193

حرفِ معتبر :تہذیب کی چادر

تحریر شئیر کریں

حرفِ معتبر :تہذیب کی چادر
کالم نگار: روبینہ شاہین

حرفِ معتبر :تہذیب کی چادر
کالم نگار: روبینہ شاہین
انسانی تاریخ گواہ ہے کہ تہذیبوں کا جوہر ان کی بلند و بالا عمارتوں میں نہیں، بلکہ ان کی اخلاقی قدروں اور عورت کی تکریم میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ جب بھی کسی معاشرے پر زوال کا سایہ لہراتا ہے، تو اس کا پہلا نشانہ “حیا” کی فصیل بنتی ہے۔ حالیہ دنوں میں بھارتی ریاست بہار کے وزیراعلیٰ کی جانب سے ایک باحجاب مسلم خاتون کے نقاب کی طرف ہاتھ بڑھانے کی جسارت محض ایک انفرادی فعل یا حاکمانہ لغزش نہیں، بلکہ اس بیمار ‘سیکولر انتہا پسندی’ کا عکاس ہے جو عورت کو صرف اپنی شرائط پر “آزاد” دیکھنا چاہتی ہے۔
یہ کتنا بڑا فکری تضاد ہے کہ جس دور میں “حقِ انتخاب” (Right of Choice) کو انسانی حقوق کا معراج قرار دے کر ڈھول پیٹا جاتا ہے، اسی دور میں ایک مسلم بیٹی کا اپنے رب کے حکم پر لبیک کہتے ہوئے حجاب کو اپنانا، جدیدیت کے ان نام نہاد علمبرداروں کے لیے ناقابلِ برداشت بن جاتا ہے۔ اگر کوئی عورت اپنی مرضی سے نمائشِ حسن کا حصہ بنے تو اسے “آزادی” کا تمغہ دیا جاتا ہے، لیکن اگر وہی عورت اپنی مرضی سے حیا کی چادر اوڑھ کر وقار کا راستہ چنے، تو اسے “جبر” اور “پسماندگی” کے طعنے دے کر دیوار سے لگایا جاتا ہے۔ ضمیر کی عدالت میں یہ منافقت نہیں تو اور کیا ہے؟
نفسیاتی اعتبار سے دیکھا جائے تو حیا انسان کی وہ فطری اور روحانی ڈھال ہے جو اسے معاشرتی گندگی اور ہوس پرست نگاہوں سے محفوظ رکھتی ہے۔ جب کوئی حاکمِ وقت سرِ عام کسی خاتون کی اس ڈھال پر وار کرنے کی کوشش کرے، تو وہ دراصل اس معاشرے کے ہر گھر کی حرمت اور ہر بیٹی کے وقار کو چیلنج کر رہا ہوتا ہے۔ کیا ان ایوانوں میں بیٹھے شاہ پرستوں کے نزدیک عورت کی عزت صرف اس وقت تک ہے جب تک وہ ان کے وضع کردہ مخصوص “معیارِ جدیدیت” پر پوری اترے؟
آج دنیا بھر میں عورتوں کے حقوق کی مالا جپنے والی این جی اوز اور لبرل دانشوروں کی پراسرار خاموشی ایک عظیم سوالیہ نشان ہے۔ یہ خاموشی ثابت کرتی ہے کہ ان کے نزدیک حقوق کا ترازو صرف ان کے مخصوص نظریات کی آبیاری کے لیے جھکتا ہے۔ لیکن ان مصلحت پسندوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ حجاب صرف ایک لباس نہیں، بلکہ اس پورے مادی نظام کے خلاف ایک مضبوط “اعلانِ بغاوت” ہے کہ مومن عورت اپنی پہچان کا سودا دنیاوی مفادات یا سیاسی جبر کے سامنے کبھی نہیں کرے گی۔
وقت کا تقاضا ہے کہ ہم مصلحت کی چادر اتار پھینکیں اور اس جبری جدیدیت کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر آواز بلند کریں۔ خاموشی مسئلے کا حل نہیں، بلکہ جرم میں برابر کی شرکت کے مترادف ہے۔ ہمیں اپنی بیٹیوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ ان کی اصل طاقت ان کی حیا اور اللہ پر کامل توکل میں ہے۔ اگر آج ہم نے اس ناانصافی پر احتجاج کی غیرت نہ دکھائی، تو کل تاریخ ہمیں اس بدقسمت قوم کے طور پر یاد رکھے گی جس نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنی مقدس قدروں کو بازارِ مصر میں نیلام ہوتے دیکھا۔
کامیابی صرف دنیاوی واہ واہ یا چند ووٹوں کی خاطر کی گئی اداکاری میں نہیں، بلکہ اس ربِ کائنات کے سامنے سرخرو ہونے میں ہے جس نے ہمیں حیا کا آفاقی حکم دیا۔ حجاب ہمارا آئینی حق ہی نہیں، ہماری پہچان، ہمارا وقار اور ہماری آخرت کا زادِ راہ بھی ہے۔
حرفِ معتبر :تہذیب کی چادر
کالم نگار: روبینہ شاہین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں