268

خودی کا مسافر

تحریر شئیر کریں

ایک سرد نومبر کی صبح تھی، فضا میں خنکی اور خاموشی کا راج تھا۔ سیالکوٹ کے چھوٹے سے قصبے میں ایک نوجوان لڑکا، اقبال، اپنے کمرے میں بیٹھا خاموشی سے کتابوں میں ڈوبا ہوا تھا۔ اُس کا دل بے چین تھا، گویا کسی نامعلوم راستے کی تلاش میں تھا۔ کھڑکی سے آنے والی ہوا کا ایک ہلکا سا جھونکا اُس کے چہرے کو چھو کر گزرا تو جیسے کسی نے اُس کے دل میں ایک خواب جگا دیا ہو۔

اُس دن اقبال کی آنکھوں میں ایک الگ چمک تھی۔ وہ سمجھ رہا تھا کہ اس کے دل کے اندر کوئی چنگاری ہے جو اُسے چین نہیں لینے دیتی۔ اُس کے ذہن میں ایک سوال گونج رہا تھا، “میں کون ہوں؟ میری منزل کیا ہے؟” یہی سوالات اُس کے لیے راستے کا آغاز بنے۔ وقت کے ساتھ، اُس نے مختلف علوم میں گہرائی پیدا کی، لیکن اس کی پیاس ابھی بھی باقی تھی۔

اقبال نے اپنے اس سفر کا آغاز فلسفہ، دین اور شاعری سے کیا۔ اُس نے قرآن کا گہرا مطالعہ کیا اور اسلامی تاریخ میں چھپے اُس پیغام کو سمجھا جو اُس کے دل کو تسکین دے سکے۔ وہ جانتا تھا کہ محض علم حاصل کرنا کافی نہیں؛ اصل اہمیت اُس شعور کی ہے جو قوموں کو زندہ کر سکے۔ اُس نے اپنے قلم کو اپنا ہتھیار بنایا اور قوم کے نوجوانوں کو اپنی شاعری کے ذریعے خواب دیکھنے کا درس دیا۔

اُس کے الفاظ میں ایک جادو تھا، ایک ایسی طاقت جو سوئے ہوئے دلوں کو بیدار کرتی اور ہر شخص کو اپنے وجود کا احساس دلاتی۔ اُس کی شاعری میں نوجوانوں کو اپنی خودی، اپنی شناخت اور اپنی طاقت کا درس ملتا تھا۔ اُس نے ایک نئی نسل کو اپنی حقیقت سے آشنا کیا اور اُن کے دلوں میں خودی کا چراغ روشن کیا۔

ایک رات، اقبال دعا میں مصروف تھے۔ اُس نے آسمان کی طرف دیکھا اور عاجزی سے کہا، “اے خدا، مجھے ایسے الفاظ عطا کر جو میری قوم کے دلوں میں انقلاب کی چنگاری جگا سکیں۔” اُس کی یہ دعا قبول ہوئی۔ اقبال کی شاعری نے وہ طاقت پیدا کی جو غلامی کی زنجیروں کو توڑنے میں مددگار بنی۔ اُس کے اشعار نے مسلمانوں کو خودی اور عظمت کی طرف متوجہ کیا۔

اقبال کے خواب وقت کے ساتھ حقیقت میں بدلتے گئے۔ اُس کے اشعار نے ہندوستان کے مسلمانوں کے دلوں میں آزادی کی تڑپ پیدا کی اور اُن کو اُن کی منزل کے قریب کر دیا۔ اُس کے لفظوں کی تاثیر نے مسلمانوں کو یاد دلایا کہ اُن کی زندگی محض بقا کے لیے نہیں، بلکہ عظمت اور عزت کے ساتھ جینے کے لیے ہے۔

اقبال کے لفظ آج بھی ہمارے دلوں میں بیداری کی وہ صدا ہیں جو ہمیں خواب دیکھنے اور اپنی حقیقت پہچاننے کا درس دیتے ہیں۔ اُس کے اشعار کی گونج آج بھی ہمیں اُس خواب کا سفر طے کرنے کی یاد دہانی کراتی ہے جو اُس نے کبھی سرگودھا کے اُس چھوٹے سے کمرے میں دیکھا تھا۔

یوں اقبال ایک خواب سے حقیقت کے مسافر بن گئے۔ وہ ایک ایسا رہنما تھے جس نے خوابوں کو حقیقت کا روپ دیا اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک عظیم مثال بن گئے۔ اقبال کا پیغام آج بھی ہمیں یاد دلاتا ہے کہ خودی کی تلاش اور خوابوں کا سفر کبھی نہیں رکنا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں