435

قربانی کا حقیقی جزبہ

تحریر شئیر کریں

ارم ظہیر

“ارے واہ اس بار تو بکرے کے ساتھ گاۓ کی قربانی بھی کر رہے ہو” حیدر نے اپنی موٹر سائیکل انس کے پاس روکتے ہوۓکہا.
انس جو اپنے جانوروں کو محبت سے چارہ کھلا رہا تھا حیدر کی بات پر مسکرا دیا.. حیدر نے اپنی نئی چمکتی موٹر سائیکل ایک طرف احتیاط سے کھڑی کی اور انس کے پاس کھڑے ہو کر بکرے کی پیٹھ سہلانے لگا.
” بکرا کتنے کا ہے تمھارا. اور گاۓ کتنے کی لی ہے؟ ” حیدر نے بڑے تجسّس سے سوال کیا.
“یار بکرا تو تین چار ماہ پہلے میری خالہ کے گاؤں میں رکھوایا تھا.. البتہ گاۓ کل ہی خریدی ہے اور اس کی ابھی ادائیگی نہیں کی وہ میرے تایا نے کرنی ہے جو سعودی عرب میں رہتے ہیں” انس نے تفصیل سے جواب دیا.
” یعنی گاۓ کی قربانی تمھارے تایا کر رہے ہیں اور یہاں کیوں کر رہے ہیں؟ “حیدر نے پوچھا
” تایا جان کا خیال ہے چونکہ کرونا کی وجہ سے بیروزگاری میں اضافہ ہوا ہے لوگوں کو اچھی خوراک تک نہیں مل سکی اس لیے وہ گاۓ کا گوشت تمام غریبوں میں بانٹنا چاہتے ہیں سعودی عرب میں غربت ایسی نہیں ہے جیسی پاکستان میں ہے. میرے ابو نے بھی یہی سوچا ہے ک اس بار گھر میں بلکل گوشت نہیں رکھنا”.. انس نے بڑوں کے درمیان ہوئی گفتگو کو حیدر کے گوش گزار کیا.
” میری امی تو کہ رہی تھی اس بار زرا زیادہ گوشت گھر میں رکھ لیں گے اتنا مہنگا کون سا روز روز خریدا جا سکتا ہے “حیدر نے اپنی امی کی سوچ سے انس کو آگاہ کیا.
” دیکھو حیدر میرے پیارے نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ” عملوں کا دارومدار نیتوں پر ہے”اگر تم نے عید پر سنت ابراہیمی کو زندہ کیا ہے اور عام حالات میں تم گوشت نہیں خرید سکتے تو تم گوشت جمع بھی کر لو تو کوئی حرج نہیں لیکن اگر تم عام دنوں میں کبھی کبھار گوشت پکا لیتے ہو تو بہتر ہے کہ اپنے ساتھ اردگرد کے لوگوں کو بھی قربانی کے گوشت میں شامل کرلو.. اللہ بھی ہم سے راضی ہو گا اور محبت اور بھائی چارے کی فضا قائم ہو گی”.. انس نے حیدر کو سمجھاتے ہوئے کہا
” انس تمھاری باتوں نے میرے دل پہ اثر کیا ھے. تمھاری امی تمھیں یہ سب بتاتی ہیں؟ “حیدر نے کہا
” حیدر جیسے تم جانتے ہو کہ ہمارے گھر کا ماحول الحمدللہ مذہبی ہے. میرے امی ابو ہمیں ہمارے پیارے نبی کی سیرت اور اصحاب رسول کی زندگی سے متعلق کتابیں لا کر دیتے ہیں جن سے ہمیں بہت سی اچھی باتوں کا پتہ چلتا ہے. اگر تمہیں بھی پڑھنی ہیں تو مجھ سے لے لینا..” انس نے حیدر سے کہا تو وہ کچھ دیر سوچ کر بولا “ایسا کرو پھر مجھے بکر عید اور حضرت اسماعیل سے متعلق کتاب دو تاکہ میں اس عید کو اپنے اور اپنے گھر والوں کے لیے بہترین بنا سکوں “


” حیدر تم سارا دن کیا پڑھتے رہے ہو. تم تو ویسے ہی پڑھائی سے بھاگتے ہو تمھارے ہاتھ میں کل سے کتاب دیکھ کر حیرت ہو رہی..”حیدر کی ماما نے پو چھا
” انس سے لے کر آیا ہوں بہت اچھی کتاب ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اللَّهُ کی راہ میں قربانی کا مکمل واقعہ ہے”حیدر نے مما کو بتایا
” اچھی بات ہے کتابیں انسان کی بہت اچھی دوست ہوتی ہیں “حیدر کی مما اس کی کتاب میں دلچسپی لینے سے بہت خوشی محسوس کر رہی تھیں
” مما یہ واقعہ میں نے پہلے سنا تھا لیکن پڑھنے سے اس کو سمجھنے میں زیادہ آسانی ہوئی ہے. حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بیٹے کو ہی قربان نہیں کیا بلکہ اپنی بیٹےکے ساتھ محبت کو اللہ کے لیے قربان کیا. اپنی بیوی کو اللہ کی خاطر میدان میں تنہا چھوڑا. اپنے نفس کو قابو میں رکھا. ان کی قربانیوں کے صلہ میں رہتی دنیا تک اللہ نے اپنے نبی کی سنت کو زندہ رکھا اور بکر عید تو خواہشات کو قربان کرنے اور ایک دوسرےکے ساتھ باہمی یکجہتی کا نام ہے اس عید کی وجہ سے کتنے غریب لوگوں کو تقریباً سال بعد ہی گوشت کھانے کو ملتا ہو گا. اس لیے ہم بھی سارا گوشت اللہ کی خاطر تقسیم کریں گے.”حیدر نے جذباتی ہو کر کہا
” بات تو تمھاری ٹھیک ہے ہم تو مہینے میں ایک دو بار گوشت پکا ہی لیتے ہیں اس بار ہم بھی جمع نہیں کریں گے. “حیدر کی جذباتی گفتگو نےا ن کے دل پر گہرا اثر کیا. اور انہوں نے دل میں اپنی سوچ کو عملی جامہ پہنانے کا تہیہ کر لیا.
پیارے بچو اس کہانی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اچھی بات کو آگے ضرور پہنچائیں. یہ ہمارے لئے صدقہ بن جاتی ہے. اور جو اس پر عمل کرتا ہے اسکا اجروثواب عمل کرنے والے کو تو ملتا ہی ہے لیکن بتانے والے کو بھی ملتا ہے..

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں