سائبر کرائم اور اسکی سزائیں
سائبر کرائم کیا ہے؟
موجودہ دور میں ٹیکنالوجی کا ستعمال بہت بڑھ گیا ہے۔اب تقریبا ہر شخص کی سوشل میڈیا تک رسائی ہے۔فیس بک،اٹویٹر اور انساٹا گرام وغیرہ کا استعمال جوں جوں بڑھ رہا ہے ویسے ویسے اسکی جرائم کی شرح میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔اور اس صورت میں کرائم ہونے یا کرنے کا اندیشہ اور بھی بڑھ جاتا ہے جب لوگوں کو اس کے بارے میں مکمل آگاہی نا ہو۔ذیل میں ان جرائم کو ڈسکس کیا جاۓ گا جو سائبر کرائم کے زمرے میں آتی ہیں۔اور انکی سزا کیا ہے؟
سائبر کرائم کے جرائم اور سزائیں
بغیر اجازت موبائل یا لیپ ٹاپ چیک کرنا:
کسی شخص کا بغیر اجازت کے موبائل چیک کرنا بھی سائبر کرائم میں آتا ہے۔اسکی سزا تین ماہ قید اور پچاس ہزار جرمانہ ہے۔
کسی شخص کا ڈیٹا چیک کرنا یا میسجز وغیرہ کرنا بھی سا ئبر کرائم میں آتا ہے۔اس کی سزا چھ ماہ قید اور ایک لاکھ جرمانہ ہے۔
ڈیٹا ڈیلیٹ کرنا:
کسی شخص کے لیپ ٹاپ یا موبائلسے ڈیٹا ڈیلیٹ کرنا بھی جرم کے زمرے میں آتا ہے۔اسکی سزا پانچ لاکھ جرمانہ اور پانچ سال ہی قید ہے۔دونوں سزائیں ایک ساتھ بھی ہو سکتیں ہیں۔
ملکی سالمیت کے ڈیٹا تک رسائی:
ملک کی اہم ویب سائیٹس اور ڈیٹا تک رسائی حاصل کرنا بھی سائبر کرائم میں آتا ہے۔اسکی تین سال قید اور دس لاکھ جرمانہ ہے۔
اسی طرح ایسی کسی بھی ویب سائیٹ سے ڈیٹا کاپی کرنا بھی جرم ہے اور اسکی سزا پانچ سال قید اور پچاس لاکھ جرمانہ ہے۔
الیکڑانک فراڈ:
اپنی الیکٹرانک ڈیوائس سے کسی اور کی ڈیوائس موبائل وغیرہ پر ایسے میسجز بھیجنا جیسے احساس پروگرام وغیرہ کا نام استعمال کر کے کہ آپ کا اتنے پیسے نکل آۓ ہیں۔یا بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت میسجز بھیجنا اور جرم ثابت ہونے پر دو سال قید اور جرمانہ بھی ہے۔
سائبر کرائم کی رپورٹ کہاں کریں؟
اس کے علاوہ کسی کا اکاونٹ ہیک کرنا کسی کو فحش مواد ٹیگ کرنا یہ سب قابل سزا جرائم ہیں ۔جس پر قید اور جرمانہ دونوں یو سکتے ہیں لہزا اب سے بچنا چاہیے اور اگر آپ کے ساتھ کوئی یہ جرم کر رہا تو ایف بی آئی کے سائبرکرائم ونگ کو اس کی شکایت کرنی چاہیے۔
فون نمبر:٩٩١١
ویب سائیٹ:fia.gov.pk
درج بالا نمبرز اور ویب سائیٹ پر جا کر اطلاع کرے۔وہ فورا ایکشن لیں گے۔