جاپانی لوگوں کی فٹنس اور طویل عمری کا راز کیا ہے؟
بلاشبہ جاپانی لوگ دنیا میں اپنی فٹنس اور طویل عمری کی وجہ سے اپنی خاصی پہچان بناۓ ہوۓ ہیں۔یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے ماہرین اس کھوج میں لگے رہتے ہیں کہ آخر اس فٹنس اور طویل عمر کا راز کیا ہے؟
جاپانی چلتے نہیں بھاگتے ہیں۔
جاپانی لوگوں کے بارے کہا جاتا ہے کہ یہ چلتے نہیں بلکہ بھاگتے ہیں۔سائیکلنگ ان کی من پسند سواری ہے ہر دوسرا بندہ سائیکلنگ کرتا نظر آتا ہے۔فٹ پاتھ ان کے ٹریک ہیں۔جہاں یہ جب چاہیں بھاگ رہے ہوتے ہیں۔ان کی فٹنس کا راز ان کی بھاگ دوڑ اور متحرک زندگی میں چھپا ہے۔ایک اندازے کے مطابق ایک جاپانی دن میں اوسطا 6500 قدم چلتا ہے۔ہر جاپانی تقریبا ہفتے میں تین دن آدھے گھنٹے کی واک ضرور کرتا ہے۔اسی لیے یہاں موٹاپے کی شرح 3.5 فیصد ہے جبکہ اوسط 82.5 سال ہے۔جو باقی تمام ممالک کی نسبت زیادہ ہے۔واک کے علاوہ جاپانیوں کی مخصوص ورزش “ٹائی چی”بھی کی جاتی ہے مگر بنیادی طور پر یہ لوگ ورزش کو پسند نہیں کرتے۔بلکہ واک کو ترجیح دیتے ہیں۔
جاپانیوں کی کھانے کی روایات
جہاں تک جاپانیوں کے کھانے پینے کے عادات و اطوار کا جائز ہ کیا گیا تو پتہ چلا کہ یہ لوگ پیٹ بھر کر نہیں کھاتے۔جیسا کہ اسلامی تعلیمات بھی ہیں۔کہ بھوک رکھ کر کھایا جاۓ۔اس کے علاوہ یہ کھانے کے احتتام پر میٹھے کی بجاۓ گرین ٹی پسند کرتے ہیں۔جو ان کی فٹنس کا اصل راز ہے۔یہ جانتے ہیں کہ میٹھا موٹاپا پیدا کرتا ہے جبھی یہ میٹھے سے اجتناب کرتے ہیں۔اسکے علاوہ سبزیاں اور مچھلی ان کی مرغوب غذائیں ہیں۔سبزیوں کو جس طرح چائنیز اور جاپانی کچا ہکا کر کے کھاتے ہیں اس سے انھیں کافی غذائیت ملتی ہے۔بہ نسبت ہم پاکستانیوں کے جو ذائقے کی خاطر بھونیاں لگا لگا کر ساری غذائیت ختم کر دیتے ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ جاپان کے ہر گھر میں کچن گارڈننگ کی سہولت موجود ہے۔مطلب اگر جگہ نہیں بھی تو بھی کچن کی کھڑکی میں بیل دار سبزیاں ضرور دکھائی دے گیں۔اس کے علاوہ مچھلیاں تک گھروں میں پالی جاتیں ہیں۔تالاب کی جگہ نہیں ہے تو بھی یہ لوگ کشتی کے نچلے حصے کو تالاب کی جگہ دے کر مچھلیاں پال لیتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ روزانہ کی بنیاد پر سو گرام تک مچھلی کھاتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ جاپان میں دل کے امراض کے کم ہونے کے پیچھے بڑی وجہ مچھلی کا استعمال ہے۔
یہ بھی پڑھپیے
سالانہ بنیادوں پر چیک اپ کی مفت سہولت
جاپان میں سالانہ بنیادوں پر مفت چیک اپ کی سہولت موجود ہے یہ بھی جاپانیوں کو فٹ اور صحت مند رہنے میں مدد دیتی ہے۔
ہم پاکستانی جو ستر فیصد معدے کے امراض میں مبتلا ہیں۔شوگر بلڈ پریشر اور دل کے امراض کی بہتات ہے۔انگزائٹی اور ڈپریشن یہاں کا معمول بن چکا ہے۔ایسے میں ان کے طرز حیات میں بدلاؤ بہت ضروری ہو گیا ہے۔جب انسان کے اندر قوت ارادی جیسی خوبیاں ناپید ہو جاتیں ہیں تو پھر ایسی قوانین بطور قوت لاگو کیے جاتے ہیں جن سے قوم کے اندر صحت بخش فارمولے کے تحت دوبارہ سے توانائی بھر دی جاۓ۔جیسا کہ چین نے کیا تھا۔چینی چرس پی پی کر نشے کے وجہ سے بنیادی انسانی جواہر سے محروم ہوگۓ تھے۔پھر انہوں نے سرکاری سطح پر گرم مشروب کو لازمی قرار دیا۔جس سے ان کی پیٹ کی بیماریاں ختم ہوئیں سستی کاہلی سے جان چھوٹی اور آج یہ دنیا کی ترقی یافتہ قوم بن چکی ہے۔پاکستانی کھانے کے بعد پانی اور چاۓ کافی کی بجاۓ گرین ٹی۔۔۔مرغی می بجاۓ مچھلی اور ایکسرسائز نا سہی مگر واک کو یقینی بنائیں تو کچھ شک نہیں کچھ ہی سالوں پاکستان کا نقشہ بدل سکتا ہے۔