صبرو رضا کا پیکر اور سفر آخرت
آج پیارے بھائی زبیر سلمان کو اللہ کے پاس گئے ہوئے تین دن ہو گئے یقینا اللہ نے ان کی بہترین مہمان نوازی کی ہو گی فرشتوں نے بڑھ کر ان کی روح کو اپنے جلو میں لے لیا ہو گا اور ایک دوسرے سے کہتے ہوں گے کہ آج دنیا سے قرآن کا ایک عاشق آیا ہے
وہ ریشمی خوشبودار رومال میں لے کر اللہ کے حضور ان کی روح کو لے کر حاضر ہونے کے لیے سبقت لے جانے کی کوشش میں ہوں گے اور اللہ پاک کہیں گے ہاں یہ میرا بندہ ہے اس کو علیین میں ٹھہراؤ اور اس کا اعزاز و اکرام کرو انشاءاللہ
بھائی کی بیماری تین سال پرانی تھی 2018 میں تشخیص ہوئی کینسر جیسےموذی مرض سے پوری بہادری تحمل اور بردباری کے ساتھ لڑے سعودی عرب میں تھے بیوی بچوں کو منع کردیا کہ پاکستان میں خبر نہ کرنا وہ لوگ دور ہیں گھبرائیں گے پھر اللہ نے شفا دی اور واپس پاکستان آئے
ابھی تین ماہ پہلے ہی ہمیں اس بیماری کی اطلاع ہوئی جب ان کی طبیعت خراب ہو ی کہ 3 سال بعد بیماری نے پھر حملہ کیا تھا اس دفعہ یہ اتنا شدید تھا کہ بس ڈیڑھ ماہ میں ہی معاملہ ہاتھ سے نکل گیا اور اللہ کا حکم آ گیا
ایک ہفتے پہلے تک انتہائی کمزوری کے باوجود اور اس بات کو جاننے کے باوجود کے اب رخصتی کا وقت ہے نہ ان کی زبان پر کوئی شکوہ تھا اور نہ درد کی شکایت ڈاکٹر حیران تھے اس قدر سخت مرحلے میں صبر کا یہ انداز کہ قریب میں بیٹھے فرد کو ان کی تکلیف کا پتہ نہیں ہوتا تھا
ہاں اگر انہیں کوئی غم تھا تو آخری دنوں میں اس بات کا تھاکہ قرآن ہاتھ میں لے کر پڑھ نہیں سکتے زمین میں سجدہ نہیں کر سکتے مسجد نہیں جا سکتے
فجر کی نماز میں معمول تھا تلاوت قرآن کرتے ہوئے جاتے ان کا قرآن سے یہ تعلق دراصل اللہ سے تعلق کا سلسلہ تھا ترجمہ تجوید گرایمر لگن سے پڑھا
پچاسوں بچوں کو اللہ سے اور قرآن سے جوڑنے کی بھرپور کوشش کی سعودی عرب میں برسوں رہے اور جدہ کے محلوں کےبچوں کو ہر جمعہ اپنے گھر میں پروگرام میں بلاتے ان کی پسند کی چیزیں لاتے آگے بڑھانے کے لیے تحفے بازار سے خود لے کر آتے اور اپنے بچوں سارہ سدرا سعد اور حسن سے پیک کرواتے یہ تحائف چھوٹے چھوٹے کاموں کے سیکھنے اور نمازوں پر ہوتے پارکوں میں لے کر جاتے کھیلتے کھلاتے سعودی عرب کے فارم ہاؤس(کتیبہ) میں بچوں کو پورے دن کی تفریح میں لے جاتے مزیدار کھانوں کا اہتمام کرتے
مہمان نواز ایسے کہ ان حالات میں بھی آنے والوں کو کھلاے بغیر رخصت کرنے پر آمادہ نہ ہوتے
کتابوں اور پودوں سے محبت تھی کتابوں رسالوں پرکور چڑھا کر رکھتے لے جانے والوں کو تاکید ہوتی اسی حالت میں واپسی ہونی چاہیے
وہ جو رسول کا فرمان ہے نہ کہ اگر قیامت آ رہی ہو اور لگانے والےکے ہاتھ میں کوئی پودا ہو تو وہ اسے زمین میں لگا دے ان کے یہی اطوار تھے زندگی میں قیامت صغری کا ثور بیماری نے پھونک دیا تھا جانتے تھے سمجھتے تھے لیکن پھر بھی اپنے پودوں اور پنیری کا دھیان تھا کچھ وقت اس میں لگاتے پانی دیتے ان پر اسپرے کرتے نئے پودے لگاتے
آخری ہفتے انگلیوں میں گننے کے انداز میں حساب لگاتے واسعہ بھابھی بتاتی ہیں کہ جمعہ کا حساب لگا رہے ہوتے تھے اللہ نے ان کے دل کی بات پوری کی اور انہیں جمعہ کا دن اور جمعہ کی نماز عطافرمائی بچوں کے لئے ایک دن پہلے مختصر خط لکھا کہ میرے بعد نماز کا دھیان رکھنا اور اقامت دین کی جدوجہد جاری رکھنا بچوں کو ہاتھ ہلا کر خدا حافظ کہا شہادت کی انگلی سے آسمان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے رخصت ہوئے کہ
موت برحق ہے تو پھر موت سے ڈرنا کیسا
ایک ہجرت ہی تو ہے نقل مکانی ہی تو ہے#
غزالہ عزیز