331

فاطمہ الفہری دنیا کی پہلی یونیورسٹی کی بانی اور اسلامی تعلیم کی رہنما

تحریر شئیر کریں

فاطمہ الفہری دنیا کی پہلی یونیورسٹی کی بانی اور اسلامی تعلیم کی رہنما

فاطمہ الفہری

(Fatima bint Muhammad Al-Fihriya Al-Qurashiya)

وہ عظیم خاتون ہیں جنہوں نے 857-859 عیسوی میں مراکش کے شہر فیز میں جامعہ القرویین (University of Al Quaraouiyine) کی بنیاد رکھی، جو دنیا کی پہلی تسلیم شدہ یونیورسٹی ہے۔ ان کا یہ کارنامہ نہ صرف اسلامی دنیا بلکہ پوری انسانی تاریخ میں تعلیم کے فروغ کا ایک سنگ میل ہے۔

فاطمہ الفہری کا ابتدائی زندگی

فاطمہ الفہری کا تعلق ایک متمول اور علم دوست گھرانے سے تھا۔ ان کے والد محمد الفہری قریش خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور تیونس سے ہجرت کر کے فیز آئے تھے۔ فاطمہ اور ان کی بہن مریم دونوں نے اپنے والد کی وراثت کو تعلیم کی ترقی کے لیے وقف کر دیا۔

جامعہ القرویین کی تعمیر

فاطمہ الفہری نے اپنی بہن مریم کے ساتھ مل کر فیز میں ایک عظیم مسجد اور تعلیمی مرکز کی بنیاد رکھی، جو بعد میں جامعہ القرویین کے نام سے مشہور ہوا۔ اس ادارے نے ابتدا میں ایک مسجد کے طور پر کام شروع کیا، لیکن جلد ہی یہ ایک مکمل یونیورسٹی میں تبدیل ہو گیا۔

یونیورسٹی کی خصوصیات

مخلوط تعلیم: فاطمہ الفہری نے لڑکیوں کی تعلیم پر خاص توجہ دی اور مخلوط تعلیمی نظام متعارف کرایا۔

بین الاقوامی شہرت: یہ یونیورسٹی ریاضی، فلکیات، طب، فلسفہ اور اسلامی علوم کا مرکز بنی۔

گینیز بک آف ورلڈ ریکارڈز: یہ دنیا کی قدیم ترین مسلسل چلنے والی یونیورسٹی ہے۔


فاطمہ الفہری کی تعلیمی خدمات

فاطمہ الفہری کو “ام البنیان” (بچوں کی ماں) کا لقب دیا گیا، جو ان کے تعلیمی اور سماجی خدمات کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے:

لڑکیوں کی تعلیم کو فروغ دیا۔

علماء اور طلبہ کے لیے وظائف کا انتظام کیا۔

بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دیا۔

جامعہ القرویین کا عالمی اثر

یہ یونیورسٹی صرف اسلامی دنیا تک محدود نہیں رہی بلکہ یورپ سمیت پوری دنیا کے لیے علم کا مرکز بنی۔ مشہور شخصیات جنہوں نے یہاں تعلیم حاصل کی:

ابن خلدون (مشہور مورخ اور معاشیات دان)

موسیٰ بن میمون (یہودی فلسفی)

جربرٹ آف اورلیک (بعد میں پوپ سیلویسٹر دوم)

فاطمہ الفہری کی میراث

فاطمہ الفہری کی کوششوں نے ثابت کیا کہ عورتیں معاشرے میں تعلیمی انقلاب لا سکتی ہیں۔ آج بھی مراکش میں ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے۔

جدید دور میں جامعہ القرویین

آج بھی یہ یونیورسٹی فعال ہے اور یونیسکو نے اسے عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا ہے۔

فاطمہ الفی کی کہانی صرف ایک یونیورسٹی کی تعمیر تک محدود نہیں، بلکہ یہ عورت کی قیادت میں تعلیمی انقلاب کی داستان ہے۔ ان کا نام ہمیشہ تعلیم اور علم کی روشنی پھیلانے والوں میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔

فاطمہ الفہری دنیا کی پہلی یونیورسٹی کی بانی اور اسلامی تعلیم کی رہنما

—

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں