541

عید کی چوڑیاں

تحریر شئیر کریں

تحریر : ہانیہ ارمیا
میں اپنے بابا کی لاڈلی اور اکلوتی بیٹی ہوں میرا نام امثال یے دو بھائیوں کے بعد بابا ,ماما نے بہت دعاؤں سے مجھے مانگا بابا کو میرے ہاتھ, پاؤں بہت پسند تھے وہ کہتے تھے امثال تمھارے ہاتھ , پاؤں بالکل ماں جی کے جیسے ہیں تمھارے ہاتھوں کی نرمی مجھے ماں جی کی یاد دلاتی ہے انھیں بہت پسند تھا کہ میں ہاتھوں میں چوڑیاں پہن کے رکھوں مہندی لگاؤں پازیب پہنوں کیونکہ یہ سارے شوق دادی جان کے تھے دادی جی کے فوت ہو جانے کے بعد بابا ان کو بہت یاد کرتے تھے سکول جانے کی وجہ سے میں ہر وقت چوڑیاں , مہندی , پازیب کے شوق پورے نہیں کر سکتی تھی مگر عید کی دنوں میں بابا میرے لیے نت نئی چوڑیاں اور پازیب کی جوڑی لا کر دتیے چاند رات کو مجھے مہندی لگوا کے لاتے اور یوں عید کے دنوں میں میں چھن چھن کرتی پورے گھر میں گھومتی پھرتییہ چند سال پہلے ہی کی تو بات ہے جب ہماری کام والی ماسی عید کے روز اپنی بیٹی کو بھی ساتھ لے آئی تاکہ کام جلد نپٹا کے جا سکے وہ لڑکی لگ بھگ میری عمر کی تھی عید کی وجہ سے کپڑے تو اس نے کچھ صاف ستھرے پہن رکھے تھے مگر اس کے خالی بازو , سادہ انگلیوں سے مجھے وحشت ہو رہی تھی آج عید ہے تو اس نے مہندی کیوں نہیں لگائی چوڑیاں کیوں نہ پہنیں, جھمکے کیوں اس کے کانوں میں نہیں, یہ سوال اور اس کا سادہ وجود مجھے پریشان کر رہا تھا میرے کمرے سے صفائی رہنے دو سونیاجیسے ہی وہ میرے کمرے میں آئی تو مجھے اس سے بات کرنے کا بھی موقع مل گیانہیں باجی, بڑی باجی غصہ ہوں گیمیں ماما کو نہیں بتاؤں گی کہ تم نے میرا کمرہ صاف نہیں کیا پریشان نہیں ہو تم ,,, اور سنو ادھر میرے پاس آؤ (میں نے ڈریسنگ ٹیبل کے قریب اسے بلایا)جی باجی (وہ بالکل ایک فرماں برداد ملازم کی طرح پیش آرپی تھی)سنو یہ چوڑیاں , جھمکے اور پازیب تم لے لو بالکل نئی ہیں ابھی میں نے نہیں پہنی میں ,, میں کیوں باجی ؟ارے عید کا تحفہ سمجھ کے لے لوسچ ہاں بالکل سچاور وہ سب لے کر اس کی آنکھوں میں خوشی کی جو چمک تھی اس جگمگاہٹ نے مجھے ایک نئی سوچ دی کہ اصل عید تو دوسروں کو خوشی دینے میں یے اس عید میں تمام دن اس سرور میں رہی کہ میری ذرا سی ہمدردی نے کسی کو خوشی دی میں بھی کسی کے کام آ سکیاس واقعے کو چار سال گزر چکے ہیں مگر میں ہر سال عید الفطر اور عید الاضحیٰ پہ لازمی کوئی ایسا تحفہ کسی مستحق کے لیے لیتی ہوں جس کو دے کے میں حقیقی عید کی خوشی پا سکوں دوستو آپ کو یہ واقعہ سنانے کا مقصد صرف یہ ہے کہ عید خوشی کا دن ہے اور خوشی بانٹنے سے بڑھتی ہے ہم نماز پڑھ کے رب کو راضی کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر وہ تو دکھی دلوں میں رہتا ہے تو جتنا ہم کمزور کا سہارا بنیں گے اتنا خدا کے نزدیک ہوتے جائیں گے عید کے دن نماز پڑھنے کے بعد کوئی ایسا نیک عمل بھی کریں جو عید کے لطف اور سکون کو دوبالا کر دے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں