علماء ،حفاظ ،قراء اور مدارس کو سلیوٹ
ساری دُنیا میں لاکھوں حفاظ، رمضان کی ہر رات آٹھ آٹھ اور بیس بیس رکعتوں میں مکمّل قرآن حکیم سناتے ہیں.
ہر ہر گاؤں گاؤں، ہر ہر قریہ قریہ، ہر ہر بستی، ہر ہر گلی گلی،ہر ہر کوچہ، ہر ہر ملک ان کی تلاوت قرآن سے گونجتا ہے..
یہ لوگ کہاں سے پڑھ کر یہ عظیم شرعی فریضہ سرانجام دینے کے قابل ہوتے ہیں؟
سکولوں سے؟
کالجوں سے؟
یونیورسٹیوں سے؟
ہرگز نہیں..۔۔
پھر یہ لاکھوں حفاظ کس نے مُہیا کیے؟
اتنی بڑی تعداد کہاں سے امڈ پڑی؟
کس نے تیار کی اتنی بڑی کھیپ ؟
کیا حفظ قرآن پہ نوکریاں دی جا رہی ہیں؟
بالکل نہیں..
تو پھر کیوں چار چار پانچ پانچ سال لگا کر یہ لوگ حافظ قرآن بنتے ہیں؟
آج کسی بھی مسجد کے لیے حافظ قرآن کی دستیابی کوئی مشکل معاملہ نہیں..
آخر امت کی یہ ضرورت کس نے پوری کی؟
ساری دنیا کو اتنی وافر مقدار میں حفاظ کس نے مہیا کیے؟ تیس تیس پارے وہ بھی عربی زبان میں، انہیں کس نے یاد کروائے؟
جواب صرف ایک ہی ہے یعنی
دینی مدارس، دینی مدارس، دینی مدارس
وہی دینی مدارس..
جن پہ صبح شام طعنے کسے جاتے ہیں، ان کے خلاف نفرتوں کے الاؤ بھڑکائے جاتے ہیں، ان کے خاتموں کے منصوبے بنائے جاتے ہیں.. ان پہ طرح طرح کے کیچڑ اچھالے جاتے ہیں، انہیں مذہبی تجارت گاہیں قرار دیا جاتا ہے .
مگر وہ پھر بھی اپنی دھن میں مست دین خدا کے فروغ کے لیے شب و روز کوشاں ہیں، نہ آمدنی کی فکر، نہ بچوں کے مستقبل کی پریشانی، نہ روٹی کی حرص و ہوس..
جو لوگ کہتے ہیں کہ مدارس مولویوں کا بزنس ہیں،
انہیں کھلے دل سے آفر ہے کہ وہ اپنے اپنے کاروبار مولویوں کے سپرد کر کے ان سے مساجد و مدارس کا یہ عظیم بزنس بے دھڑک وصول کر سکتے ہیں، تاکہ یہاں کے جملہ مفادات انہیں اور ان کے بچوں کو حاصل ہو سکیں.
مَدارِس کا شکریہ
علماء کا شُکریہ
حفاظ کا شکریہ
اساتذہ کا شکریہ
اماموں کا شکریہ
خطیبوں کا شکریہ
جو اپنا تن من دھن وار کر، سب کوسنے سن کر، سب طعنے برداشت کر کے… شب و روز دین خدا کی سربلندی کے لیے مصروف عمل ہیں. جن کے دم قدم سے دین کے تمام باغیچے آباد ہیں.
اور ایک چھوٹی سی دعا ان لوگوں کی ہدایت کے لئے جن کے سینے ان کی مخالفت میں بھڑک رہے کہ رب کریم ان کے سینوں کو ان کی محبت سے ٹھنڈک عطا فرمائے آمین