رمضآن ڈائری 23 322

رمضان ڈائری 23

تحریر شئیر کریں

23 رمضان 1446
24 مارچ 2025

رمضان کا مزہ بچوں کی شرارتوں سے دوبالا ہو جاتا ہے۔ جب سے بریرہ آئی ہے، تب سے، جب وہ دو سال کی تھی، اس نے رمضان شناسی سیکھ لی تھی۔ تیسرے سال ہر روز بیٹھ جاتی کہ افطاری ہونے لگی ہے۔ اسی طرح اب وہ مکمل سیکھ گئی ہے ماشاء اللہ، سوائے اس کے کہ سحری کی اذان پہ جب روزہ بند ہوتا، وہ اسے افطاری ہی سمجھتی ہے۔ ماشاء اللہ!

قرآن جرنلنگ
سورہ فرقان کی آخری آیات میں کسی بات پہ الجھی ہوئی تھی، دل پر ایک بوجھ محسوس ہو رہا تھا اور ساتھ میں تلاوت کر رہی تھی کہ اچانک وہ آیات آئیں:

_”کیا تم صبر کر سکتے ہو؟”_

بالکل ماں کے انداز میں جب گرم گرم روٹی منہ میں ڈالیں تو آواز آتی ہے، _”صبر ہے کہ نہیں؟”_ بالکل اللہ کے کلام میں وہی ماں والی ڈانٹ تھی۔ میں جو دھیرے دھیرے ڈپریشن کی لہر کے زیر اثر تھی، چونک اٹھی اور کہہ دیا، _”جی اللہ میاں! میں صبر کر سکتی ہوں اور کروں گی، ان شاء اللہ۔”_

روزہ نام ہے صبر کا، میرے اندر اس کی ہمیشہ سے کمی رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے اللہ نے بڑے سخت امتحانوں میں ڈالا تاکہ میں صبر سیکھ سکوں۔ عملی صبر سیکھنا ہو تو رمضان سے بہتر کیا؟ ہر رمضان افطاری کے بعد دو کپ چائے پیتی تھی، مگر اب سردی ہے، پھر بھی ایک پر اکتفا کر رہی ہوں۔ کوئی فرمائش نہیں، کوئی مرضی نہیں۔ مالک کے آگے سب سرنگوں ہیں، غلام تو غلام ہوتا ہے، اس کی کیا مرضی؟ جو مل جائے، شکر، اور جو نہ ملے، تب بھی شکر!

ضد سے ضبطِ نفس تک
پہلے مجھے اپنی مرضی منوانے کی عادت تھی، خاص طور پر اپنے شوہر سے شاپنگ کروانے میں ضد کرنا عام سی بات تھی۔ مگر اس بار عجیب تبدیلی آئی۔ انہوں نے خود جوتے دلوانے کا کہا، مگر میں نے انکار کر دیا۔ نہ دل میں کوئی ضد، نہ خواہش! یہ رمضان کی تربیت تھی یا صبر کا عملی مظاہرہ؟ پتہ نہیں، مگر دل میں ایک سکون تھا کہ بس جو اللہ چاہے وہی بہتر ہے۔

یہ احساس صبر کی ایک اور سطح تھی، جہاں نہ زبردستی رہی، نہ ضد، نہ خواہش کا بوجھ۔ بس ایک خاموش اطمینان کہ جو میرے نصیب میں ہوگا، وہ خود آئے گا۔

پہلے رمضان میں دو جوڑے ہی ہوتے تھے، وہی پہن کر خوش ہو جاتی تھی، مگر اب بغیر کسی ضد یا خواہش کے اللہ نے چار دلوا دیے۔ یہ بھی شاید اللہ کا ایک انعام ہے کہ جب دل میں قناعت آ جائے، تو وہ بے حساب نوازتا ہے۔

دعا کی چادر

آخری پہرہ، دعا “رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا” کو اوڑھنا بچھونا بنا لیا ہے۔ یہی دعا ہر وقت دل و دماغ پر طاری رہتی ہے، ہر مشکل لمحے میں یہی الفاظ زبان پر آ جاتے ہیں۔ اللہ کریم ہمیں صبر کی دولت عطا کرے اور اسے ہماری زندگیوں میں عملی طور پر نافذ کر دے۔ آمین!

رمضان ڈائری
23 رمضان

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں