-
قنوت نازلہ ایک ایسی عبادت ہے جس میں انسان اپنے دل کی گہرائیوں سے اللہ تعالیٰ کے سامنے عجز و انکساری کے ساتھ دعائیں مانگتا ہے، خاص طور پر جب کوئی عظیم مصیبت، آزمائش یا دشمنی پیش آتی ہے۔ ’’قنوت‘‘ کا لغوی معنی ہے ’’خشوع و خضوع‘‘ اور ’’نازلہ‘‘ کا مطلب ہے ’’مصیبت یا آفت‘‘۔ جب انسان کسی عظیم مصیبت میں گرفتار ہو، تو وہ اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے ہوئے، خاص دعاؤں کے ذریعے مصیبت سے نجات کی درخواست کرتا ہے۔ یہ عمل اس وقت کیا جاتا ہے جب کسی قوم پر مشکل آئے، یا جب وہ کسی خاص فتنہ یا دشمن کے خلاف اللہ سے مدد کی دعا کریں۔
نبی اکرم ﷺ نے قنوت نازلہ کی اہمیت اور اس کے طریقہ کار کو واضح کیا۔ آپ ﷺ جب کسی قوم پر اللہ کی مدد کی دعا کرتے، یا دشمن کے خلاف بددعا کرتے، تو اس وقت قنوت کا اہتمام کرتے تھے۔ اس عبادت کی مسنون طریقہ یہ ہے کہ فرض نماز کی آخری رکعت میں، رکوع کے بعد کھڑے ہو کر، مسلمانوں کے حق میں دعا کی جائے اور بدترین کافروں، ظالموں اور دشمنوں کے خلاف بددعا کی جائے۔
قنوت نازلہ کا مسنون طریقہ
قنوت نازلہ کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ ہم اپنے فرض نمازوں کی آخری رکعت میں رکوع کے بعد ہاتھ اُٹھا کر، اللہ سے دعا کریں۔ یہ دعا ہم دن میں کم از کم ایک بار پڑھ سکتے ہیں، خاص طور پر فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کے حق میں، جو ظلم و ستم کا شکار ہیں۔ یہ ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم اپنے مسلمان بھائیوں کے لیے دعا کریں اور اللہ سے ان کی مدد طلب کریں۔
دعا کی عبارت:
اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلَنَا وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَ اَلِّفْ بَیْنَ قُلُوْبِهِمْ وَ اَصْلِحْ ذَاتَ بَیْنِهِمْ وَ انْصُرْهُمْ عَلَی عَدُوِّکَ وَ عَدُوِّهِمْ
“اے اللہ! ہمیں اور تمام مومن مردوں، مومن عورتوں، مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو بخش دے۔ ان کے دلوں میں محبت ڈال دے، ان کے درمیان اصلاح کر دے اور ان کی مدد فرما، اپنے اور ان کے دشمنوں کے خلاف۔”
دعا کی دوسری عبارت:
اَللّٰہُمَّ الْعَنِ الْکَفَرَةَ الَّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِکَ وَ یُکَذِّبُوْنَ رُسُلَکَ وَ یُقَاتِلُوْنَ اَوْلِیَائَکِ
“اے اللہ! ان کافروں پر لعنت فرما جو تیرے راستے سے روکتے ہیں، تیرے رسولوں کو جھٹلاتے ہیں اور تیرے دوستوں سے لڑتے ہیں۔”
دعا کی تیسری عبارت:
اَللّٰہُمَّ خَالِفْ بَیْنَ کَلِمَتِهِمْ وَ زَلْزِلْ اَقْدَامَهِمْ وَ اَنْزِلْ بِهِمْ بَأْسَکَ الَّذِیْ لَا تَرُدُّهُ عَنْ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ
“اے اللہ! ان کے درمیان اختلاف ڈال دے، ان کے قدموں کو ڈگمگایا دے اور ان پر اپنا وہ عذاب نازل کر جو تو مجرم قوم سے واپس نہیں لوٹاتا۔”
قنوت نازلہ کا مقصد اور اہمیت
قنوت نازلہ کی دعا کے ذریعے ہم نہ صرف اپنی دعاؤں کے ذریعے اللہ سے مدد طلب کرتے ہیں، بلکہ یہ بھی ہمارے ایمان کی علامت ہے کہ ہم اس وقت اپنے مسلمان بھائیوں کی حالت زار کو اپنی حالت سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ یہ دعا ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہم اللہ کے کرم سے ہر مصیبت سے نجات حاصل کر سکتے ہیں، بشرطیکہ ہم اللہ کے سامنے سرِ تسلیم خم کریں اور اللہ کی رضا کے لیے دعا کریں۔
یہ دعائیں ہماری ایمان کو مضبوط کرتی ہیں اور اللہ کے ساتھ تعلق کو بہتر بناتی ہیں۔ فلسطین میں ہونے والی ظلم و ستم کی صورتحال میں ہمیں اللہ کے حضور جھک کر اس کی مدد مانگنی چاہیے، کیونکہ اللہ تعالی کے پاس ہر دکھ اور مصیبت کا علاج ہے۔
ایک مشترکہ عمل کی ضرورت
یہ دعا اور قنوت نازلہ نہ صرف ہمارے فردی روحانیت کا حصہ ہے، بلکہ یہ ایک اجتماعی ذمہ داری بھی بنتی ہے۔ ہمیں اپنے گھروں میں، بچوں کو بھی اس کی اہمیت سے آگاہ کرنا چاہیے۔ بچوں کو قنوت نازلہ سکھانا اور انہیں اس دعا کے بارے میں بتانا، ہمارے مستقبل کے حوالے سے بہت اہمیت رکھتا ہے۔ ہمیں اپنے گھروں میں ایک آواز بنانی چاہیے تاکہ ہر مسلمان اس دعا کے ذریعے فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کی مدد کے لیے اللہ سے دعا کرے۔
**آخرکار، ہم سب کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ظالموں کو تباہ و برباد کر دے اور مسلمانوں کو امن و امان کی حالت میں لائے۔**
کن سعیدا بفتح فلسطین ان شاء اللہ
اللہ کی مدد سے، فلسطین کی فتح قریب ہے۔ ہم سب کی دعاوں کا اثر ضرور ہوگا، ان شاء اللہ۔
قنوت نازلہ دعا ایٹم بم