| 24 مارچ 2025ء
ڈئیر ڈائری،
آج 23 رمضان ہے۔ وقت کتنی تیزی سے گزر رہا ہے! یوں لگتا ہے جیسے کل ہی رمضان کا چاند دیکھا تھا، اور آج یہ بابرکت مہینہ رخصت ہونے کو ہے۔ دل میں شکر بھی ہے کہ اللہ نے اس مہینے کی برکتیں نصیب کیں، اور ایک عجیب سی اداسی بھی کہ یہ لمحے اب چند دن کے مہمان ہیں۔
رمضان کی ہر رات اپنی ایک پہچان رکھتی ہے، مگر آخری عشرہ تو گویا اللہ کی خاص رحمتوں کی برسات ہے۔ دل کی دنیا بدلی بدلی سی لگتی ہے، اور روح کسی ان دیکھی روشنی میں نہا رہی ہے۔ لیکن ساتھ ہی کچھ سوال بھی دل میں اٹھتے ہیں—کیا میں نے واقعی اس رمضان کو بہترین طریقے سے گزارا؟ کیا میری عبادات قبول ہو رہی ہیں؟ کیا میں ان نیکیوں کو رمضان کے بعد بھی جاری رکھ پاؤں گی؟
سورہ نور کے احکامات پڑھ کر دل میں شدید احساس پیدا ہوا کہ یہ تعلیمات قرآن کلاس کے بچوں کو سکھانا بے حد ضروری ہے۔ خاص طور پر
کسی کے گھر جانے سے پہلے اجازت لینا
موبائل فون کا صحیح اور محتاط استعمال، سورہ نور کی روشنی میں
محرم و نامحرم کی اصطلاح اور کن رشتوں کے ساتھ ایک پلیٹ میں کھانے کی حدود
یہ سب بچوں کو براہِ راست قرآن سے سکھانا ہے، ان شاء اللہ، تاکہ وہ زندگی میں ان احکامات پر عمل کر سکیں
قرآن جرنلنگ – سورہ نور اور فحاشی کے خلاف ہدایات
آج قرآن کی تلاوت میں ایک ایسا لمحہ آیا جب دل جیسے رک سا گیا۔ سورہ نور کی آیت پڑھی:
إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَن تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ۚ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ** (سورہ نور 19)
بے شک جو لوگ چاہتے ہیں کہ ایمان والوں میں بے حیائی پھیلے، ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے، اور اللہ جانتا ہے، تم نہیں جانتے
یہ آیت آج کے معاشرے کے لیے کتنی اہم ہے، جہاں میڈیا، سوشل میڈیا اور عام گفتگو میں بے حیائی عام ہو چکی ہے۔ ہم جانے یا انجانے میں ایسی باتوں کو پھیلا دیتے ہیں جن سے فحاشی کو فروغ ملتا ہے۔ لیکن اللہ نے واضح کر دیا کہ اس کا انجام دنیا اور آخرت میں عذاب ہے
ہمیں اپنے گھروں میں، بچوں کی تربیت میں، اور اپنے سوشل میڈیا کے استعمال میں اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہیے کہ کہیں ہم ایسے مواد کا حصہ نہ بن جائیں جو بے حیائی کو عام کر رہا ہو۔ ان آیات نے میرے دل پر بہت اثر کیا، اور میں نے عزم کیا کہ ان شاء اللہ اپنی زندگی میں محتاط رہوں گی اور بچوں کو بھی سکھاؤں گی کہ وہ ایسے کسی بھی عمل کا حصہ نہ بنیں جو اللہ کے غضب کا سبب بن سکتا ہے
رمضان کی روحانی کیفیت
رمضان کے آخری عشرے میں دل کی کیفیت بدلی بدلی سی ہوتی ہے۔ عبادت میں ایک خاص لطف محسوس ہوتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے اللہ کی خاص رحمت نازل ہو رہی ہو۔ سحری کی خاموشی، افطاری کا انتظار، اور تراویح کی روحانیت سب کچھ ایک ناقابلِ بیان تجربہ ہوتا ہے
مگر ساتھ ہی دل میں ایک ہلکی سی اداسی بھی ہوتی ہے کہ یہ بابرکت مہینہ اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ ہمیں اس مہینے کی برکتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی توفیق دے اور ہماری عبادات قبول فرمائے، آمین
آگے کیا
آج رات شبِ قدر ہو سکتی ہے۔ دعا ہے کہ یہ رات ہمیں نصیب ہو جائے۔ آج کی منصوبہ بندی میں دعا کی لمبی فہرست شامل ہے، خاص طور پر
امت مسلمہ کی فلاح و بہبود
اپنے اور اپنے گھر والوں کے لیے ہدایت اور بخشش
دل کی سختیوں کو دور کرنے کی دعا
اور رمضان کے بعد بھی عبادت کا تسلسل برقرار رکھنے کی التجا
فلسطین – ایک درد بھرا باب
سوشل میڈیا پر ہم ف ل س ط ی ن کے وہ مناظر نہیں دیکھ پا رہے جو ہمارے مظلوم بھائی بہن جھیل رہے ہیں۔ یہ تصاویر جنہیں دیکھنا ہمارے لیے مشکل ہے، وہ حقیقت میں کسی کی زندگی کا سب سے بھیانک لمحہ ہیں۔ اللہ سے دعا ہے کہ ظالموں کو نیست و نابود کرے، ان کے نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے، اور مظلوموں کو صبر، استقامت اور فتح نصیب فرمائے
یہ وقت صرف دعا کا نہیں بلکہ ہر ممکن عملی اقدام کا بھی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ
ف ل س ط ی ن کی اصل حقیقت اور مظلوموں کی آواز کو شیئر کریں
جو سچائی دنیا سے چھپائی جا رہی ہے، اسے عام کریں
ظلم کے خلاف ہر پلیٹ فارم پر آواز بلند کریں
اگر ممکن ہو تو مالی مدد کریں، چاہے تھوڑی ہی ہو
اللہ ظالموں کو نیست و نابود کرے، مظلوموں کی مدد فرمائے، اور ہمیں حق کے لیے کھڑے ہونے کی توفیق عطا کرے۔ آمین