سردار جی لگتا آپ نے سناٹا نہیں سنا۔۔۔جنوں میں سے بڑے جن نے استفهامیه نگاهوں سے بھولےجن کی طرف دیکھا۔۔بڑے جن کے هاتھ میں تسبیح تھی جنهیں وه مغرب کے بعد پڑھا کرتے تھےاب بھی وہی پڑھنے میں مشغول تھے جبھی بھولے جنکی بات توجه سے سن نهیں پاۓ۔سردار جن نے تسبیح مکمل کی اور بھولے جن کی طرف دیکھا جیسے کهه رهے هوں اب بتاؤ اصل بات جو تمهیں پریشان کیے دے رهی هے۔بھولا جن واقعتا پریشان تھا۔اسکی پریشانی اسکے چہرے پہ تحریر تھی۔سردار جن کے کندھے پہ ہاتھ رکھنے سے بھولا جن چونکا۔۔یار تم بھی نا ۔۔۔۔خیالوں کی دنیا سے باهر آؤ۔۔۔بھولےجن نے جلدی سےخجالت سمیٹی اور بولا۔۔۔سردار جی اپنی زمین په اتنا سناٹا کیوں هے؟کہیں خدانخواسته سارے انسان۔۔ بات ابھی مکمل نہیں هوئی تھی کہ سردار جن بول اٹھا۔۔۔٠
تم بھی نا پهلے شور شور کا رولا ڈالتے تھے ۔۔۔
ڈالتے رهتے تھے اور اب سکون هوا تو تب بھی پریشان یار تم کب سے انسانوں کی طرح سوچنے لگ گے هو۔۔کسی پل چین نہیں۔۔سردار جن نے بات اڑائی تھی مگر بھولے جن کی غیر معمولی سنجیدگی بتا رهی تھی که وه آج ٹلے گا نهیں۔۔۔
سردار جی مجھے بہت ٹینشن هو رهی هے زمین په کو ئی بڑی گڑ بڑ هونے والی هے۔سردار جن نے بھولےجن کی طرف دیکھا مگر بولے کچھ نہیں۔۔۔کئ پل بیت گۓ مگر سردار جن حالت استغراق میں تھے۔کافی دیر کے بعد بولے۔۔۔کچھ نا کچھ تو ہے بھولے جن ۔۔۔
میں تو تمھیں بھولا هی سمجھتا رها۔۔تم تو بڑے جینئس ہو۔۔۔بھولے جن کو جنوں کی اکثریت بھولا جن کهه کر پکارتی تھی کیونکه وه باقی جنوں کے مقابلے شاطر اور مکار نا تھا۔اپنے کام سے کام رکھتا تھا۔۔۔سردار جن سے اکثر علم کی باتیں پوچھنے آیا کرتا تھا۔۔۔ایک ماہ ہونے والا تھا انسانوں کی دنیا میں غیر معمولی خاموشی چھاۓ مگر مجال ہے جو کسی جن کے کان پہ جو تک رینگی ہو۔۔سواۓ بھولے جن کے۔۔۔۔
سردار جی کچھ تو کرنا هوگا ورنه خدانخواسته انسانوں کے ساتھ هم بھی بے موت نا ماریں جائیں۔۔۔۔
ہم دعا ہی کر سکتے اللہ اپنے حفظ و امان میں رکھے همیں بھی اور انسانوں کو بھی۔۔بلکہ کل عالم کو۔۔۔سردار جن نے دعا کی۔۔بھولے جن کی ابھی تشفی نہیں هوئی تھی ۔۔۔سردار جن نے محسوس کیا که بھولا اپنے بھول پن توڑنے کے سارے ریکاڑ توڑنے کا عهد کر کے بیٹھا تھا۔اچھا بتاؤ تم کیا کر سکتے ہو۔۔جوآپ حکم دیں۔۔بھولے جن نے سردار جن کے آگے گردن جھکادی۔۔۔
جاو پھر زمین کےسرداروں کا پته کرو وه آج کن کاموں میں مصروف هیں۔۔۔بھولے جن کے پاس تین دن کا وقت تھا۔۔اس نے رپورٹ تیار کرنی تھی۔۔۔بھولا جن بہت پرجوش تھا کہ اسے کوئی بڑا پروجیکٹ ملا هے۔
بھولے جن نے انسانوں کا بہروپ بدلا اور لمبے سفر کی اڑان بھری۔۔۔سفر بھلے لمبا تھا مگر بھولے جن نے ٹھان لی تھی که پته ضرور لگانا که اهل زمین آجکل کهاں مصروف۔۔۔
بھولے جن کے تحیر میں هر روز اضافه هوتا گیا۔۔۔جیسے جیسے اسکی ریسرچ پوری ہو رہی تھی توں توں اسکا تجسس بھی بڑھ رها تھا۔۔۔
آج بھولے جن کی واپسی تھی۔۔۔اس نے ایک خاموش اور پرسکون جگه بیٹھ کر ازسرنو حالات و واقعات کا جائزہ لیا۔۔۔اور پھر لکھنے بیٹھ گیا۔۔۔
لکھ کے فارغ هوا تو واپسی کی اڑان بھری۔۔۔سردار جن کو اپنا منتظر دیکھ کر بھولے جن کی ساری تھکن اتر گی تھی۔۔۔
تو سناؤ بھولے میاں کیا خبر لاۓ هو؟
سردار جی حالات پوری طرح الٹ پلٹ هو چکے هیں ۔۔۔۔امریکہ بہادر کا تخته الٹنے هی والا هے۔۔۔بلکہ تمام سردار ملک ایک بیماری کی زد میں هیں۔مسلمان ملک اس بیماری کا ہدف نہیں هیں۔۔لگتا اس بار اللہ نے وقت کے فرعونوں کو ایک وائرس سے شکست دینے کا پلان کیا ہے۔۔۔سردار جن جوں جوں رپورٹ پڑھتے گے ان کا شک یقین میں بدلتا گیا۔۔۔
واقعتا امریکہ کے دن پورے ہونے کا وقت آن پہنچا تھا۔ہر سردار نےایک دن جانا ہوتا۔۔۔یہ تو طے ہے پھر لوگ کیوں عبرت نهیں پکڑتے۔۔۔ہم جن تو سردار جی ایسے ہی بدنام ہیں یه انسان تو هم سے بھی چار هاتھ آگے هیں۔بھولے جن نے تفکر سے کہا۔۔۔بیماری سے ڈرتے هیں مگر الله سے نهیں۔۔کتنے کم عقل ہیں۔۔۔سردار جن نے کانوں کو هاتھ لگایا اور الله کے آگے سجده ریز هو گے کهیں اهل زمین کا وبال ان پر بھی نا آن پڑے۔۔۔زمین وآسمان کا سردار واقعتا غصے میں تھا۔بھولے جن نے بجلی کی کڑک سنی تو دروازے کی طرف لپکا ۔۔بجلی کی کڑک تو خوفناک تھی هی مگر اسے یکایک بہت خوف محسوس هوا۔۔۔بجلی کارنگ سفید نہیں سرخ تھا۔۔لال سرخ۔۔جیسے کوئئ غصے سے لال ولال هو کے للکار رها هو۔۔۔مجھ سے بھاگ کر کدھر جاو گے۔۔۔سردار جن اور بھولے جن کی آه و زاریاں اس بات کی گواه تھیں که بڑا سردار واقعتا غصے میں هے۔باہر بادل گرج رہے تھے جبکہ دو جن اہل زمین کی مغفرت کی دعا کر رهے تھے۔