تحریر:روبینہ شاہین
دسمبر کی ٹھٹھرتی رات دھیرے دھیرے بیت رہی تھی۔بالکل اس کی زندگی کی طرح ،جو رک رک کرہی سہی مگر چلتی جا رہی تھی۔اسے اس بات سے کوئی سروکار نہ تھا کہ وہ بتانے والے کی جھولی میں کھوٹے سکے ڈال رہی یا کھرے۔۔۔۔بلاشبہ وقت کا کام گزرنا ہے سو وہ گزر جاتا ہے۔اس کی اور اسجد کی شادی کو دس سال ہو جائیں گے کل۔۔۔۔یہ خیال آتے ہی وہ تھوڑی پر جوش ہو گئی جیسے منجمد کر دینے والی سردی میں کوئی حرارت کی چنگاری سلگی ہو۔حالانکہ اسجد کے انکار نے اسکا موڈ سخت آف کر دیا تھا،اینورسری کا خیال آتے ہی وہ پہلے والی منہا بن گئی ،محبت پہ ایمان رکھنے والی،محبت کے نام پہ ایمان تج دینے والی،کتنا حوصلہ تھا اس دھان پان سی عورت میں،ٹھنڈی ہوا کا جھونکا اس کے بالوں سے ٹکرا کر اس کے سارے بال بکھیر گیا مگر وہ ٹس سے مس نا ہو ئی ،محبت آج پھر اسے پگھلا رہی تھی،اپنا آپ منوا رہی تھی۔اس نے ایک بار پھر اسجد سے بات کرنے کی ٹھانی لی ،محبت سے بڑی حرارت کیا ہو سکتی ہے بھلا،پل پل دہکانے والی،دہکانے پہ آئے تو برف کی سلوں میں زندگی دوڑا دیتی ہے اور جلانے پہ آئے تو نسلیں راکھ کا ڈھیر بنا کر خس وخاشاک میں بدل کر رکھ دے۔سارے رموز اوقاف ازبر کروا دیئے ہوں گے مالک نے جب جذبہ محبت پہ کن کہا ہوگا۔
منہانے اس محبت نامی جذبے کے ہاتھوں بہت دکھ اٹھائے تھے۔کیا کچھ نہیں کیا تھا اسجد کی خاطر،اس کے لئے تعلیم چھوڑی،کیریر برباد کیا،والدین کی ناراضگی مول لی،خاندانی روایات کو پس پشت ڈالا،بچپن کی منگنی توڑ کر اس سے شادی کی تھی مگر وہ پل بھر بھی اس کے مان کو مٹی کر گیا تھا۔اس کے کہے ہوئے الفاظ نشتر بن کر اس کی انا کو کچوکے لگا رہے تھےتم جیسی عورتوں کو صرف مرد چاہیئے جو اس کی ہاں میں ہاں ملا کر دم ہلاتا ہوا پیچھے چلتا رہے۔۔۔۔اور لبنیٰ جہاں تھی وہی کھڑی رہ گئی،کب ہاں میں ہاں ملائی تھی اس ظا لم انسان نے،اس کی تو حسرت ہی رہی کبھی تو اس کی بھی سنی جائے،ماننے کی باری تو بعد میں آتی ہے۔دس سال گزر گئے تھے اس کی شادی کو،آج وہ دسویں سالگرہ منانے والے تھے۔۔۔اس نے بڑے لاڈ سے اپنے جیون ساتھ سے جو اس کی اوائل عمری کی واحد محبت تھا سے فرمائش کر ڈالی،جسے سنتے ہی وہ آلپے سے باہر ہو گیا۔ہوٹلنگ وہ بھی تم۔۔۔کیا تمہاری ماں بھی ہوٹلنگ کرتی تھی جو تم مجھ سے مطالبہ کر رہی ہو۔۔۔ان کے زمانے میں میں رواج نہیں تھا جبھی ۔۔۔اس نے دبے لفظوں میں سمجھانا چاہا۔ہمارے ہاں بھی رواج نہیں ہے میڈم آج کہا ہے آئندہ مت کہنا۔پر کیوں ؟میں سارا دن اکیلی رہ رہ کر بور ہو جاتی ہو،آپ کی بہنیں بھی تو ۔۔۔فقرہ ابھی مکمل نہیں ہوا تھا ایک زناٹے دار تھپڑ اس کو اس کی اوقات یا د دلا گیا۔میری بہنوں کا نام لیا نا تو زبان کاٹ دوں گا وہ تم جیسی حرافاں نہیں تھیں ،جو بھاگ کر شادیاں کرتیں ہیں۔اسجد جا چکا تھا مگر وہ اسکے کہے ہوئے الفاظ کی تپش کو کم کرنے میں کوشاں تھی۔۔۔اس کا دماغ تو لفظ حرافاں پہ اٹک گیا تھا۔وہ لوگ جن کے لئے سارے اصول دان دیئے ہوں جب وہی اٹھ کر آپ کی کردارکشی۔۔کردارکشی؟وہ بڑبڑائی۔۔نہیں یہ تو بہت چھوٹا سا لفظ ہے۔آنسوؤں کا ریلا جو کب سے بہنے کو بے تاب تھا امڈتا چلا آیا۔اور وہ اس ریلے میں بہتی چلی گئی۔۔
اتنی خوبصورت آنکھیں ہیں تمہاری،ڈوب جانے کو جی چاہتا ہے۔ایک یاد ماضی سے دامن چھڑا کر حال میں جگمگائی تھی۔اور حال وہ تھا جو بے حال کئے دے رہا تھا۔تم مر کیوں نہیں جاتی منہا۔۔۔میری جان چھوٹے تم جیسی ناکارہ عورت سے۔۔۔دس سالوں میں ایک بچہ پیدا نہیں کر سکی۔اونہہ نخوت سے منہ پھیر کے جانے والا اسجد تو نہ تھا۔کہاں اسکی آنکھوں پہ واری صدقے جانے والا اور اب اس کی موت کی چاہ۔۔۔کیا محبت اتنی بھیانک ہوتی ہے۔
جب برسات تھمی تو اس کے ہواس ٹھکانے لگے اور حساب کے کھاتے کھل گئے۔۔سودوزیاں کا حساب کرتے نا جانے کتنا وقت بیت گیا تھا۔دسمبر کی ٹھٹھرتی ہو ئی شام نے جہاں اس کی ہڈیوں کو ٹھٹھرا دیا تھا وہی جذبات بھی اتنے ٹھنڈۓکرڈالےکہلگتاانکاوقتآخرآنپہنچاہو،وہ بمشکل اٹھی ،چائے بنا نے کے لیے کیتلی میں پانی انڈیلا،اور برنر جلانے لگی تو گیس غائب،مائیکرو ویواوون میں چائے بنا کر وہ چھت پہ چلی آئی ،جہاں دسمبر کا سورج اپنی آخری اڑان بھرکر غروب ہونے کی تیاریوں میں مصروف تھا۔اس نے ایک نظر سورج پہ ڈالی،اور اداسی سے مسکرا دی،اداسیاں بہت سالوں سے اس کی شخصیت کا حصہ تھیں۔وہ ہنس مکھ سی منہانا جانے کہاں جا سوئی تھی۔جس کی ہنسی کے جلترنگ خاندان بھر میں مشہور تھے۔اسے یاد آیا اس کی فرینڈ سلیہا کی امی نے اس کی ہنسی پہ ایک بار کہا تھا کہ جو لوگ جتنا ہنستے ہیں پھر ان کو اتنا ہی رونا پڑتا ہے،اور وہ آج سوچ رہی تھی کہ کتنا سچ کہا تھا انہوں نے۔چائے کا آخری سپ لیا تھا اور ادھر سے مغرب کی اذانوں کی بازگشت سنائی دی،وہ نماز مغرب کی ادائیگی کے لئے نیچے چلی آئی۔ایک اور سال احتتام پذیر ہوا۔اس نے ڈھیروں دعائیں مانگ ڈالیں،وہ بھی جو صرف دل میں تھیں زبان پر لانے کی سکت نا تھی۔اماں ابا سے ملنے کی دعا،جو اس کی شادی کے بعد اسےہمیشہ کے لئے چھوڑ چکےتھےمنہاان کی اکلوتی اولاد تھی۔اس کے کورٹ میرج کے فیصلے سے وہ دونوں بہت ہرٹ ہوئے تھے۔۔۔اماں تو پھر بھی کبھی کبھار اسکی کال اٹینڈ کر لیتی تھی مگر ابا وہ تو آواز سننے کے روادار نا تھے۔اللہ نے اسے ماں باپ کا دل دکھانے کی کم سزا تو نہ دی تھی۔وہ اولاد جیسی نعمت سے محروم تھی،اسے قرآن کی آیت یاد آئی دانت کے بدلے دانت ،جان کے بدلے جان اور زخم کے بدلے زخم۔۔۔۔واہ اللہ تیری شان!اس نے ڈبڈبائی آنکھوں سے آسمان کو تکا جہاں رات کی سیاہی اپنے ڈیرے جما چکی تھی۔ماں باپ کی حکم عدولی کی سزا تو نے خوب دی ،میری کوکھ ہی بنجر کر ڈالی۔ایک سسکی بلند ہوئی اور پھر وہ کب سسکیوں میں بدلی اور اب وہ زاروقطار رو رہی تھی۔۔۔اللہ جی میری سزا کم کر دے،مجھے کچھ نہیں چاہئے بس ایک معافی،میں جیتے جی اپنے والدین سے مل کر رونا چاہتی تھی اور معافی مانگنا چاہتی شاید کہ وہ معاف کر دیں۔۔روتے روتے وہ جائے نماز پر ہی سو گئی۔ٹھنڈ کی ایک شدید لہر سے اسکی آنکھ کھلی تو اسے احساس ہوا رات کافی بیت چکی ہے۔اسجد نے آج گھر نہیں آنا تھا ،منہا جانتی تھی وہ ایسا ہی تھا آوارہ اور کٹھور،وہ ہیپی نیو ائیر منانے میں مصروف ہوگا اپنے آوارہ دوستوں کے ساتھ،نفرت کی ایک لہر آئی تھی ،پتہ نہیں میرے نصیب میں یہ بیماری کہاں سے آ گئی تھی۔اس کا منگیتر آج ایس پی تھا۔ایک روشن مستقبل اس کے سامنے تھا مگر اس کی عقل تو گھاس چرنے چلی گئی تھی ۔جو یہ نکما پیچھے پڑ گیا،کتنا سمجھایا تھا اماں ابا نے کہ مت کرو یہ غلطی،اماں کا خیال آتے ہی وہ چونکی،کتنے دنوں سے ان سے بات نہیں ہوئی ،موبائل اٹھایا،تو چارجنگ نہ ہونے سے بند ملا،جلدی سے چارجنگ پہ لگایا،وہ اس وقت اماں کی آواز سننا چاہتی تھی۔
پھر وہ رات گئے تک اماں کو کال کرتی رہی،مگر انھوں نے اٹینڈ نہ کی۔۔۔تھک ہار کر اس نے ڈائری کھول لی،آج کی رات احتساب کی رات تھی۔غلطی کہاں ہوئی تھی؟وہ سوچ سوچ کے تھک گئی۔۔۔۔۔پھر اسکے من سے آواز آئی ترجیحات میں غلطی ہوئی تھی آپ سے محترمہ۔۔۔ترجیحات؟میں نے تو بہت محبت کی تھی اپنے والدین سے،کیا پسند کی شادی جرم ہے؟ہاں مگر محبت کی تھی مگر جو مقام اللہ کا تھا وہ کسی اور کو دے ڈالا،نئیں نئیں اللہ کا مقام بھی بھلا کسی کو دیا جاتا ہےکوئی اس کے اندر ہنسا تھا۔اپنی خواہش نفس کو خدا بنا لیا جائے تو اللہ کا مقام کہاں باقی رہا؟اس کا پنامن ہی اس کے سامنے آن کھڑا ہوا تھا۔
تم نے ترجیحات کا تعین نہیں کیا۔۔۔۔ تن اور من آمنے سامنے بیٹھے تھے۔من بولا،سب سے پہلے اللہ کی محبت،پھر اس کے رسول ﷺ کی،اس کے بعد والدین اور بعد میں کوئی اور آتا ہے منہابی بی۔۔۔۔ترجیحات کی ترتیب ٹھیک نہ ہو تو یہ آپ کی ساری زندگی کی ترتیب تتربتر کر کے رکھ دیتی ہے۔تن نے قہقہ لگایا،محبت میں ترتیب کی گنجائش نہیں ہوتی،محبت میں ہی تو ہوتی ہے تم انسان کپڑوں کی بے ترتیبی برداشت نہیں کر پاتے مگر رشتوں میں اتنی لاپرواہی۔۔۔من نے سمجھاتے ہوئے کہا۔دیکھو خود کو اس محبت کی بے ترتیبی نے تمہیں آج کہاں پہنچا دیا ہے۔من ایک سوالیہ نشان چھوڑ کے جا چکا تھا۔اس نے ایک نظر خود پہ ڈالی،بے سروسامان،بے اولاد،ماں باپ کی دھتکاری ہوئے،زمانے کی مجرم ۔۔کیا تھا اس کے پاس۔۔۔۔صرف محبت !جو پل پل کچوکے لگاتی،پل پل ڈستی ہوئی ،وہ تو حرافہ تھی اس کی نظر میں جس کو دیوتا سمجھ کر باقی سب پیچھے چھوڑ آئی تھی وہ اسے بدکردار کہتا تھا،کیا یہ اس کی قربانیوں کا صلہ تھا یا بغاوت کی سزا۔؟
رات کا پچھلا پہر بیت رہا تھا جب بیل سنائی دی۔۔۔ہڑبڑا کر اٹھی ،کلاک چار بجا رہا تھا۔دروازہ کھولا تو سامنے نشے میں دھت اسجد کھڑاا تھا۔اسے دھکا دے کر لڑکھڑاتا ہوا کمرے میں جا چکا تھا اور وہ دروازے پہ کھڑی اپنی بدبختی کا ماتم کر رہی تھی۔ جس محبت کی خاطر اس نے اتنی محبتوں کا خون کیا،وہی وبال جان بن گئی تھی۔وہ لاونج میں پڑی کرسی پہ ڈھے سی گئی۔۔اسجد کے دھکے سے اس کا سر دروازے پہ لگا تھاسواب ان ٹھتی درد کی ٹیسوں کو سلہا رہی تھی۔۔۔رت جگا،احتساب،آنسو اور اس کے بعد اسجد کا دھکا۔۔۔وہ پانی پانی ہو کر بہتی چلی گئی۔۔۔۔انگ انگ درد سے لبریز تھا۔جسم نہیں بلکہ روح زخمی تھی۔۔۔محبت کی ہمراہی میں ترتیب دی گئی زندگی اسے ٹھینگا دکھا رہی تھی۔۔۔اس سے پہلے کہ رات بیت جائے۔۔۔اس سے پہلے کہ محبت نامی اژدھا اسے نگل لے،اسے کسی فیصلے پہ پہنچنا تھا۔بالآخر اذان صبح سنائی دی۔۔
نئے سال کی نئی صبح طلوع ہونے میں کچھ ہی گھنٹے باقی تھی اور وہ اپنی زندگی میں محبت کو ترتیب دے رہی تھی۔۔۔محبت بری نہیں ہوتی،ترتیب ٹھیک ہونی چاہیئے۔یہ تو بہت خوبصورت جذبہ ہوتا ہے۔۔پتہ نہیں کہاں سے اس میں اتنی ہمت آ گئی تھی،عورت سارے فیصلے دل سے کرتی ہے پھر اایک فیصلہ ہاں ایک فیصلہ ایسا ہوتا ہے جس میں دل کی بھی نہیں سنتی اور یہ وہ فیصلہ ہوتا ہے جو چٹانوں سے بھی زیادہ سخت ہوتا ہے،جس کے سامنے کوئی نہیں ٹھہر سکتا،منہا جو چھپکلی سے ڈر کے ساری رات بتا دیا کر تی تھی،جو اسجد کو چھوڑنے کے نام پہ پاگل ہو جایا کرتی تھی،یہ گھر جس کو اس نے بڑی محنت سے بنایا تھا،دس سالوں کی محنت شامل تھی اس کی زیبائش و آرائش میں،اس نے صوفے کا کشن اٹھا کر دیکھا،پھر اس پہ بنائے گے دلکش پھلکاری پہ ملائمت سے ہاتھ پھیرا،اسے بنانے پہ تین دن لگے تھے،کتنی بار ہمت ہاری،کتنی بار چھوڑا،مگر یہ ڈیزائن اس کے دل کو بھا گیا تھا،سو بنا کے چھوڑا،چلتے چلتے وال پہ نظر ڈلا اور یہ ایپلک ورک سے بنائی گئی سینری جو دور سے ہی آنے والوں کو اپنی طرف متوجہ کر لیا کرتی تھی،پورے چھ ماہ لگے تھے اسے سیکھنے اور بنانے میں،کس کس چیز کا حساب کرتی،مگرآج جو بھی راستے میں آئے گا ،پاش پاش ہو جائے گا،سامنے منہا تھی جو آج پہلی بار دماغ کی سننے جا رہی تھی۔۔۔۔رات بیت چکی تھی۔۔۔صبح کی سفیدی پھیل رہی تھی۔۔۔۔ایک نئے عزم سے نئے سال کے سورج کی پہلی کرن کو ویلکم کہہ رہی تھی۔رات جتنی بھی تاریک ہو گزر ہی جایا کرتی ہے۔بلاشبہ ہر آنے والی صبح یہی پیغام دیتی ہے۔ سیاہ اندھیری رات سے نئی روشن صبح طلوع ہونے کی نوید۔۔۔۔وہ چور چور جسم لئے اٹھ کھڑی ہوئی۔اس گھر سے رخصتی کا وقت آن پہنچا تھا،اپنی زندگی کی آخری نماز پڑھ کر ،اپنا سفری بیگ اٹھائے گھر سےنکل آئی تھی،۔۔۔کہاں جانا تھا اسے خود بھی نہیں معلوم تھا،وہ تو بس یہ جانتی تھی کہ اب اسے اسجد کرامت علی کے ساتھ نہیں رہنا تھا۔۔۔
432