557

قرآن کے دسویں پارے کے اہم نکات

تحریر شئیر کریں

قرآن کے دسویں پارے کے اہم نکات ملاحظ کیجیے

Parah # 10
Dawrah e Qur’an2021
Scholar Nighat Hashmi

2_اہم نكات پاره#10

موضوعات:
1- احكام جہاد اور ہدایات ، غزوه بدر پر تبصره
2- منظم بين الاقوامی قانون كى بنياد
3- معاہدات منسوخ كيۓ جاتے ہیں
4- ﷲ تعالیٰ کے نزدیک ایمان اور راه خدا میں قربانى كى قدرو قيمت
5- زكوة كى مدات اور منافقين پر تبصره
6- دو طرح کے لوگوں کے لىۓ دو طرح كا انجام

_ مال غنيمت كسے کہتے ہیں؟_

مال غنيمت اس مال كو کہتے ہیں جو ميدان جنگ میں دشمن سے لڑ كر حاصل كيا گيا ہو-

  • غنیمت ہو یا بیت المال میں کوئی اور مال سب ﷲ تعالیٰ کا ہے۔ ہر مال ﷲ تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق تقسیم کرنا ہے۔*

_ غنيمت كى تقسيم كا كيا حكم ہے؟_

غنيمت كى تقسيم کرتے ہوۓ ہر چيز کے چار حصے مجاہدین کے ہوں گے اور پانچواں حصہ ﷲ تعالیٰ اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم كے ليے-

  • بعض اوقات تکلیف دہ چیز میں بھی بھلائی ہوتی ہے ۔کامیابی کے لئے ثابت قدمی اور ﷲ تعالیٰ کا ذکر کرنا ضروری ہے۔*
  • گناہوں، ناشکری اور دین سے دوری کی بنا پر نعمتیں چھن جاتی ہیں۔*
  • مسلم ھو یا غیرمسلم خیانت کسی کے ساتھ نہیں کر سکتے۔ کیونکہ یہ گناہ ہے اور ﷲ تعالیٰ کو ناپسند ہے۔*
  • جنگ کے لئے بھرپور تیاری رکھنا۔ دین میں اپنا مال خرچ کرنا اس کا پورا پورا بدلہ لوٹایا جائے گا۔*
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنے والے اہل ایمان کے ساتھ ﷲ تعالیٰ کی مدد ہوتی ہے۔*

جتنا صبر زیادہ ہوگا اتنی مدد زیادہ آئے گی.

  • ہجرت و جہاد کرنے والے سچے مومن ہیں، ان کے لئے بخشش اور عمدہ رزق ہے۔*
  • سورۃ التوبہ کے آغاز میں بسم اللہ نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں لکھوائی کیونکہ ﷲ تعالیٰ نے نازل نہیں کی۔ بسم اللہ امن کی علامت ہے اور اس سورۃ میں اہل شرک سے امان اٹھائی جا رہی ہے۔*
  • ﷲ تعالیٰ اور رسول کا مشرکوں سے کوئی تعلق نہیں، توبہ کر لو تو نجات ورنہ دردناک عذاب ہے۔*
  • مساجد کی آبادکاری مشرکین کا کام نہیں۔ نماز زکوۃ ادا کرنے والے اور ﷲ تعالیٰ سے ڈرنے والے اہل ایمان کا کام ہے۔*

ﷲ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنا سب سے زیادہ محبوب ہو دیگر چیزیں ضرورت کے تحت ہوں-

غزوہ تبوک میں سب کو نکلنے کا حکم دیا گیا۔ جنگ نہیں ہوئی مگر سب کی آزمائش ہوگئی۔

  • دنیا کی حیثیت سمندر میں ڈبو کر نکالی جانے والی انگلی پر لگے پانی جتنی ہے-*
  • جو پہنچا۔ وہ ہمارے لئے لکھا جا چکا تھا۔ تقدیر پر ایمان لانا لازمی ہے کہ ہر شخص کو اس کے مقدر کا ملتا ہے۔*
  • مصارف زکواۃ۔۔۔*
    فقراٰء، مساکین، زکاۃ کے ملازمین۔ تالیف قلب کے لئے ،گردن آزاد کرنے میں۔قرض دار، فی سبیل اللہ۔ مسافر ہیں

میری زندگی کا مقصد تیرے دین کی سرفرازی
میں اسی لیے مسلماں میں اسی لیے نمازی

  • مقصد زندگى:*
    1- ﷲ تعالیٰ کے ہر حكم كو ماننا ، ثابت قدم رہنا ، ﷲ پر بهروسہ كرنا
    2- ايمان لا كر ہجرت و جہاد كرنا ، ﷲ والوں كى مدد كرنا اور انكو پناه دينا
    3- ﷲ تعالیٰ سے توبہ كرنا ، تقوى اختيار كرنا
    4- ﷲ تعالیٰ كو پہلی ترجیح دينا ، اس پر توكل كرنا
    5- نفاق سے بچنا ، ﷲ تعالیٰ اور رسول كا خير خواه رہن
  • ہم كيا کریں؟*

1- اپنى نيكيوں میں كئى گنا اضافے کے ليے قرآن كريم سننا ہے
2- اپنے دل سے تكبر كو نكالنا ہے ، اپنے مال،اپنے حسن،اپنے خاندان پر تكبر نہیں كرنا
3- ﷲ تعالیٰ كى راه میں خرچ کرنے کے بعد نہ تو كبهى احسان جتلانا ہے اور نہ تكليف دينى ہے ( ان شاء ﷲ)

قرآن کے دسویں پارے کے اہم نکات آپ نے پڑھے۔اب انھیں حرز جان بنائیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں