بہت پہلے کی بات ہے، جب اسلام کے دشمنوں نے مسلمانوں پر حملے کی تیاری کی۔ اللہ کے پیارے نبی ﷺ نے اپنے سب سے بہادر ساتھی حضرت علیؓ کو بلایا اور انہیں ایک خاص مشن پر روانہ کیا۔
حضرت علیؓ نے سوچا کہ اگر ہم دن میں جائیں گے تو دشمن ہمیں دیکھ لیں گے، اس لیے انہوں نے رات کے اندھیرے میں سفر کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہ اپنے وفادار گھوڑوں پر سوار ہوئے اور اللہ کا نام لے کر نکل پڑے۔
✨ اللہ نے کیا دیکھا؟
جب یہ لشکر جا رہا تھا، تو اللہ تعالیٰ آسمان سے ان گھوڑوں کو دیکھ رہا تھا۔ اللہ کو ان کی تین باتیں بہت پسند آئیں:
* وہ گھوڑے اتنی تیز بھاگ رہے تھے کہ ان کے ہانپنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔
* اندھیری رات میں جب ان کے پاؤں پتھروں سے ٹکراتے، تو وہاں سے آگ کی چنگاریاں نکلتی تھیں۔
* وہ تھکے ہوئے ہونے کے باوجود رکتے نہیں تھے کیونکہ وہ اپنے مالک (حضرت علیؓ اور صحابہ) کے وفادار تھے۔
صبح ہوتے ہی انہوں نے دشمن پر حملہ کیا اور اللہ نے انہیں فتح دے دی۔
💡 کہانی کا اصل سبق
اللہ میاں نے قرآن پاک میں ان گھوڑوں کی تعریف کی اور انسانوں سے کہا: “ذرا دیکھو اس جانور کو! یہ تھوڑی سی گھاس کھا کر اپنے مالک کے لیے جان دے دیتا ہے، لیکن اے انسان! میں نے تمہیں اتنی نعمتیں دیں، پھر تم میرا شکر ادا کیوں نہیں کرتے؟”
🎮 اب باری ہے ایکٹیویٹی کی! (ٹپ ٹپ گیم)
کہانی ختم کرنے کے بعد بچوں کو ایک دائرے میں بٹھائیں اور یہ گیم کھیلیں:
* رات کا سفر: بچوں سے کہیں کہ وہ آنکھیں بند کر لیں جیسے اندھیری رات ہو۔
* ٹپ ٹپ آواز (گھوڑوں کی چال): اب ان سے کہیں کہ اپنی انگلیوں سے فرش یا میز پر آہستہ آہستہ آواز نکالیں: ٹپ… ٹپ… ٹپ…
* تیز رفتار: اب کہیں کہ دشمن قریب ہے، گھوڑے تیز دوڑائیں! اب بچے تیزی سے آواز نکالیں: ٹپ ٹپ ٹپ ٹپ ٹپ!
* ہانپنے کی آواز: سب بچے مل کر ایک ساتھ گھوڑے کے تھکنے کی آواز نکالیں: “ہاں… ہاں… ہاں!”
* فتح کا نعرہ: جیسے ہی آپ کہیں “صبح ہو گئی!”، تو سب بچے ایک ساتھ بلند آواز میں کہیں: “الحمدللہ!” (یہ اللہ کا شکر ادا کرنے کے لیے ہے)۔
کیسا لگا آپ کو یہ سیٹ اپ؟ کیا آپ چاہیں گے کہ میں اس کہانی کے لیے کچھ خاص “رنگین تصاویر والے آئیڈیاز” بھی دوں؟