ‘عقابی روح’ کا پہرہ

سرگرمی: دن میں 90 منٹ ‘ڈیپ ورک’ کے لیے وقف کریں جہاں فون کے تمام نوٹیفیکیشن بند ہوں۔ اس دوران آپ کا دماغ صرف اور صرف کسی ‘تخلیقی’ کام میں مصروف ہونا چاہیے۔
مقصد: اپنی توجہ کو دوبارہ حاصل کرنا، جو ڈیجیٹل دور کا سب سے بڑا اثاثہ ہے۔

مرحلہ 3: ‘اپنا جہاں پیدا کر’

سرگرمی: دوسروں کی پوسٹس پر تبصرہ کرنے کے بجائے، AI کی مدد سے کچھ ایسا تخلیق کریں جو معاشرے کے لیے مفید ہو۔ کوئی مضمون لکھیں، کوئی تعلیمی ویڈیو بنائیں یا کوئی نیا آئیڈیا شیئر کریں۔
مقصد: ‘کسٹمر’ کی سطح سے اٹھ کر ‘خالق’ کے مقام پر پہنچنا۔

مرحلہ 4: ‘حاکمیت کا اعلان’

سرگرمی: رات کو سونے سے پہلے جب آپ لیپ ٹاپ یا فون بند کریں، تو خود سے ایک سوال پوچھیں: “آج میں نے ٹیکنالوجی کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کیا، یا ٹیکنالوجی نے مجھے اپنے (اشتہارات دکھانے کے) مقصد کے لیے استعمال کیا؟”
مقصد: اپنی حاکمیت کو روزانہ کی بنیاد پر یاد دلانا۔

حرفِ آخر

تسخیر ہونے کے لیے نہیں، تسخیر کرنے کے لیے پیدا ہوئے ہو۔ سکرین سے ڈرو نہیں، اسے فتح کرو۔ علامہ اقبال کا شاہین وہی ہے جو زمانے کے تیز ترین گھوڑے (ٹیکنالوجی) پر سوار ہو کر اسے اپنی منزل کی طرف موڑ دے۔ ٹیکنالوجی ایک بہترین خادم ہے لیکن ایک بدترین آقا۔ اپنی خودی کو بلند کریں تاکہ آپ اس آقا کے بھی آقا بن سکیں۔
ستاروں سے آگے ابھی اور بھی جہاں ہیں! اور ان جہان تک پہنچنے کا راستہ آپ کی انگلیاں نہیں، بلکہ آپ کی بیدار خودی طے کرے گی۔

ای بک علامہ محمد اقبال اور اے آئی باب چہارم

اگلا باب پڑھنے کے لیے کلک کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تبصرے بند ہیں