برداشت کے دو اصول جنہیں جان کر سب برداشت ہو سکتا،جانیے وہ دواصول کون سے ہیں؟
عدم برداشت ایسا موضوع ہے جس سے ہر انسان گزرتا ہے۔ سوال یہی ہوتا ہے کہ ہم برداشت کیسے کریں لوگوں کی تلخ باتوں کو۔ نفرت کو اور ہر وہ چیز جو ہمیں بری لگتی ہے۔ زندگی گزارنے کے کچھ اصول ہیں ان میں سب سے پہلے نمبر پر برداشت ہے۔ آسما ن میں ہم نے عدم برداشت کی مثال اس وقت دیکھی جب اللہ نے حضرت آدن کو بنایا اور فرشتوں کو کہا سجدہ کرو تب ابلیس نے یہ برداشت نہیں کیا اور وہ جنت سے نکالاگیا رسوا ذلیل ہوا۔
برداشت کرنے کے دو اہم اصول ہیں جن پر عمل کرلیں تو ہم عدم برداشت سے بچ سکتے ہیں۔
اللہ کے سامنے جواب دہ ہونا:
یہ تو ہر مسلمان کا عقیدہے کہ اس دنیا کے بعد ہمیں آخرت میں جانا ہے جہاں ہم اللہ کے سامنے قیامت کے دن جواب دہ ہونگے۔ اگر ہم یہ بات ہر وقت ذہن میں رکھیں کہ مجھے ہر عمل کا جواب اللہ کے سامنے دینا ہے اور مجھے اس کا ثواب ملے گا تو وہ ہر چیز برداشت کرنے کے لئے تیار ہوجائے گا۔ کیونکہ عدم برداشت ہوگا تو آپ سے بہت گناہ ہونگے جیسے یوسف کے بھائیوں نے جب یوسف کو باپ کا سب سے لاڈلا پایاتو حسد اور عدم برداشت کیوجہ سے وہ یوسف کو کنوئیں میں پھینک کر آگئے۔ اگر وہ خدا کا خوف رکھتے اور آخرت کو یاد رکھتے تو کبھی یہ نہ کرتے۔
ہم برداشت کریں تو یہ سوچ کر کہ مجھے اس کا جواب اللہ کو دینا ہے۔ سب سے بہترین برداشت کی مثال ہمارے نبی کی سنت ہے۔ نبیﷺ کی زندگی پر غور کریں کہ انہوں نے دین کے لئے کتنا برداشت کیا۔ اگر کوئی ہمیں برا کہتا ہے تو ہم صرف اس لئے چپ رہیں کہ اگر میں نے اس کا جواب دیا تو میرا اللہ ناراض ہوجائے گا۔
تقوی /پرہیزگاری
ثواب کے بعد اللہ کا خوف ہے تقویٰ ہے جس سے انسان اپنے اندر برداشت پیدا کرسکتا ہے۔ اگر اللہ کا خوف ہوگا تو ہم کسی بھی رد عمل سے بچیں گے۔ نبی کی سنت دیکھیں تو بہت سے واقعات ہیں جس میں نبی ﷺنے کفار کی گالی بھی برداشت کی وجہ صرف اللہ کا خوف تھا
کہ وہ ان باتوں کو چھوڑ کر صرف اللہ کا پیغام پہنچاتے رہے۔ سائنس کہتی ہے ہر ایکشن کا ری ایکشن ہوتا ہے۔ ہمارے ساتھ کوئی برا کرتا ہے تو ہمارا دل بھی اس کے لئے اچھا نہیں سوچتا۔ برادشت اسی کو کہتے ہیں کہ ہم اس کا بدلہ لئے بغیر خاموش ہوجائیں صرف اللہ کے خوف اور ثواب کی نیت سے تو ہماری زندگی آسان ہوجائے گی۔