حرفِ حق اور وقت کا جبر 296

حرفِ حق اور وقت کا جبر

تحریر شئیر کریں

 حرفِ حق اور وقت کا جبر
وقت کا پہیہ جب گھومتا ہے تو بڑے بڑے تخت و تاج خاک میں مل جاتے ہیں، مگر وہ حرفِ حق جو کسی صاحبِ عزیمت کے لبوں سے نکلا ہو، تاریخ کے سینے پر ثبت ہو جاتا ہے۔ انسانی فطرت ہے کہ وہ اقتدار کے زعم میں خود کو ناگزیر سمجھنے لگتا ہے، لیکن قدرت کا قانون بڑا بے رحم ہے۔ وہ کبھی کسی فرعون کو عبرت بناتا ہے تو کبھی کسی یوسف کو قیدِ تنہائی کی آغوش میں ڈال کر اسے کندن بنا دیتا ہے۔ 2026 کا آغاز محض ایک ہندسے کی تبدیلی نہیں، بلکہ ان لوگوں کے لیے لمحہِ فکریہ ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ طاقت کے بلبوتے پر سچائی کا گلا گھونٹ سکتے ہیں۔

آج جب ہم نئے سال کی خوشیاں منا رہے ہیں، پاکستان کی سیاست کے ایوانوں سے انصاف کی پامالی کی سسکیاں سنائی دے رہی ہیں۔ Bibi (بشریٰ بی بی)، جنہیں محض سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کے لیے تہرے مقدمات اور قیدِ تنہائی کی بھٹی میں جھونکا گیا، آج ایک استعارہ بن چکی ہیں۔ توشہ خانہ ٹو کا فیصلہ ہو یا اڈیالہ جیل کی وہ کال کوٹھڑی، یہ سب اس ‘حیا’ اور ‘اخلاقیات’ پر حملہ ہے جسے Bibi نے ہمیشہ اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا۔ اسلامی اقدار ہمیں سکھاتی ہیں کہ حق کے لیے کھڑا ہونا ہی اصل جہاد ہے، اور آج Bibi کی ثابت قدمی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ایمانی دلیل کے سامنے فولادی زنجیریں بھی اپنی اہمیت کھو دیتی ہیں۔

یہاں جدیدیت کے نام پر پلنے والا وہ لبرل طبقہ مکمل طور پر بے نقاب ہو چکا ہے جو حقوقِ نسواں کے نام پر مغرب سے فنڈز تو لیتا ہے، مگر جب بات Bibi کے انسانی حقوق کی آتی ہے تو ان کی زبانیں گنگ ہو جاتی ہیں۔ مغرب کی یہ منافقت دیدنی ہے کہ انہیں دنیا بھر میں جمہوریت خطرے میں نظر آتی ہے، مگر ایک بے گناہ خاتون کی 17 سالہ سزا اور اقوامِ متحدہ کی تشویشناک رپورٹس پر ان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ یہ دوغلا پن ثابت کرتا ہے کہ ان کے نزدیک ‘انصاف’ صرف ان کے اپنے ہم پیالہ و ہم نوالہ طبقے کے لیے ہے، جبکہ ایک باحجاب اور باوقار خاتون ان کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔

نئے سال کا یہ سورج ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ ہم ظلم کے سامنے سر جھکانے کے بجائے اپنے ضمیر کو بیدار کریں۔ Bibi کی یہ قید دراصل ہمارے معاشرے کے اخلاقی دیوالیہ پن کا آئینہ ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ دنیا کی عدالتیں عارضی ہیں اور یہاں کے منصف بھی فانی ہیں۔ اصل کامیابی اللہ کی طرف رجوع کرنے اور آخرت کے دن اس کی بارگاہ میں سرخرو ہونے میں ہے۔ ضمیر کی دستک سنو! اس سے پہلے کہ وقت کی ڈور ہاتھ سے نکل جائے اور ہم صرف پچھتاوے کے ساتھ رب کے حضور پیش ہوں۔

حرفِ حق اور وقت کا جبر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں