تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ قوموں کا زوال تب شروع نہیں ہوتا جب ان کے پاس مال و دولت کی کمی ہو جائے، بلکہ زوال تب دستک دیتا ہے جب ان کی گلیوں میں “حیا” اجنبی ہو جائے اور “عصمت” کا تحفظ ایک سوالیہ نشان بن جائے۔ تاریخِ اسلام میں ایک مظلوم بیٹی کی پکار پر سندھ فتح کر لیا گیا تھا، مگر آج ہم اس موڑ پر کھڑے ہیں جہاں ایک عالمہ بیٹی کو اپنی آبرو بچانے کے لیے موت کی آغوش میں پناہ لینی پڑتی ہے۔ فرحانہ کرن کا چلتی گاڑی سے چھلانگ لگانا دراصل اس معاشرے کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ ہے جو خود کو محفوظ کہتا ہے۔
فرحانہ کرن نے ثابت کر دیا کہ ایک مومنہ کے لیے اس کی جان سے بڑھ کر اس کی عفت اور حیا کی قدر ہے۔ لیکن یہ واقعہ ہمیں ایک تلخ سبق بھی دے گیا ہے۔ آج کے پُر فتن دور میں جہاں درندے انسانوں کے روپ میں گھوم رہے ہیں، والدین اور سرپرستوں کے لیے یہ لازم ہو چکا ہے کہ وہ اپنی بیٹیوں اور بہنوں کی حفاظت کے لیے غیر معمولی حفاظتی اقدامات کریں۔ احتیاط کا تقاضا ہے کہ کسی بھی صورت بیٹیوں کو اکیلے سفر پر نہ بھیجا جائے۔ اگر کسی دن ساتھ جانے کے لیے کوئی محرم یا قابلِ بھروسہ فرد میسر نہ ہو، تو اس دن کی چھٹی کر لینا ہزار درجے بہتر ہے، یا پھر ممکن ہو تو آن لائن تعلیم کے آپشن کو ترجیح دی جائے۔ جان اور آبرو کی حفاظت ہر دنیاوی تعلیمی نقصان سے مقدم ہے۔
کتنی ستم ظریفی ہے کہ جدیدیت کے علمبردار اور لبرل طبقہ ہمیشہ عورت کی آزادی اور لباس کو موضوعِ بحث بناتا ہے۔ ہمیں بتایا جاتا تھا کہ پردہ رکاوٹ ہے، مگر آج ایک مکمل باپردہ عالمہ کی شہادت نے ان تمام کھوکھلے دعووں کو دفن کر دیا ہے۔ مغرب کی منافقت دیکھیے کہ وہ ‘انسانی حقوق’ کا شور تو مچاتے ہیں، مگر جب بات اسلامی اقدار کی محافظ بیٹیوں کی ہو تو ان کی زبانیں گنگ ہو جاتی ہیں۔ یہ وہ دوہرا معیار ہے جس نے ہمارے معاشرے کو اخلاقی پستی کی اس کھائی میں لا کھڑا کیا ہے جہاں ایک ٹیکسی ڈرائیور بھی بھیڑیا بن جاتا ہے۔ اگر آج یہاں اسلامی سزائیں نافذ ہوتیں، تو کسی اور فرحانہ کو گاڑی سے چھلانگ نہ لگانی پڑتی۔
فرحانہ کرن تو اللہ کے حضور سرخرو ہو کر پہنچ گئی، مگر پیچھے رہنے والوں کے لیے ایک سوال چھوڑ گئی۔ ہمیں اپنے معاشرے کو ان درندوں سے پاک کرنے کے لیے آواز بھی اٹھانی ہے اور اپنی بیٹیوں کی حفاظت کے لیے ہر ممکن حفاظتی راستہ بھی اپنانا ہے۔ اللہ پاک اس بچی کے درجات بلند فرمائے اور اس کے خون کو اس ملک میں حقیقی اسلامی انقلاب اور عدل و انصاف کے نفاذ کا ذریعہ بنائے۔ اصل کامیابی آخرت کی ہے، اور فرحانہ نے اپنی عفت کا سودا نہ کر کے وہ کامیابی پا لی ہے۔