قرآن ڈائری
روبینہ شاہین
بائیس رمضان 2025
قرآن میں بار بار ہمیں ظلم کے خلاف کھڑے ہونے اورمظلوموں کا ساتھ دینے کا حکم دیا گیا ہے۔ جب عورتیں اور بچے قتل کیے جا رہے ہوں، جب بستیاں کھنڈر بنائی جا رہی ہوں، جب ایک قوم کو زندہ درگور کیا جا رہا ہو، تو کیا ہم خاموش رہ سکتے ہیں؟ قرآن کہتا ہے:
“وَإِنِ اسْتَنْصَرُوكُمْ فِي الدِّينِ فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ”
(اگر وہ تم سے دین کے معاملے میں مدد طلب کریں تو تم پر ان کی مدد واجب ہے)۔ مگر کیا آج امت مسلمہ نے اپنے اس فرض کو بھلا دیا ہے؟
ہم اپنے گھروں میں سکون سے بیٹھے ہیں، بازاروں میں خریداری ہو رہی ہے، ہنسی مذاق جاری ہے، جبکہ کچھ فاصلے پر ہی ایک پوری نسل مٹی میں دفن ہو رہی ہے۔ کیا ہم بھی ان لوگوں میں شامل ہو گئے ہیں جن کے بارے میں قرآن کہتا ہے:
“وَقَعَدْتُمْ كَالَّذِينَ خَلَفُوكُمْ”
(اور تم پیچھے بیٹھ گئے جیسے وہ لوگ جو تم سے پہلے تھے)؟
ہم دعائیں تو کر رہے ہیں، مگر کیا صرف دعا کافی ہے؟ اگر دعا کافی ہوتی تو اللہ ہمیں ہاتھ اور قدم کیوں دیتا؟ کیا نبی کریم ﷺ نے ہمیں یہ نہیں سکھایا کہ اگر ظلم کو ہاتھ سے نہ روک سکو تو زبان سے روکو، اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو کم از کم دل میں برا جانو؟ کیا ہم واقعی اتنے بے بس ہو چکے ہیں کہ زبان سے بھی نہ بول سکیں؟ کیا یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ بھی ہمارے لیے مشکل ہو چکا ہے؟
ہم کیا کر سکتے ہیں؟ سب سے پہلے، ہمیں شعور بیدار کرنا ہوگا۔ ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کو یہ بتانا ہوگا کہ غیرت اور حمیت کیا ہوتی ہے۔ ہم وہ امت ہیں جن کا کلمہ پڑھتے ہی پوری دنیا پر ایک بھاری ذمہ داری آ جاتی ہے۔ ہم پر لازم ہے کہ ہم ظالم کا ہاتھ روکیں، چاہے وہ کوئی بھی ہو۔ ہمیں سوشل میڈیا پر، گھروں میں، مساجد میں، ہر جگہ غ ز ہ کے مظلوموں کے لیے آواز اٹھانی ہوگی۔ جو کمپنیاں اِ س ر ا ء ی ل کی مدد کر رہی ہیں، ہمیں ان کا بائیکاٹ کرنا ہوگا۔ ہمارے پاس جو بھی وسائل ہیں، ہمیں انہیں صحیح سمت میں استعمال کرنا ہوگا۔
یہ سب کرنے کے بعد، ہم دعا کریں گے۔ لیکن وہ دعا جو عمل سے خالی نہ ہو، وہ دعا جو کوشش کے ساتھ ہو، وہ دعا جو ہمارے دل سے نکلے اور آسمانوں میں قبولیت کی منزل کو پہنچے۔ اللّٰہ ہمیں غفلت کی نیند سے جگا دے، ہمارے دلوں میں امت کا درد پیدا کر دے، اور ہمیں ان لوگوں میں شامل کر دے جو قیامت کے دن سرخرو ہوں گے، نہ کہ ان میں جو شرمندہ کھڑے ہوں گے اور کہیں گے: “یَا لَیْتَنِی قَدَّمْتُ لِحَیَاتِی”
(کاش میں نے اپنی زندگی کے لیے کچھ آگے بھیجا ہوتا)۔
#G a z a #P a l e s t i n e #FreeG a z a #StopG e n o c i d e #SaveH u m a n i t y