سورۃ ملک سیکھنے کے بعد میری زندگیمیں کئی مثبت تبدیلیاں آئیں۔ سب سے بڑی بات یہ کہ میں نے اللہ تعالیٰ کا صحیح تعارف پایا۔ یہ سمجھ آ گیا کہ جو رب پرندوں کو آسمان میں تھامے ہوئے ہے، وہی ہمارے چھوٹے بڑے مسائل بھی حل کرنے پر قادر ہے۔ دل میں اللہ کا خوف بڑھ گیا اور دنیا کے لوگوں کا خوف کم ہو گیا۔ حق بات کہنے کی ہمت پیدا ہوئی اور قرآن سے محبت مزید بڑھ گئی۔ پہلے صرف پڑھتی تھی، اب سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کا شوق بھی پیدا ہو گیا ہے۔ ایک ذہنی تبدیلی یہ بھی آئی کہ دنیا کے بجائے آخرت کو زیادہ اہم سمجھنے لگی ہوں۔ یہ بھی جانا کہ اپنی حالت بدلنے کے لیے خود کو بدلنے کی کوشش کرنی ہوگی کیونکہ اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے: “یقیناً اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلے” (سورۃ الرعد: 11)۔
اگرچہ دل میں ابھی بھی کئی خوف موجود ہیں، لیکن اللہ پر اعتماد اور دین کی بات کرنے کا حوصلہ بڑھا ہے۔ سورۃ ملک نے مجھے اللہ تعالیٰ کی قدرت، رحم، علم اور رزق دینے والے ہونے کا شعور دیا۔ اب میں اپنے مسائل اللہ کے سامنے رکھتی ہوں اور قرآن سے رہنمائی تلاش کرتی ہوں۔ اس سے دل کو سکون اور اطمینان ملتا ہے۔
میرا توکل اب بہت بڑھ چکا ہے۔ میں نے سمجھا کہ توکل کا مطلب صرف انتظار کرنا نہیں، بلکہ اپنی بھرپور کوشش کے بعد اللہ پر بھروسہ کرنا ہے: “اور یہ کہ انسان کے لیے وہی ہے جو اُس نے کوشش کی” (سورۃ النجم: 39-40)۔
اس سفر میں میں نے خود کو پہچاننا بھی شروع کیا۔ بچپن تو اچھا گزرا مگر مشترکہ خاندان کے تلخ تجربات نے اندر غصہ اور نفرت بھر دی تھی۔ ایک وقت آیا کہ ڈپریشن کا شکار ہو گئی، مگر پھر اللہ کی طرف رجوع کیا۔ سورۃ ملک نے یہ یقین دیا کہ میرا دنیا میں ہونا بے مقصد نہیں۔ اب کوشش کرتی ہوں کہ منفی جذبات سے نکل کر ایک مثبت، تعمیری اور بامقصد زندگی گزار سکوں۔