233

ای بک علامہ محمد اقبال اور اے آئی

تحریر شئیر کریں

پیش لفظ

علامہ اقبال سے میرا تعلق محض ایک شاعر اور قاری کا نہیں، بلکہ یہ رشتہ اتنا ہی قدیم اور گہرا ہے جتنا میرا اردو زبان سے ناطہ۔ بچپن کی لوریوں سے لے کر جوانی کے شعور تک، اقبال کی فکر میری روح میں ایک خواب کی طرح بستی رہی۔ ہمیشہ سے یہ تمنا تھی کہ حکیم الامت کی عظمت کو الفاظ کا پیرہن عطا کروں، اور آج اللہ کے فضل سے وہ خواب شرمندۂ تعبیر ہونے جا رہا ہے۔
جب میں نے موجودہ دور کے بدلتے ہوئے حالات اور ٹیکنالوجی کے طوفان پر تحقیق کی، تو میرا دل اس بات پر ٹھہر گیا کہ آج کے دور کا سب سے اہم اور منفرد موضوع ‘علامہ اقبال اور مصنوعی ذہانت (AI)’ ہے۔ ہم ایک ایسے دور میں سانس لے رہے ہیں جہاں مشینیں سوچنے لگی ہیں اور الگورتھم انسانی جذبوں کی جگہ لے رہے ہیں۔ ایسے میں اقبال کا ‘تصورِ خودی’ اور ‘عقل و عشق’ کا فلسفہ پہلے سے کہیں زیادہ ناگزیر ہو چکا ہے۔
یہ کتاب محض ایک تحقیق نہیں، بلکہ ایک جستجو ہے—یہ دیکھنے کی کہ مٹی کا یہ پیکر جسے اقبال ‘شاہین’ کہتے ہیں، وہ اس ڈیجیٹل کائنات میں اپنی پرواز کیسے برقرار رکھ سکتا ہے۔ کیا ایک بے جان مشین اس ‘خودی’ کا مقابلہ کر سکتی ہے جو خالقِ کائنات کا پرتو ہے؟ میرا یہ سفر اسی سوال کے جواب کی ایک ادنیٰ سی کوشش ہے۔

روبینہ شاہین
سات فروری بروز ہفتہ دو ہزار چھبیس
—

مقدمہ

ہم ایک ایسے ہیبت ناک موڑ پر کھڑے ہیں جہاں انسانی تاریخ کا سب سے بڑا فکری انقلاب دستک دے رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) محض چند کمپیوٹر کوڈز یا مشینوں کا نام نہیں، بلکہ یہ انسانی عقل کی اس ‘عیاری’ کا عروج ہے جس کی نشاندہی حکیم الامت علامہ اقبال نے ایک صدی قبل کر دی تھی۔ آج کا انسان اپنی تخلیق کردہ مشینوں کے سامنے سجدہ ریز ہے، اور ڈیٹا کو نیا خدا مان بیٹھا ہے۔
جدیدیت کے علمبردار اور مغربی مفکرین یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ AI انسانی شعور کا نعم البدل بن جائے گی۔ یہ سراسر ایک ایسی منافقت ہے جو انسان کو ایک ‘بائیولوجیکل مشین’ سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتی۔ جہاں مغرب کی لبرل فکر انسان کو صرف مادی نفع و نقصان کے ترازو میں تولتی ہے، وہاں اقبال ہمیں بتاتے ہیں کہ انسان کے اندر ایک ایسا ‘نور’ موجود ہے جسے کوئی الگورتھم قید نہیں کر سکتا۔ وہ نور ‘خودی’ ہے۔
مصنوعی ذہانت معلومات تو دے سکتی ہے، مگر حکمت نہیں۔ یہ حساب تو لگا سکتی ہے، مگر تڑپ نہیں دے سکتی۔ یہ آپ کو راستہ تو دکھا سکتی ہے، مگر منزلِ مقصود یعنی اللہ کی رضا اور آخرت کی کامیابی کا جذبہ پیدا نہیں کر سکتی۔

اس کتاب کا مقصد یہ دیکھنا ہے کہ جب ڈیجیٹل دنیا ہمارے گرد گھیرا تنگ کر رہی ہو، تو فکرِ اقبال کی شمع ہمیں کیسے راستہ دکھاتی ہے۔ ہم اس بحرِ ظلمات میں ‘شاہین’ کی پرواز کو کیسے محفوظ رکھ سکتے ہیں اور کیسے ٹیکنالوجی کو اپنا غلام بنا کر خود اللہ کے بندے بنے رہ سکتے ہیں۔ یہ مقدمہ اس سفر کا آغاز ہے جو ہمیں مشینوں کی بندگی سے نکال کر خدائے بزرگ و برتر کی معرفت کی طرف لے جائے گا۔

….

ابواب بندی

باب اول:   موضوع کا تعارف

باب دوم: علمِ بصیرت بمقابلہ ڈیٹا پروسیسنگ

باب سوم: شاہین کی پرواز اور مصنوعی حدود

باب چہارم: معرکہِ عشق و عقل اور جدید ٹیکنالوج

باب پنجم: فلاحِ دارین: ٹیکنالوجی کا تقویٰ کے ساتھ ملاپ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں