تحریر: روبینہ شاہین
تاریخ: 21 دسمبر 2025

تاریخ کے دسترخوان پر جب بھی انسانیت کے زخم سجے ہیں، ابلیسی قوتوں نے ہمیشہ “عدلِ الہیٰ” پر سوال اٹھا کر اپنے ضمیر کی خلش کو مٹانے کی کوشش کی ہے۔ حال ہی میں جاوید اختر صاحب نے ایک بار پھر وہی بوسیدہ اور پٹا ہوا سوال اٹھایا جو دو ہزار سال قبل یونانی فلسفی ایپیکورس کی زبان سے نکلا تھا کہ “اگر دنیا میں شر ہے، تو خدا کہاں ہے؟”۔ موصوف فرماتے ہیں کہ غزا میں بچوں کے چیتھڑے اڑ رہے ہیں اور خدا تماشائی بنا بیٹھا ہے، اس سے بہتر تو ایک ملک کا وزیراعظم ہوتا ہے جو کچھ نہ کچھ تو کرتا ہے۔
سبحان اللہ! عقلِ عیار پر ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے۔ یہ وہی جاوید اختر ہیں جو ساری عمر “انسان کی عظمت” اور “انسان کے ارادے” کے گیت گاتے رہے، مگر جب امتحان کی گھڑی آئی تو اسی انسان کو ایک بے بس روبوٹ ثابت کرنے پر تل گئے جس کی ڈوریاں (معاذ اللہ) عرشِ بریں سے ہلنی چاہئیں۔
اصل سوال غزا کا ظلم نہیں، اصل سوال “انسان” کی گمشدگی ہے!
یہ کائنات، یہ زمین اور اس کی بساط اللہ رب العزت نے سجا کر اشرف المخلوقات کے حوالے کی تھی۔ اسے عقل دی، شعور دیا، الہامی کتابیں دیں اور سب سے بڑھ کر “اختیار” کی امانت دی تاکہ وہ اس زمین پر عدل قائم کرے۔ اب اگر بم اسرائیل گرا رہا ہے، میزائل نیتن یاہو برسا رہا ہے اور ٹریگر پر انگلی کسی صیہونی کی ہے، تو کٹہرے میں اللہ کو کھڑا کرنا کہاں کی دانشوری ہے؟ کیا انسان قتل بھی خود کرے اور الزام بھی خدا پر دھر دے؟
سورہ روم میں خالقِ کائنات نے صدیوں پہلے اس کا نقشہ کھینچ دیا تھا:
> “خشکی اور تری میں فساد برپا ہو گیا ہے ان کاموں کی وجہ سے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کیے”۔
>
جاوید اختر صاحب کی منطق تو ایسی ہی ہے کہ ملک میں عدالتیں موجود ہوں، قانون کی کتابیں بھری پڑی ہوں، مگر ایک مجرم قتل کر کے کہے کہ “چونکہ جج نے میرا ہاتھ نہیں روکا، اس لیے عدالت وجود ہی نہیں رکھتی یا وہ مجرم کی حامی ہے”۔ ارے نادان! اگر خدا ہر موڑ پر مداخلت کر کے انسان کا ہاتھ پکڑ لے، تو پھر انسان اور جانور میں فرق کیا رہا؟ پھر نہ کوئی اخلاق باقی رہے گا، نہ امتحان، نہ جزا اور نہ سزا۔ پھر تو ہٹلر کو بھی جرم سے پہلے موت آ جاتی اور فرعون کبھی فرعون نہ بنتا۔ مگر یاد رکھو، یہ دنیا فرشتوں کے لیے نہیں، انسانوں کی آزمائش کے لیے بنائی گئی ہے۔
اللہ نے سورہ بقرہ میں صاف فرما دیا:
> “اور ہم ضرور تمہیں آزمائیں گے خوف اور بھوک اور مالوں اور جانوں اور پھلوں کے نقصان سے، اور اے نبیﷺ! بشارت دے دیجیے صبر کرنے والوں کو”۔
>
الحاد کی نظر میں غزا ایک “حادثہ” ہے، مگر صاحبِ ایمان کی نظر میں غزا ایک “گواہی” ہے۔ یہ گواہی ہے ان ظالموں کے خلاف جو معصوموں کا لہو پی رہے ہیں، اور ان خاموش تماشائیوں کے خلاف جو انسانیت کے لبادے میں بھیڑیے بنے بیٹھے ہیں۔
ظلم کا وجود خدا کے انکار کی دلیل نہیں، بلکہ آخرت کے لازم ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ اگر اس دنیا میں انصاف مکمل ہو جاتا، تو کسی روزِ محشر کی ضرورت نہ رہتی۔ خدا نے ظالم کے حساب کے لیے وہ دن مقرر کر رکھا ہے جہاں اقتدار کی کرسیاں ہوں گی نہ ویٹو پاور، وہاں صرف عدل ہوگا۔
جاوید اختر بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ “ہم نے آپ کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ خدا ہے بھی یا نہیں”۔ صاحب! آپ نے کچھ نیا نہیں کیا۔ ابلیس بھی یہی کرتا آیا ہے۔ آپ کی کامیابی یہ نہیں کہ آپ نے سوال اٹھایا، بلکہ آپ کی ناکامی یہ ہے کہ آپ نے اس “اختیار” کا رخ پہچاننے سے انکار کر دیا جو آپ کو ہدایت ڈھونڈنے کے لیے دیا گیا تھا۔ ہدایت زبردستی نہیں دی جاتی، یہ تو طلب گار کو ملتی ہے، جیسا کہ سورہ دہر میں واضح کر دیا گیا کہ “ہم نے تو راہ دکھا دی ہے، اب چاہے شکر گزار بنو یا ناشکرے”۔
غزا کے معصوموں کا لہو ضائع نہیں جائے گا۔ وہ تو سرخرو ہو گئے، مگر سوال ان پر اٹھے گا جن کے پاس طاقت تھی اور وہ خاموش رہے، اور ان پر جو زبان رکھتے تھے اور حق کے بجائے ابلیس کے وکیل بن گئے۔ خدا کو جوابدہ ٹھہرانے والو! ذرا اپنی بساط تو دیکھو۔ ایک زلزلہ، ایک چیخ، ایک دھماکہ… اور تمہاری ہزاروں سال کی منطقیں مٹی میں دفن ہو جاتی ہیں۔
یاد رکھو! حق کے متلاشیوں کے لیے جنت تیار ہے، اور منکرین کے لیے جہنم کا وہ گڑھا پکارے گا: “ہل من مزید” (کیا کچھ اور بھی ہے؟)۔
غزا کے لہو سے الحاد کی کوکھ تک!