234

بچوں کی تربیت میں دھمکیوں کا استعمال

تحریر شئیر کریں

بچوں کی تربیت میں دھمکیوں کا استعمال

بچوں کی تربیت والدین کے لیے ہمیشہ ایک چیلنجنگ عمل رہی ہے، خاص طور پر جب بچے چھوٹے ہوں اور سمجھ بوجھ کی عمر میں ہوں۔ بدقسمتی سے، کئی والدین ایسے مواقع پر دھمکیوں کا سہارا لیتے ہیں تاکہ بچوں کے غیر مناسب رویوں کو کنٹرول کیا جا سکے۔ لیکن کیا یہ طریقہ واقعی کارآمد ہے؟

یونیورسٹی آف مشی گن کے *سی۔ ایس۔ موٹ چلڈرن ہاسپٹل نیشنل پول* کے مطابق، تین سے پانچ سال کی عمر کے بچوں کے والدین زیادہ تر دھمکیوں کا استعمال کرتے ہیں۔ 25 فیصد والدین نے اعتراف کیا کہ وہ اپنے بچوں کو ڈراتے ہیں کہ اگر انہوں نے بدتمیزی بند نہ کی تو “اللہ” ان کو آگ میں پھینک دئے گا۔ اس کے علاوہ، والدین اکثر یہ دھمکیاں دیتے ہیں کہ وہ کسی تفریحی جگہ کو چھوڑ دیں گے، کھلونے چھین لیں گے، یا میٹھا کھانے سے محروم کر دیں گے۔

دھمکیاں کیوں مؤثر نہیں؟

ماہرین نفسیات کے مطابق دھمکیاں قلیل مدتی نتائج تو دے سکتی ہیں لیکن طویل مدتی بنیادوں پر بچوں کے رویے پر مثبت اثرات ڈالنے میں ناکام رہتی ہیں۔ ڈاکٹر سوزن وولفورڈ، ماٹ پول کی شریک ڈائریکٹر، کہتی ہیں:
> “خالی دھمکیاں نہ صرف والدین اور بچوں کے درمیان اعتماد کو کمزور کرتی ہیں بلکہ یہ بچوں کی شخصیت پر بھی منفی اثر ڈال سکتی ہیں۔”

دھمکیوں کے برعکس، مثبت رویوں کو تقویت دینا اور مستقل مزاجی سے بچوں کی تربیت کرنا زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔ بچوں کو یہ سکھانا کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط، اور ان کے لیے محفوظ اور مناسب رویوں کا تعین کرنا والدین کی اولین ذمہ داری ہے۔

والدین کی مشکلات اور عدم استحکام

ماٹ پول کے 725 والدین پر مشتمل ایک سروے میں یہ بات سامنے آئی کہ نصف والدین اپنے تربیتی طریقوں میں مستقل مزاجی کا دعویٰ کرتے ہیں، لیکن اکثریت تسلیم کرتی ہے کہ وہ اکثر تھکن، دباؤ، اور جذباتی طور پر مغلوب ہو کر غیر مستقل مزاجی کا مظاہرہ کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

بچوں کو دین کی طرف مائل کیسے کریں؟

چند عام مشکلات یہ ہیں:
1. بچے ابھی بہت چھوٹے ہیں اور ان باتوں کو مکمل طور پر نہیں سمجھتے۔
2. دی گئی تربیتی حکمت عملیاں ہمیشہ مؤثر ثابت نہیں ہوتیں۔
3. عوامی جگہوں پر بچوں کے نخرے روکنا والدین کی ترجیح بن جاتی ہے۔

تقریباً ایک چوتھائی والدین نے اعتراف کیا کہ وہ بچوں کی غلطیوں پر جھنجھلاہٹ یا جذباتی ردعمل دیتے ہیں، جس سے تربیتی عمل مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے۔

تربیت میں مستقل مزاجی کی اہمیت

مستقل مزاجی بچوں کی تربیت کا سب سے اہم جز ہے۔ ایک والدین کا غیر مستقل رویہ بچوں کو الجھن میں ڈال سکتا ہے اور ان کے لیے صحیح اور غلط کی تمیز مشکل بنا دیتا ہے۔ ماہرین والدین کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ اپنی تربیتی حکمت عملیوں میں منصوبہ بندی اور مستقل مزاجی کو شامل کریں۔

مثبت تربیت کے چند رہنما اصول:

– بچوں کے اچھے رویوں پر فوری تعریف کریں تاکہ وہ ان رویوں کو دہرانے پر آمادہ ہوں۔
– چھوٹے بچوں کے لیے واضح حدود اور اصول متعین کریں جو ان کی سمجھ کے مطابق ہوں۔
– دھمکیوں یا رشوت کے بجائے بچوں کو فطری نتائج کے ذریعے سیکھنے کا موقع دیں۔
– جذباتی دباؤ کے وقت تربیتی فیصلے کرنے سے گریز کریں اور خود کو پرسکون رکھیں۔

بچوں کی تربیت میں دھمکیاں استعمال کرنا وقتی طور پر کارآمد دکھائی دے سکتا ہے، لیکن طویل مدتی اثرات کے لیے مثبت تربیت، مستقل مزاجی، اور والدین کے پر سکون رویے کا مظاہرہ ضروری ہے۔ بچوں کو ڈرا دھمکا کر تربیت دینا ان کے اعتماد اور والدین کے ساتھ تعلقات کو متاثر کر سکتا ہے۔ لہذا، والدین کو چاہیے کہ وہ حکمت اور محبت سے بچوں کی تربیت کریں تاکہ ان کی شخصیت میں پختگی اور مثبتیت پیدا ہو سکے۔

بچوں کی تربیت میں دھمکیوں کا استعمال

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں