نگین چشتی
بد نصیب گاڑی…
بد نصیب ماں….
بدنصیب بچے…
شہوت زدہ بھوکے بھیڑیے..
بے حس و حرکت قانون…
صرف سوشل میڈیا پر دو چار دن احتجاج کر کے خاموش تماشائی بے غیرت عوام..😡
اس سے ذیادہ کوئی الفاظ ہی نہیں بچے کہنے کو.. دو دن سے شدید ترین ڈپریشن میں مبتلا ہوں نہ نیند ہے نہ بھوک.. ایسا لگ رہا ہے کسی ریاست میں نہیں بلکہ جنگل میں اپنے بل بوتے پہ ذندگی بسر کر رہے ہیں.. کب کس وقت کیا سے کیا ہو جائے کچھ علم نہیں نہ ہی کوئی پرسان حال.. 💔💔
بچپن سے لے کر آج تک خبروں میں ہر اندوہناک واقعی پر یہی سننے کو ملا.. نوٹس,افسوس, مذمت, تھوڑا سا احتجاج, رپورٹ درج, لیکن یہ کبھی نہیں سنا کہ عبرت ناک سزا, کیفرِ کردار,😡
کیونکہ حکمران طبقے کو ہماری سائیکی اچھی طرح معلوم ہو چکی ہے .. کہ جذباتی قوم صرف باتوں سے ہی دل کی بھڑاس نکال کر چند روز میں ٹھنڈی پڑ جاتی ہے.. انجام تک نہیں پہنچا سکتے کسی کو..💔
قانون اور حکمرانوں سے بڑے مجرم ہم خود ہیں.. بےحسی اور بے غیرتی سے بڑا جرم کیا ہو گا.. ؟😥
ایک شریف اور عزت دار عورت بھی اگر کبھی اپنے حق کے لئے مردوں کے مخصوص اور رذیل طبقے پر تنقید کرے تو اسے فیمنسٹ کا خطاب دے کر لبرلز کا ٹھپہ لگا دیا جاتا ہے.. اور ہر مرد کو اپنی داڑھی میں تنکا نظر آتا ہے..
کیا واقعی ہمارا معاشرہ محض مردوں کا معاشرہ ہے.. 💔 .ہمارا رب ہمارا مذہب تو ہمیں بہت طاقتور بناتا ہے تو معاشرے نے اتنااا کمزور کیوں بنا رکھا ہے..
ہر لڑائی عورت کو گالی دیے بنا ادھوری سمجھی جاتی ہے. عورت قتل ہو جائے اغواء ہو جائے تو سب سے پہلے اس کا کردار زیر بحث آتا ہے..
افففف اللہ تعالٰی رحم فرمائیے ہماری قوم پر ہمارے ملک پر..💔😥