آج ایک طویل وقفے کے بعد جب زندگی دوبارہ اپنے معمول کی پٹری پر لوٹی اور بچے اسکول روانہ ہوئے، تو گھر کے سناٹے میں خاموشی نے سوچ کے کئی نئے در وا کر دیے۔ یہ خاموشی اکثر انسان کو اپنے آپ سے ہمکلام ہونے کا موقع دیتی ہے۔ ہم آج جس دور سے گزر رہے ہیں، وہاں ہر طرف ایک ‘غیر یقینی’ (Uncertainty) کا پہرہ ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس بے یقینی کے بھنور سے نکلنے کی راہ کیا ہے؟
فطرت سے جنگ اور میڈیا کا واویلا
موسمیاتی تبدیلیوں پر آج ہر شخص نالاں ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہم نے خود فطرت کا توازن بگاڑا ہے۔ اب جب موسم اپنی آمد کا پتہ دیتے ہیں، تو ہمیں اعتراض ہونے لگتا ہے۔ یہاں میڈیا کا کردار بھی کچھ کم نہیں؛ خبروں میں موسم کی سختی کو جس طرح ‘ہولناک’ بنا کر پیش کیا جاتا ہے، وہ عام آدمی کے اعصاب پر سوار ہو کر اسے نفسیاتی مریض بنا رہا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ بدلتے موسم ربِ کائنات کا نظام ہیں، ان پر واویلا کرنے کے بجائے ان کے ساتھ ہم آہنگ ہونا سیکھنا چاہیے۔
جنگوں کا منبع: میدانِ کارزار یا بیڈروم؟
ہم اکثر بڑی جنگوں کا رونا روتے ہیں، مگر کبھی غور نہیں کیا کہ جنگ کا بیج کہاں بویا جاتا ہے؟ میری سوچ کی پرواز جب اس نکتے پر پہنچی تو معلوم ہوا کہ جنگیں سرحدوں پر نہیں، بلکہ گھروں کے بیڈرومز اور صحنوں میں جنم لیتی ہیں۔ جب گھر کے اندر نفرت، حسد اور انا کی دیواریں کھڑی ہو جائیں، تو وہی رویے باہر نکل کر معاشرتی اور پھر عالمی جنگوں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔
رشتوں کی سیاست اور مرد کی مظلومیت
آج ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا تضاد رشتوں کی ٹوٹ پھوٹ ہے۔ یہ کتنی عجیب بات ہے کہ بہنیں دور ہو کر بھی دل کے قریب ہیں، جبکہ بھائی قریب رہ کر بھی ایک دوسرے سے کوسوں دور ہو چکے ہیں۔ اس دوری کی بڑی وجہ گھروں میں ہونے والی ‘خواتین کی سیاست’ ہے۔
مردوں میں ہارٹ اٹیک (Heart Attack) کی بڑھتی ہوئی شرح محض اتفاق نہیں ہے۔ وہ آج ایک ایسی چکی کے دو پاٹوں (ماں، بہن اور بیوی) کے درمیان پس رہا ہے جہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ اسے سجھائی نہیں دیتا۔ ہم نے بیٹیوں کو ‘پرایا’ کہہ کر ان کے حقوق سے چشم پوشی کی، تو دوسری طرف بیٹوں پر توقعات اور ذہنی دباؤ کا وہ پہاڑ لاد دیا جو سراسر زیادتی اور حرام کے زمرے میں آتا ہے۔
حل: اپنی ذات سے آغاز
اگر ہم واقعی دنیا میں امن کے خواہاں ہیں، تو اس کا نسخہ بہت سادہ مگر کٹھن ہے۔ ہمیں اصلاح کا آغاز:
پہلے اپنی ذات سے کرنا ہوگا۔
پھر اپنے گھر کے ماحول کو محبت اور انصاف سے بھرنا ہوگا۔
تب ہی معاشرے اور باقی دنیا میں امن کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے گا۔
آج کی یہ بے خوابی میرے لیے ایک فکری مہمان بن کر آئی، جس نے یہ احساس دلایا کہ جب تک ہم اندرونی خلفشار ختم نہیں کریں گے، باہر کا امن ایک سراب ہی رہے گا۔
رب رکھا!
قلم کتاب