447

قصہ ایک شکرگزار عورت کا

تحریر شئیر کریں

قصہ ایک شکرگزار عورت کا

وان شکرتم لازیدنکم۔القرآن
شکرگزاری وہ عادت ہے جو انسان کی نعمتوں میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔کہا جاتا ہے کہ دنیاوی اعتبار سے اپنے سے نیچے کی طرف دیکھنا انسان کو شکرگزار بناتا ہے اور شکرگزاری نعمتوں میں اضافے کا سبب ہے۔
ایک عورت بہت شکرگزار تھی۔وہ ہمیشہ اپنے سے نیچے کی طرف دیکھتی۔یہی وجہ تھی کہ اسے جب بھی کوئی دکھ ملتا وہ اس سے بڑے دکھ کا تصور کرتی کہ شکر ہے اس سے برا نہیں ہوا۔انسان کے ساتھ جتنا بھی برا ہو شکر کا کوئی نا کوئی راستہ ضرور ہوتا ہے۔تو بات ہو رہی تھی اس عورت کی جو شکر کا کوئی نا کوئی در وا رکھتی تھی۔وہ اپنے سارے دن کی خوشیاں اور دکھ لکھ لیا کرتی تھی۔

ایک شب اس نے لکھا کہ:

میں شکرگزار ہوں کہ میرا خاوند سوتے میں  تمام رات زور دار خراٹے لیتا ہے یہ اس بات کی دلیل ہے کہ
وہ زندہ ہے اور میرے پاس ہے نا۔الحمدللہ

میں خوش ہوں کہ میرا بیٹا صبح سویرے اس بات پر جھگڑا کرتا ہے کہ رات بھر مچھر، کھٹمل سونے نہیں دیتے یعنی وہ رات گھر پہ ہی گزارتا ہے آوارہ گردی نہیں کرتا۔
اس پر بھی اللّٰه کا شکر ہے۔

میں خوش ہوں کہ ہر ماہ اخراجات کی مد میں اچھا خاصا ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے یعنی میں اس قابل ہوں کہ ٹیکس اد کر سکوں۔
اس پر بھی اللّٰه کا شکر ہے۔

میں خوش ہوں کہ دن ختم ہونے تک میں بہت تھک جاتی ہوں۔ یعنی سارا دن میرے پاس کام۔کرنے کی۔انرجی ہوتی ہے۔
اور یہ انرجی اللہ۔رب العزت کی پیدا کردہ ہے۔الحمد للہ

میں خوش ہوں کہ روزانہ اپنے گھر کا جھاڑو پونچا کرنا پڑتا ہے اور دروازے کھڑکیاں صاف کرنا پڑتی ہیں شکر ہے میرے پاس گھر تو ہے نا۔۔ جن کے پاس نہیں ان کا کیا حال ہوتا ہوگا۔
اس پر اللّٰه کا شکر ہے۔

میں خوش ہوں کہ کبھی کبھار تھوڑی بیمار ہو جاتی ہوں یعنی میں زیادہ تر صحت مند ہی رہتی ہوں۔۔
اس پر بھی اللّٰه کا شکر ہے۔

میں خوش ہوں کہ ہر سال عید پر تحفے اور عیدی دینے میں پرس خالی ہو جاتا ہے یعنی میرے پاس چاھنے والے میرے عزیز رشتہ دار دوست احباب ہیں جنہیں تحفہ دے سکوں۔ اگر یہ نہ ہوں تو زندگی کتنی بے رونق ہو۔
اس پر بھی اللّٰه کا شکر ہے۔

میں خوش نصیب ہوں کہ ہر رات کی صبح نصیب ہوتی ہے۔یعنی میں زندہ ہوں کہ ایک نئ صبح دیکھنا نصیب ہوتی ہے۔الحمد للہ

ظاہر ہے یہ اللّٰه کا ہی کرم ہے۔

جینے کے اس انمول فارمولے پر عمل کرتے ہوئے اپنی بھی اور اپنے سے وابستہ لوگوں کی زندگی پرسکون بنانی چاہیے

بارک اللہ فیکم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں