665

قرآن مجید ناظرہ کی روایت توڑ ڈالیے

تحریر شئیر کریں

قرآن مجید ناظرہ کی روایت توڑ ڈالیے


قرآن تمام علوم کا سرچشمہ ہے۔اس کا پڑھنا اور پڑھانادونوں باعث ثواب اور اجر عظیم ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ قرآن بلندیوں تک لے جاتا ہے۔فی زمانہ جہاں ہر چیز جدت اختیار کر چکی ہے۔اور کرتی جا رہی ہے۔مگر قرآن کی تدریس آج بھی انہی طریقوں پہ ہو رہی ہے جو صدیوں سے رائج ہے۔حالانہ ٹیچنگ میتھڈولوجی کے زریعے ہر چیز واضح ہو کر سامنے آ چکی ہے۔اس کے باوجود ہمارے مدارس میں وہی سلیبس اور پڑھانے کا طریقہ چل رہا ہے۔ماڈرن ٹیچنگ کا اصول ہے۔کہ بچے کو تصویر دکھا کر پڑھا یا جاۓ۔یعنی سیب پڑھانے سے پہلے اس کی تصویر دکھائیں اس سے وہ شبہیہ یا تصویر ہمیشہ کے لیے دماغ میں بیٹھ جاتی ہے۔قرآن سکھانے کے لیے سمعی بصری آلات سے مدد کیوں نہیں لی جاتی ۔اول تو ہم اسے ناظرہ تک ہی محدود رکھتے ہیں اور فہم کی طرف آتے ہی نہیں۔اور آتے بھی ہیں تو بچوں کی سطح پہ یہ کام نا ہونے کے برابر ہے۔خالی رٹا سے قرآن پڑھنا تو آجاتا ہے مگر ہم اس کی اصل روح تک نہیں پہنچ پاتے۔یعنی سمندر کے پانی کی اوپری سطح تک ہی دیکھ پاتے ہیں اس کی تہہ میں کونسی موتی چھپے ہیں دیکھنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کرتے۔جہاں تک قرآن کی بات ہے وہ خود اپنے پڑھنے والوں سے بارہا تقاضا کرتا ہے


افلا یتدبرون القرآن ام قلوب اقفالھا ( النساء82)
“کیا وہ قرآن میں تدبر نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر تالے پڑ چکے ہیں۔”
تدبر قرآن تبھی ہو گا جب فہم حاصل کریں گے،سمجھ کر پڑھیں گے۔ناظرہ قرآن کی روایت توڑنا عصر حاضر کی اہم ضرورت ہے۔
سید مودودی ؒ کا شمار جید علماء میں ہوتا ہے پورے عالم اسلام پر ان کی سوچ اور فکر نے ان گنت اثرات مرتب کیے ہیں۔انکی کتابوں کی ایک دنیا معترف ہے۔وہ ناظرہ قرآن کے حوالے سے ایک واقعہ بیان کرتے ہوۓ لکھتے ہیں۔کہ میں تیس سال کا ہو چکا تھا اور مولوی کا امتحان بھی پاس کر لیا تھا۔مختلف کتابوں کے عربی سے اردو تراجم بھی کر چکا تھا۔ایک دن میں قرآن پڑھتے ہوۓ سوچنے لگ گیا کہ میں ڈائریکٹ سمجھ کر کیوں نہیں پڑھتا؟پھر مجھ پر انکشاف ہوا کہ یہ اس لیے ہے کہ بچپن میں ہمیں ناظرہ قرآن پڑھایا جاتا ہے۔اس کے بعد ترجمہ وغیرہ۔جبھی یہ صلاحیت پروان ہی نہیں چڑھتی کہ ڈائریکٹ عبارت سمجھ آۓ۔ٹرانسلیشن نہ کرنی پڑے

۔یہ بالکل وہی بات ہے جو جدید نظام تعلیم آج بتا رہا کہ بچوں کو اے فار ایپل اور ایپل معنی سیب نہ پڑھائیں بلکہ اسے ایپل دکھا کر بتا ئیں کہ یہ ایپل ہے۔یہی اصل طریقہ ہے۔
جدید نظام تعلیم رٹے کے خلاف ہے۔رٹا لگانا ایک زریعہ ہے جبکہ تدریس کے چار بنیادی جزو ہیں۔
Reading
Understanding
Analyzing
Practicing
یعنی پڑھنا پھر اسے سمجھنا پھر تجزیہ کرنا اور پھر عمل میں لانا۔اسلام بھی قرآن کو ازبر کرنے کے لیے انہی زرائع پہ زور دیتا ہے۔جو آج ماڈرن سائنس بتا رہی ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں آتا ہے کہ ان کا کہنا ہے کہ میں نے دس سال۔میں سورہ بقرہ پڑھی ۔پہلے پڑھتا تھا پھر سمجھتا اور عمل میں لاتا تھا جب تکہ پہلی آیت پہ عمل نا کر لیتا دوسری نہیں پڑھتا تھا۔دیگر صحابی کا بھی یہی طریقہ تھا۔دعوت کا اصول بھی یہی ہے جہ بات کرنے سےپہلے یہ دیکھو کہ تمہارا طرزعمل کیا ہے۔وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو۔


ضرورت اس امر کی ہے قرآن ناظرہ کی روایت کو توڑا جاۓ اور جدید تقاضوں کے مطابق بچپن سے ہی قرآن فہمی کو رواج دیا جاۓ۔عادات وہ بیڑیاں ہیں جو ہمیں جدت سے روکتیں ہیں۔قرآن وہ عجائب کا خزانہ ہے جس کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا کی باقی نبیوں کو معجزات دیے گۓ مجھے قرآن دیا گیا یہی میرا معجزہ ہے۔تو اس معجزے کو سمجھنے کے لیے یہ امت کب تیار ہوگی؟خدارا اپنے بچوں کودین کی طرف لائیے انھیں قرآن سے جوڑیے۔بچپن سے جو عادتیں گھٹی پہ پڑ جائیں وہ ہمیشہ رہتیں۔ناظرہ بھی پڑھیے مگر اس کے ساتھ ساتھ سمجھ کر پڑھنا ازحد ضروری ہے۔
بقول اقبال


قرآن ایسے پڑھو جیسے یہ تم پر نازل ہو رہا ہے۔ہمارا طرز عمل اس کے خلاف اس لیے ہے کہ ہمارا طریقہ ٹھیک نہیں۔
قرآن میں ہو غوط زن اے مرد مسلماں
اللہ کرے عطا تجھ کو جدت کردار

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں