قانتہ رابعہ: لفظوں کی نصف صدی کا سفر 314

قانتہ رابعہ: لفظوں کی نصف صدی کا سفر

تحریر شئیر کریں

کالم حرف معتبر:روبینہ شاہین

 قانتہ رابعہ: لفظوں کی نصف صدی  کا سفر

تخلیق کا سفر دراصل خود کو مٹانے اور سچائی کو زندگی دینے کا نام ہے۔ مفکرین کا ماننا ہے کہ تاریخ کے اوراق پر وہی نام زندہ رہتے ہیں جنہوں نے اپنے قلم کو صرف شہرت کا ذریعہ نہیں بلکہ معاشرے کی فکری تعمیر کا آلہ بنایا۔ پچاس کتابوں کی یہ طویل مسافت اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جب شعور کی شمع جلتی ہے تو وہ ہزاروں چراغوں کو روشن کرنے کا سبب بنتی ہے۔

قانتہ رابعہ کی پچاسویں کتاب کی رونمائی محض ایک ادبی خبر نہیں، بلکہ اس مستقل مزاجی کا جشن ہے جس کی بنیادیں ‘ایمانی دلیل’ اور ‘اسلامی اقدار’ پر رکھی گئی ہیں۔ برسوں پہلے ان کی کتاب “دل سے نکلے ہیں جو لفظ” نے جو چاشنی اور اثر میرے دل پر چھوڑا، وہ آج بھی تازہ ہے۔ ان کے کالموں میں ‘حیا’ اور ‘اخلاقیات’ کی وہ خوشبو ہے جو قاری کی روح کو معطر کر دیتی ہے۔ پنجاب یونیورسٹی میں ان کے کام پر پی ایچ ڈی ہونا اس سچائی پر مہرِ تصدیق ہے کہ ان کی تحریریں علمی اور تحقیقی معیار پر پوری اترتی ہیں۔

ایک طرف وہ طبقہ ہے جو جدیدیت کے لبادے میں مغربی منافقت کی ترویج کر رہا ہے، اور دوسری طرف قانتہ رابعہ کا باوقار قلم ہے جو ہر قسم کے لبرل تضادات کو بے نقاب کرتا ہے۔ جہاں آج کا ادب سطحی جذبات کی نذر ہو رہا ہے، وہاں آپ نے ثابت کیا کہ سنجیدہ اور پاکیزہ تحریر ہی اصل ‘حرفِ معتبر’ ہے۔ آپ کی پچاس کتب ان تمام فکری یلغاروں کے خلاف ایک مضبوط ڈھال ہیں جو ہماری تہذیب کو مسخ کرنا چاہتی ہیں۔
دل سے نکلے ہیں جو لفظ “پڑھ کر آپ کی تحریر سے گرویدہ ہونے کا سفر جاری و ساری ہے
یہ پچاس کتابیں دراصل وہ ذخیرہ ہیں جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوں گی۔ لکھاری کی اصل کامیابی قاری کی وہ محبت ہے جس سے آپ مالا مال ہیں۔ دعا ہے کہ آپ کا یہ سفر اسی طرح جاری رہے، آپ کا قلم حق کی گواہی دیتا رہے اور یہ علمی خدمات آپ کے لیے توشۂ آخرت اور دائمی کامیابی کا ذریعہ بنیں۔امین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں