قرآن کے تیسرے پارے کے اہم نکات جانیے قلم کتاب پی
Parah # 3
Dawrah e Qur’an2021
Scholar Nighat Hashmi
تیسرے پارے کا آغاز رسولوں کی فضیلت سے ہوتا ہے۔۔
سب رسول سچے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔۔
انسانوں کو یہ حق حاصل نہیں کہ رسولوں کا مقام گھٹائیں یا بڑھائیں۔۔۔
انفاق فی سبیل اللہ
اللہ تعالیٰ نے مال خرچ کرنے کا حکم دیا ہے۔۔۔
کہاں خرچ کرنا ہے مال؟
یہ کسی organization سے نہیں پوچھنا، جس نے رزق دیا ہے اس نے فیصلہ بھی کر دیا ہے۔۔۔
مال کیوں خرچ کرنا ہے؟؟
بڑے دن (قیامت) کی آفت سے بچنا ہے اس لیے۔۔
مال خرچ کرنے کے کیا مقاصد ہیں؟؟
دل کی تنگی کو دور کرنا
اپنے رب کو راضی کرنا
دین کی حفاظت کے بغیر نہ عقل کی حفاظت ہو سکتی ہے نہ مال کی حفاظت ہو سکتی ہے۔۔
آپ کیسے مسلمان ہیں؟
آپ اپنے دین کی حفاظت نہیں کرنا چاہتے😥
دین کی حفاظت صرف چند لوگوں کا کام نہیں ہے
💫 اپنا مال خرچ کرنا ہے، اور دین کی حفاظت میں جہاں کہی بھی کوشش کی جاری ہے وہاں حصہ ڈالنا ہے ان شاءاللہ ۔۔
آیت الکرسی کی فضیلت
رسول اللہ نے فرمایا:
ہر چیز کی ایک کوہان اوربلندی ہے اور قرآن کی بلندی سورة البقره ہے۔اور اس میں بھی آیت الکرسی تمام آیتوں کی سردار ہے۔
آیت الکرسی شیطان سے حفاظت کرتی ہے۔۔
صحیح البخاری : 3276
دین میں کوئی زبردستی نہیں ہے۔
مگر جب کوئی دین میں داخل ہو جاۓ تو اسے عمل کرنا پڑے گا۔۔۔
نمرود نے حضرت ابراہیم سے جھگڑا کیا اور خدائی کا دعویٰ کیا۔۔۔
اسے حکومت ملی تو سرکش ہو گیا
آج بھی تو ایسا ہی ہے۔۔۔ جب ہمیں کوئی عہدہ ملتا ہے تو ہم بھی تو سرکش ہو جاتے ہیں، کسی کو خاطر میں نہیں لاتے۔۔
حضرت ابراہیم کا سوال
مردے کیسے زندہ ہوتے ہیں؟
اللہ تعالی کا جواب:
“چار پرندوں کو مانوس کراو پھر زبح کر کے پھیلا دو اور پکارو وہ تمھارے پاس دوڑتے ہوۓ آئیں گے۔۔”
شیطان فقر کا خوف دلاتا ہے کہ مال خرچ کرو گے تو فقیر ہو جاؤ گے۔۔۔
حضرت عثمان بن عفان، حضرت عبدالرحمان بن عوف جیسے لوگ کہاں ہیں؟؟؟
قرآن نہیں بدلا۔۔ محمد رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی تعلیمات نہیں بدلی،دین نہیں بدلا تو پھر
خرچ کرنا کیوں چھوٹ گیا؟؟
آپ نے تو ساری دنیا تک پیغام پہنچانا تھا*
آج اگر مسلمان سوشل میڈیا پر کام کرتے تو ساری دنیا محمد عربی کی محبت میں مبتلا نہ ہو جاتی؟
سارے لوگ اللہ تعالیٰ کے پیغام سے واقف نہ ہو جاتے؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا:
بلغوا عنی ولو آیۃ
مجھ سے ایک آیت بھی سنو تو آگے پہنچا دو
کب پہنچائیں گے؟؟
جب زندگی ختم ہو جائے گی؟
جب قبر میں اتر جائیں گے؟
کتنے ہی لوگ ہیں جو کہتے ہیں وقت نہیں🤷♀️
اپنے لئے وقت نہیں؟؟؟
اپنے رب کے لئے وقت نہیں؟؟؟
اپنے دین کے لئے وقت نہیں؟؟؟
ہماری priorities بدل گئی ہیں۔۔😞
اگر لوگ اپنی اولادوں کی زندگیاں لگائیں گے تب ہی دین زندہ رہے گا ورنہ ہماری نسلیں اسلام کے بنیادی اصولوں سے بھی ناواقف ہو جائیں گی
سورۃ آل عمران میں عیسائیوں کے عقائد کی تردید کی گئی ہے۔۔
اللہ تعالیٰ نے رحموں میں تخلیق کی بات کی ہے کہ
سیدنا عیسیٰ جو ماں کے پیٹ سے جنم لے وہ معبود کیسے ہو سکتا ہے؟؟؟
جس کی صورت اللہ تعالیٰ نے بنائی وہ معبود کیسے ہو سکتا ہے؟؟؟
عمران کی بیوی(سیدہ مریم کی والدہ) نے اپنی اولاد کو اللہ تعالیٰ کی امانت سمجھا تھا۔۔۔
آج کے والدین اپنے بچےکو اپنی پسند پر چلانا چاہتے ہیں اللہ کی پسند پر نہیں😥
رزق زندگی کے لیے ضروری ہے لیکن زندگی نہیں
زندگی رزق کے لئے نہیں لگانی
زندگی رب کے لئے لگانی ہے*
ہم عیسیٰ بنت مریم کے نزول کے منتظر ہیں۔۔
سو سے زائد احادیث نزول مسیح کے بارے میں مروی ہیں۔
عیسیٰ علیہ السلام کی اصل پیروی تو مسلمان کرتے ہیں کیونکہ وہ حق کو سمجھتے ہیں۔۔۔
رسول اللہ کی پیروی کرنا انبیاء کی پیروی کرنا ہے۔۔
عیسیٰ علیہ السلام کی مثال آدم علیہ السلام جیسی ہے۔۔۔
آدم علیہ السلام بن ماں باپ کے پیدا ہوئے اور حضرت عیسیٰ بغیر باپ کے۔۔
جب حضرت آدم علیہ السلام اللہ کے نبی ہیں تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام معبود کیسے ہو سکتے ہیں؟؟
قرآن کے تیسرے پارے کے اہم نکات جانیے،سیکھیے،اس پہ عمل کیجیے۔بارک اللہ
یہ بھی پڑھیے