
تحریر:فرحت ہاشمیکلاس نوٹس کیسے لئے جائیں،انکے مقاصد کیا ہیں؟یعنی کلاس میں نوٹس کیوں لئے جائیں؟لکھنے کی ضرورت کیوں ہے؟صحیح بات تو یہ ہے کہ اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ آپ نے سنا کیا ہے؟جب آپ کوئی چیز لکھتے ہیں تو اس سے آپ کی سننے کی صلاحیت بھی ٹیسٹ ہوتی ہے۔کیونکہ لکھیں گے آپ وہی جو آپ کو سمجھ آئے گی۔کیونکہ لکھنے کی طرف انسان کی سب سے زیادہ توجہ ہوتی ہے۔لکھنا،سننے ،بولنے اور پڑھنےسے زیادہ انرجی لیتا ہے۔لکھنے میں انسان کی اصل شخصیت سامنے آتی ہے۔جو حقیقت میں اس کے اندر ہوتی ہے۔عربی میں سطر کہتے ہیں کتاب کو یا لکھی ہوئی چیز کو،بایدی سطر،سطر ساطر کی جمع ہے۔ساطر کہتے ہیں کاتب کو،سطر کامعنی روشن کرنا بھی ہوتا ہے۔جو علم آپ کے اندر ہوتا ہے جب وہ کاغذ پر آتا ہے تو نمایاں ہوتا ہے۔پتہ چلتا ہے کہ آپ کتنے پانی میں ہیں۔لکھنا آپ کے اندر علم،قابلیت،احساسات و جزبات کا عکاس ہے۔اس کو روشن کرتا ہے۔فوائد:سب سے بڑا فائدہ تو یہ کہ آپکو پتہ چلتا ہے کہ کتنا سمجھ مٰیں آیا ہے۔یعنی سمجھنے کا لیول کیا ہے؟بات کتنی سمجھ مٰیں آئی ہے۔پھر اس کے علاوہ کچھ اور فائدے بھی ہیں۔پھر اس کا یک فائدہ یہ بھی کہ سنی ہوئی بات کو دہرانے کا موقع ملتا ہے۔ٹیسٹ کی تیاری کا موقع مل جاتا ہے۔کسی اور کو بتانے کے لئے آپ وہ بات استعمال کر سکتے ہیں۔جب آپ لکھنے میں مصروف ہوتے ہیں توبات کو اور بھی اچھی طرح سننے اور سمجھنے کے موقع ملتا ہے۔جب انسان کا قلم نہیں چل رہا ہوتا تو امکان ہے دماغ ادھر ادھر بھٹک سکتا ہے مگر جب ساتھ ساتھ لکھیں گے بھی تو یہ امکان صفر ہو جائے گا۔لکھنے سے آپ کے اپنے خیالات بھی منظم ہوں گے۔بعض باتیں کلاس میں ایسی ہوتیں ہیں جو آپ کو کتابوں میں نہیں ملتیں۔کیونکہ جو استاد ہوتا ہے وہ سب کچھ کہیں سے نقل کر کے نہیں بول رہا ہوتا ہے۔استاد ہوتا ہی وہ شخص ہے جو یہ صلاحیت رکھتا ہوکہ معلومات کو اپنے اندر جذب کر کے ایک نئی شکل میں پیش کر سکے۔استاد وہ نہیں ہوتا جو صرف ریڈنگ کر کے سنائے۔کسی استاد یا عالم کے پاس بیٹھ کر اس کی گفتگو کو سنے۔ اور اس ماحول سے سیکھیں۔خاص ماحول کے بغیر بات نکلتی بھی نہیں ہے۔وہ حکمت جو اس علم اور صبر کے ساتھ انسان کو دیتا ہے۔وہ ایک خاص ماحول کی پیداوار ہوتی ہے۔ہر چیز کے پیدا ہونے کا ایک وقت ہوتا ہے۔استاد کے اندر جو علم ہوتا ہے اس کو نکھرنے،بنانے اور باہر آنے کے لئے بھی ایک خآص ماحول درکارہوتا ہے۔مثلا بہت سی باتیں ہیں جو مجھے معلوم ہیں مگر وہ اندر کہیں دبی ہوئیں ہیں۔ہم ایک خاص ماحول کے عادی ہیں۔جس میں خاموشی ہو،یا کوئی طالب علم ہو جس کے سیکھنے کی تڑپ ایسی کمال ہوکہ دل بے ساختہ آمادہ ہو جائے۔طالب علموں کی تعلم پہ آمادگی بھی استاد کے اندر طلاطم برپا کر دیتی ہے۔استاد اتنا دیتا ہے جتنا لینے والے اسے لے رہے ہوتے ہیں۔اگر استاد بول رہا ہے اور شاگرد لکھ رہا ہے،قدر کر رہا ہے علم کی،سمجھ رہا ہے۔تو وہ بھی دوگنی رفتار سے دینا شروع کر دے گا۔اور وہ کچھ اندر گہرائی سے نکلتا ہے۔جو عام حالات میں استاد اپنے اندر سے نکالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اور نہ ہی کبھی وہ نکل پاتا ہے۔اس لئے سب باتوں کو صرف سننا ہی نہیں چاہیے بلکہ سن کے لکھ لینا چاہیے۔ہو سکتا ہے دوبارہ زندگی میں یہ وقت پھر نا آئے۔یہ موقع یہ ماحول یہ صحبت یہ پھر نا ملے۔ہو سکتا ہے یہ بات دوبارہ سننے کو نا ملے۔خاص ماحول میں خاص شخص پر بات کیوں القا ہوتی ہے؟نیوٹن کو ایک خاص وقت پر کیوں پتا چلا تھا۔اتکاز سے،یہ جو چاردیواری ہے جس کے اندربیٹھ کر کلاس ہو رہی ہے یہی بات اگر کسی باغ میں بیٹھ کر کریں گے تو ہو سکتا ہے نا ہو،ان لمحات کو قلم کے زریعے آپ محفوظ کر لیتے ہو۔پھر زندگی میں دوبارہ ان کو پڑھ کر لرن کر سکتے ہو۔اس موقع پر آپ یہ بھی سو چ رہے ہوتے ہو کہ آُ پ کو لیکچر سننا ہے یا نہیں سننا؟کچھ سیکھنا ہے یا نہیں سیکھنا۔اگر آپ واقعی ہی سیکھنے کی نیت سے آتے ہیں ت پھر آپ لکھنے پر بھی توجہ دیں گے۔اور لکھنا ہی دراصل فیصلہ کرے گا۔کہ آُپ کس نیت سے یہاں بیٹھے ہیں۔قرآن مجید میں سورت القلم آتی ہے ۔ن والقم ما یسطرون “قسم ہے قلم کی ،جس سے وہ لکھتے ہیں۔اللہ نے تعلیم دی ہے قلم کے ساتھ،تو قلم کا استعمال طالب علم کے لئے بہت ضروری ہے۔جو طالب علم قلم استعمال نہیں کرتا اور صرف سننے پہ اکتفا کرتا ہے۔وہ خطا کھاتا ہے۔سیکھنے کا عمل ایک ادھورا عمل ہوتا ہے۔یکسوئی سے سننے کے لئے ،جذب کرنے کے لئے ،یاد رکھنے کے لئے اہتمام کے ساتھ سیکھنا سکھانا ہوتا ہے۔اس عمل کو مکمل کرنے کے لئے لکھنا ضروری ہوتا ہے۔تعلیم کا معنی کیا ہے؟تعلیم کا معنی ہے اہتمام سے سیکھنا”آج سے قلم کا استعمال کریں،لکھنا اور لکھوانا،لکھنا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ کوئی بات سن رہے ہیں اور آپ کو سمجھ بھی آ رہی ہے۔بعض اوقات نا سمجھ آنے والی باتیں بھی آپ لکھ لیتے ہیں۔کیوں لکھ لیتے ہیں تاکہ بعد میں پڑھ کے سمجھ سکوں۔لیکن اگر لکھتے نہیں تو کچھ باتیں یاد رہ جاتیں ہیں زیادہ تر بھول جاتیں ہیں۔سمجھ نا آئے تو کیا ہوتا لکھنا بھی چھوڑا اور سننا بھی،کچھ اور سوچنا شروع کردیا۔مشکل وہی کی وہی رہ جاتی ہے۔بعض اوقات وہ سمجھنا بہت ضروری ہوتی ہے لیکن اگر آپ نے لکھی تو ایک نا ایک دن سمجھ بھی آ جائے گی۔یا کوئی اچھا مشورہ،کلاس میں بیٹھے ہوئے جب آپ کوئی بات سن رہے ہوتے ہیں،اسے لکھ کر آگے پہنچا دیتے ہیں تو اس سے بہت سوں کا بھلا ہو جائے گا۔بعض اوقات یوں ہوتا ہے کسی بات سے ہم متفق نہیں ہوتے اور اس بات کو پسند نہیں کرتے۔اور ایک ہیجانی کیفیت میں آ جاتا ہے۔اور یہ کیفیت انسان کے سیکھنے کے عمل کو متاثر کرتی ہے۔جب آپ قلم کا استعمال کر رہے ہوتے ہیں اور اس پہ جمے رہتے ہیں۔اور کرتے چلے جاتے ہیں تو یہ جو قلم کا استعمال ہے یہ آپ کی ہیجانی کیفیت کو بھی کم کر دیتا ہے۔عام طور پر آپ نے دیکھا ہوگا کہ زندگی میں کسی پریشانی میں ہوتے ہیں تو سائیکالوجسٹ لکھنے کا مشورہ دیتے ہیں۔تو قلم نا صرف سیکھنے کے عمل کو رواں دواں رکھتا ہے بلکہ جذبات کو بھی منظم کرتا ہے۔آسان بناتا ہے۔اس میں سہولت پیدا کرتا ہے۔توجہ قائم رکھتا ہے۔اس لئے لکھنا ضروری ہے۔ایک شخص نے آپ ﷺ سے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسولﷺ میرا حافظ اتنا اچھا نہیں،آپ ﷺ نے فرمایا”اپنے داہنے ہاتھ سے مدد لو”مطلب لکھو۔اس میں کوئی شک ہی نہیں کہ لکھنا ایک ضرورت ہے اور لکھنا چاہیے۔لیکن جب تک آپ کو صحیح لکھنا نہیں آتا ہوگا،اس کی تیاری نہیں کریں گے،آپ شاید لکھ کر بھی محروم رہیں۔یعنی آپ کے لکھنے کا عمل بھی بے فائدہ ہو جائے گا۔تو اس کے لئے آپ کو تیار ہو کے آنا چاہیے۔اس تیاری میں کیا کیا شامل ہے؟لکھنے کا طریقہ کار:لکھنا کس پر ہے؟کاپی پہ لکھنا ہے یا رجسٹر پہ؟یا جو کتاب پڑھائی جا رہی ہے اسی پہ یا ورق شیٹس پہ لکھنا ہے۔بہت سی آپشنز ہو سکتی ہیں مگر بہترین یہ کہ آپ خود کو خود ہی جج کر سکتے ہیں۔کون سی ایسی چیز ہے جس پر لکھنا آپ کو بعد میں کام دے سکتا۔یہ نا ہو آپ کاغذ پہ کاغذ بھر بھر کر رکھتے چلے جائیں.کاغذ کا انتخاب،سائز ا انتخاب،قلم کا انتخاب آپ اپنی سہولت کے ساتھ کیجئے۔بعض اوقات آپ مخصوص قلم کے ساتھ لکھنے کے عادی ہوتے ہیں۔یا ایک خاص قسم کا کاغذ استعمال کرتے ہیں اگر وہ نہ ملے تو لکھنا مشکل لگتا ہے۔کچھ چیزیں یہاں پہ گائیڈ کی جائیں گی اور کچھ اپنی عادت اور جیب کے مطابق استعمال کریں۔ظاہر ہے جتنا اچھا کاغذ ہوگا ،اتنا اچھا لکھا جائے گا۔لیکن ہو سکتا ہے آپ افورڈ نہ کر سکتے ہو۔پھر اسی طرح یہ ہے کہآپ کی وہ چیزیں کاغذ ،قلم ساتھ ہو۔یہ نا ہو کہ آج فلاں نوٹ بک گھر رہ گئی یا پین کی سیاہی ختم ہو گئی۔آنے سے پہلے ان چیزوں کو چیک کر کے چلیں۔رات کو ہی چیک کریں۔پھر یہ کہ جس وقت آپ بیٹھے لکھ رہے ہوں آپ کی پوزیشن ٹھیک ہونی چاہیے۔ایک دفعہ ایک طالبہ مجھے ملی ،پوچھا کیا حال چال،کہتی میں تو بہت بیمار ہو گئی ہوں۔میں نے کہا خیریت،کہتی تفسیر لکھنے کی پوزیشن ٹھیک نہیں تھی اس لئے میری گردن کی ہڈی میں گیپ آ گیا۔مجھے ایسا لگا جیسے میں نے بہت بڑا جرم کیا ہو ان کو قرآن پہ لگا کر،اتنی بڑی تکلیف میں مبتلا ہو گئی۔اس وقت مجھے خیال آیا کہ ہمیں سٹوڈنس کو یہ بھی بتانا چاہیے۔کہ خدا کے لئے بیٹھنے کی پوزیشن درست کیجے۔غیر فطری انداز میں نا بیٹھیے۔کندگے سیکڑ کر یا ایک ہی سمت گردن ڈال کرمت بیٹھیں۔کہ آپ کو کسی ڈاکٹر کے پاس جانا پڑ جائے جو آپ کو یہاں آنے سے روک دے۔کہ یہ سب سبب ہے قرآن پڑھنے جانے کا۔آپ بہت دنوں سے زائد محنت کر رہیں ہیں ِجبھی آپ کی صحت متاثر ہو رہی ہے۔ماں باپ گھر بٹھا لیں۔کل کو شادی بھی کرنی ہے انکو اسطرح بیمار تھوڑی کرنا ہے،جب آپ بیٹھیں ہوں اپنے آپ کو نارمل سیدھی پوزیشن میں رکھیں۔آرام دہ پوزیشن ہو۔نا جھک جائیے اور نا ہی اکڑ کر بیٹھیں کہ دوسرا آپ کو دیکھ کر ڈسٹرب ہو رہا ہو۔یہ نا ہو آپ لکھتے ہوئے دوسری کو کہنی مارے چلے جا رہے ہوں۔یعنی اپنی پوزیشن کا ضرور جائزہ لیں۔کہ آپ جس طرح بیٹھیں ہیں اس میں مزید بہتری کی کیا گنجائش ہے۔تاکہ آپ دیر تک کام کر سکیں۔پھر آپ یہ دیکھیں جوں جوں عمر زیادہ ہوتی چلی جاتی ہے۔ آپ کے لئے خاص پوزیشن پہ بیٹھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ہر کرسی پہ نہیں بیٹھ سکتے،زمین پہ نہیں بیٹھ سکتے،کہیں کالر پہنا جا رہا ہے کہیں ٹیکیں لگائیں جا رہیں ہیں۔سو مشکلیں پیدا ہو رہیں ہیں۔ان پریشانیوں سے بچنے کے لئے ابھی سے احتیاط کریں۔اگرآپ کو مشکل ہو رہی ہے تو ایک دوسرے سے بھی مشورہ کیجئے۔اور ان دردوں کو اگنور نا کیجئے۔جو آپ کو لکھنے میں شروع ہو چکیں ہیں۔اپنے آپ کا جائزہ لیجئے کہ کیا آپ کے بیٹھنے کی پوزیشن ٹھیک ہے؟آپ کا جسم ،آپ کا ہاتھ،آپکی گردن آپکی نگاہ کا زاویہ ٹھیک ہے۔پھر اسی طرح استاد کے بولنے سے پہلے بیگ سے کاپی اور قلم نکال لیجئے۔بیگ بھی ایسا نا ہو کہ اس میں کاپی ڈھونڈ ڈھونڈ کے تھک جائیں اور وہ مل کے نا دیں۔ہر سبجیکٹ کے لیے مخصوص نشان رکھیے۔جس سے ایک سیکنڈ میں مطلوبہ صفحہ نکال سکیں۔پھر اسی طرح ایسے قلم کا انتخاب کیجئے جو بغیر رکاوٹ کے چلتا ہو۔جس میں انک بار بار نا پھرنی پڑے۔پھر اسی طرح دو پین رکھیں۔ایک ختم ہو جائے تو فورا دوسرا نکال کر استعمال کر سکیں۔انک وغیرہ بھر کر لائیں۔اسی طرح امتحان کے دوران بھی دو پین ضرور رکھیں۔پھر اسی طرح اگر آپ آ نہیں سکیں کسی خاص وجہ سے ،تو کیا آپ کے پاس کسی ایسے شخص کا نمبر ہے جس سے کلاس میں ہونے والی ایکٹیویٹی کے بارے میں پوچھ سکیں۔یہ نہیں کہ جب چھٹی کی تو ہر چیز سے غافل ہو گئے۔اگر آپ خود حاضر نہیں بھی تھے تو آپ کے پاس کلاس میں ہونے والے کام کی معلومات ہونی چاہیے۔جو کلاس میں ہو رہا ہے ان باتوں کا علم ہونا بھی ضروری ہے۔کیونکہ کلاس میں بعض اوقات دوران تدریس ایسی چیزوں کا بھی ذکر آ جاتا ہے جو براہ راست سبق سے متعلق نہیں ہوتیں،ان کو آپ نے الگ سے نوٹ کرنا ہوتا ہے۔میں نے اپنی نوٹ بک دیکھی،میرا طریقہ یہ ہوتا تھا کہ ایک سائیڈ پہ حاشیہ کھینچ دیتی،اور اس طرف وہ نوٹس ہوتے جو لیکچر سے متعلق نہیں ہوتے تھے۔تو سائیڈ مارجن پہ آپ ایسی باتیں لکھ سکتے ہیں۔یہ باتیں نوٹ کرنی کیوں ضروری ہیں؟کیونکہ جب آپ ان کو دوبارہ پڑھیں گی تو جلدی ری کال کر لیں گیں۔کیونکہ عملی مثالوں سے ہم جلدی سیکھتے ہیں۔نسبت نظری باتوں کے۔اب یہ ہے کہ لکھتے وقت کن چیزوں کا خیال رکھنا چاہیے؟سب سے پہلی بات لکھیں ایسے کہ بعد میں پڑھ سکیں۔یہ نا ہو لکھے موسا پڑھے خودآ”یہ خدا نہیں ہے بلکہ خود آکے پڑھنا پڑے۔پھر اسی طرح کا لکھیں کہ موسیٰ خود بھی پڑھ سکے۔بعض اوقات لوگ اس طرح لکھتے ہیں کہ خود بھی نہیں پڑھ سکتے۔لکھنا شروع کرنے سے پہلے اس دن کی تاریخ ضرور لکھیں۔بسم اللہ سے آغاز کریں۔ مثلا اگر تفسیر لکھ رہے ہیں تو جس آیت کی تفسیر لکھ رہے ہیں اس کا نمبر ضرور ڈالیں۔دو آیات کی تفسیر کے درمیان فاصلہ رکھیں۔مثلا سرکل ڈال لیں۔جیسے ہی ایک آیت کی تفسیر ختم ہو فورا سے دائرہ بنا لیا۔پھر اسی طرح بعض اوقات آپ ہر چیز لکھ نہیں سکتے،تو سمبل کی شکل میں نوٹ کر لیں کوئی ڈائیگرام بنا لیں۔مثلا ایک لفظ کو لکھنے کے لیے آپ ٹرائے انگل کا نشان بنا سکتے ہیں یعنی کوڈ میں لکھ سکتے ہیں۔اگر آرٹ بہت اچھا ہے تو ڈرائینگ بھی بنا سکتے۔جیسے انگریزی لکھتے ہوئے لوگوں نے اسے مختصر کر لیا ہے اپنی سہولت کے لیے بالکل ایسے آپ بھی کر سکتے ہیں۔جیسے فار لکھنے کی بجائے فور لکھ دیتے ہیں وغیرہ وغیرہ،اس سے لکھنے میں تیزی آ جاتی ہے اور کم وقت میں زیادہ چیزیں نوٹ کی جا سکتیں ہیں۔پھر اسی طرح اگر کوئی بات سمجھ نہیں آئی،تو اس جگہ لکیر ڈال کر خالی چھوڑ دیں۔آگے بڑھ جائیں یہ نا ہو کہ آپ قلم پکڑے سوچتے رہ جائیں ۔اور جب تک وہ سمجھ نہیں آئیں گا اس کو بھی روک لیں جو سمجھ آ رہا ہے۔اس سے بہتر ہے اتنی جگہ خالی چھوڑیں اور آگے چل پڑیں۔بعد میں کسی کلاس فیلو سے پوچھ کر اپنی بات پوری کر لیں۔بعض اوقات لوگ جب تفسیر پراپر ہو رہی ہوتی ہے تو لکھ رہے ہوتے ہیں ،جونہی کوئی ڈسکشن شروع ہوئی ہاتھ رکھ کے بیٹھ جاتے ہیں۔بعض اوقات وہ ڈسکشن بڑی اہم ہو سکتی ہے۔تو لکھنا صرف وہ نہیں ہوتا جو امتحان میں آتا ہے بلکہ وہ بھی لکھنا ہوتا ہے جو ڈسکشن میں آتا ہے۔ان چیزوں کو بھی لکھ لیا کریں جو براہ راست امتحان میں نا ہو۔اس کے لئے آپ مارجن بھی استعمال کر سکتے ہیں۔بعض اوقات استاد نے کوئی اہم بات بتائی،تو اسے بھی مارجن میں نوٹ کر لیں۔اور اس وقت تک نوٹس لیتے رہیں جب تک کلاس ختم نا ہو جائے۔ اچھا دومنٹ رہ گئے او ر سب سے پہلے باہر نکلنے کے چکروں میں لکھنا سٹاپ کر دیں۔ایسا نہیں کرنا جب تک کلاس باقاعدہ ختم نہیں ہوتی لکھتے رہنا ہے۔کیونکہ آخری بات جو Conclusion کی بات ہو ،زیادہ اہم ہو۔وہ چھوڑ کے گویا آپ نے سب چھوڑ دیا۔آخری لمحات تک لکھنا مت بھولیں۔مشکل تصورات اور مشکل چیزوں کو بھی لکھنے کی کوشش کریں۔مثلا روٹس،ٹرم وغیرہ بھی لکھیں۔پھر اسی طرح سوالات ہوتے ہیں ان سب چیزوں کو آپ آرگنائز کر لیں۔تفسیر کے پواینٹس کس حصے میں نوٹ کرنے ہیں اور باقی چیزیں کس حصے میں یہ سب چیزیں پہلے سے مائنڈ میں رکھیں۔اہم بات یہ کہ نوٹس میں تسلسل بہت ضروری ہے۔یعنی جس پیٹرن کو آپ فالو کر رہے ہیں اسی پہ چلیں،یہ نہیں کہ آج ایک پیٹرن پہ لکھا توکل کسی اور کو فالو کرنا شروع کردیا۔جیسا کہ بعض لوگ انگلش میں لکھتے بعض اردو میں اور بعض اردو اور انگلش دونوں میں،جو آپ کو مناسب لگیں لکھیں۔اس کے علاوہ بھی جو پیٹرن آپ کو مناسب لگیں لکھیں۔تسلسل اس لئے بھی ضروری ہے کہ پڑھتے ہوئے آسانی ہو،یہ نہیں کہ آج کے روٹ کدھر لکھے تھے۔اس میں وقت ضائع نہیں کریں۔آپ یہ بھی کر سکتے ہیں کہ جب نوٹس دہرائیں تو روٹس کو چار خانے میں ڈال دیں۔اسی طرح بعض باتیں استاد کے خاص اتار چڑھاؤ سے مزین ہوتیں ہیں۔ان کو آپ انڈر لائن کر سکتے ہیں۔جیسا کہ تعلم کے لئے استاد مخصوص انداز اپناتا ہے۔بعض باتیں دو دفعہ کہی جاتیں ہیں،بعض باتیں رک رک کر کہی جاتیں ہیں۔وہ جو بولنے میں کسی چیز کو اہمیت دی جا رہی ہو،وہ تحریر میں بھی نمایاں ہونی چاہیے۔اس کو وقفہ دے کر لکھا جا سکتا ہے،ہائی لائیٹ کیا جا سکتا ہے،انڈر لائن کیا جا سکتا ہے۔یا اسے کسی بھی طرح نمایاں کر کے لکھ سکتے ہیں۔یعنی اہم باتوں کو اہمیت دیں۔ان کو لکھتے ہوئے بھی مختلف طریقہ اپنائیں۔ہوتا یہ ہے کہ بولنے اور لکھنے کی رفتار ایک نہیں ہوتی،کچھ لوگ بہت تیز لکھتے ہیں اور ہر چیز نوٹ کرتے ہیں۔کچھ لوگ تیز نہیں لکھ پاتے،عموما ہماری بولنے کی رفتار لکھنے کے مقابلے میں تیز ہوتی ہے۔ایسے میں پریشان نہیں ہونا چاہیے۔یہ پہلے بھی بتایا جا چکا کہ اس کے لئے کوئی شارٹ کٹ اپنایا جا سکتا،لفظ با لفظ لکھنا ضروری ہوتا ہے نا ہی ممکن،آپ تمہیدی باتوں کے ہنٹ لکھ سکتے ہیں ۔مثلا آیت نمبر لکھنے کی بجائے صرف گول دائرہ ڈالتے جائیں۔اہم چیزوں پر فوکس ہونا چاہیئے غیر ضروری چیزوں پہ وقت کے ضیاع سے بچیں۔استاد نے اگر اعوذباللہ من الشیطن الرجیم پڑھا تو آپ صرف تعوذ لکھیں۔عربی کی abbreviations بہت اچھی اچھی ہیں۔مثلا کلمہ طیبہ کو پورا لکھنے کی بجائے “تہلیل”سبحان اللہ و بحمدہ کی کو تسبیح۔اسی طرح آیت پوری لکھنے کی بجائے ابتدائی حروف لکھ کر ڈاٹ ڈاٹ ڈال دیں۔اگر پوری آیت لکھنے بیٹھیں گے تو ٹیچر آگے نکل جائے گا اور آپ لکھتے رہ جائیں گے،اس لئے اختصار سے کام لیں۔لوگوں پہ انحصار نا کریں کتابوں کی طرف آئیں۔کتابیں کنگالیں۔قرآن پاک میں سے جب چاہیں کھولیں اور پوری آیت نوٹ کر لیں جو باقی رہ گئی تھی۔مومن ،متقی ان لفظوں کے چھوٹے چھوٹے سائن رکھ لیں۔لکھنے کی بجائے سائن لگایا اور آگے نکل گئے۔اسی طرح ہر چیز کے نقطے مد شد لگانے کے عادی ہیں تو اگر نوٹس لیتے ہوئے نا لگائیں تو کوئی بات نہیں۔بغیر اعراب کے لکھ لیں،بعد میں اعراب پورے کر لیں۔یعنی آیت آپ لکھ رہے ہیں تو اعراب کے ساتھ مت لکھیں۔بعض اوقات استاد ایک بات کو دو تین جملوں میں دہراتا ہے،اس کو بعینہ لکھنے کی بجائے مفہوم اور اہم بات لکھ لیں۔مثلا شک وشبہ،خلش،تردد اگر ایک ہی جملے میں بولا ہے تو خالی شک لکھنا ہی کافی ہے۔یعنی جو مترادفات زیادہ بولے،کچھ استاد اس کا ازیادہ استعما ل کرتے ہیں۔اگر استادوں کی عادت میں طوالت ہو تو آپ اپنی تحریر میں اختصار اختیار کر سکتے ہیں۔اسی طرح اگر استاد بولیں کہ فاسقین کون ہوتے ہیں؟یہ سارا لکھنے کی بجائے “فاسقین”لکھ کر سوالیہ نشان لگا دیں۔مثلا استاد بولیں کہ منافقین کی صفات یہ ہوتیں ہیں۔آپ لکھیں کہ منافقین آگے دو نقطے لگا کر صفات لکھ دیں۔پھر اسی طرح مخلتف چیزوں کو لکھنے کے لئے مختلف کلر کے پین استعمال کریں۔مثلا روٹس کے لئے بلیک پین رکھ سکتے ہیں۔ترجمہ لکھنے کے لئے بلیو رکھ سکتے ہیں۔تفیسر لکھنے کے لئے ایک اور رنگ استعمال کر سکتے ہیں۔اسی طرح سوال جواب پورا لکھنے کی بجائے س اور ج لکھ سکتے۔حدیث کے لئے “ح”کا لفظ استعمال کر سکتے۔مثلا دل کا لفظ اگر بہت آ رہا ہو تو ہارٹ کا نشان بنا دیں۔بعض اوقات لوگ بغیر سوچے سمجھے املا کی طرح لکھتے ہین جیسے ان کو کوئی ڈکٹیٹ کروا رہا ہے۔آدھا جملہ گزرے تو ترتیب دے کر خود لکھیے۔۔۔صرف ڈکٹیشن نا لیجئے۔بلکہ تھوڑی سی بات سمجھ کر پھر پوری بات لکھیے۔پھر اسی طرح ہیڈنگ کے ساتھ نکات کو جب آپ لکھیں گے تو اس میں بھی آسانی ہو جائے گی۔پھر اسی طرح گھر جا کر نوٹس کو پڑھنے کی عادت ڈالیں ((Sq3 فارمولا کا طریقہ بھی لرننگ کے لئے بہت مفید ہے۔)اپنا احتساب خود کریں کہ کیا لکھا ہے اور کیا لکھنے کی ضرورت تھی۔اور خصوصا جب آپ نیند میں لکھ رہے ہوں اور قلم چھوٹ رہا ہو۔تو ان جملوں کو مکمل کریں۔گھر جا کر جب دہرائیں تو قلم ساتھ رکھیں،ساتھ ہی ساتھ کمی بیشی دور کرتے جائیں۔بغیر قلم کے نہیں پڑھیں۔نوک پلک سنوارتے جائیں۔اس سے یہ ہوگا کہ دہرائی بھی ہو جائے گی اور اس دن کے حافظے سے آپ کمی بیشی بھی دور کر لیں گے۔اگر اس کو لمبے عرصے تک کے لیے چھوڑ دیا تو آپ کو بھول جائے گا۔پھر اسی طرح دہرائی کرتے وقت چھوٹی چھوٹی ہینڈنگز بھی دی جا سکتیں ہیں۔اس طریقے سے امتحان مین یاد کرتے ہوئے آسانی رہتی ہے۔پھر اسی طرح بعض چیزیں اگر کلیئر نا ہوں تو دوبارہ ڈسکس کر کے نوٹ کر سکتے ہیں۔کسی اور کے ساتھ موازنہ کر سکتے ہیں۔دوسروں کے نوٹس دیکھیں کہ وہ کس طرح لکھتے ہیں؟اپنے اچھے تجربات اور مہارتوں کو دوسروں کے ساتھ شئیر کرنے میں بخل سے کام نا لیں۔دوسروں کے ساتھ شئیر کرنے سے آپ کا علم دوسروں کو ٹرانسفر ہوگا۔آپ کے لئے صدقہ جاریہ بنے گا۔مت مسلمہ کی خیر خواہی ہو گی۔سب لوگ اچھے سے اچھے طریقے سے کام کرنا سیکھیں گے۔کیونکہ ہر ایک کا اپنا طریقہ ہے۔تو جو سوچوں کا اشتراک اور شئیرنگ ہوتی ہے تو اس سے زیادہ بہتر چیزیں نکل کر سامنے آتیں ہیں۔
قرآن کے نوٹس کیسے لیے جائیں؟