قوت حافظ تیز کیسے کریں؟
تحریر: روبینہ شاہین
یادداشت کی کمزوری صرف ایک طبی مسئلہ نہیں، بلکہ روح کی پژمردگی کی علامت بھی بن سکتی ہے۔ ایک بار مشہور عالمِ دین، محدث مؤرخ مولانا اسحاق بھٹی رحمہ اللہ سے دورانِ انٹرویو کسی نے پوچھا: “آپ پرانی باتیں اور واقعات کیسے یاد رکھتے ہیں؟”
مولانا نے مسکراتے ہوئے فرمایا:
“نماز کے بعد ایک خاص وظیفہ میری زندگی کا معمول ہے۔ یہ صرف حافظے کو جِلا ہی نہیں دیتا بلکہ ذہن کو نور بھی عطا کرتا ہے۔”
انہوں نے تین مختصر مگر باکمال اذکار بتائے جو ہر نماز کے بعد چند لمحوں میں کیے جا سکتے ہیں:
1. رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا (10 مرتبہ)
2. لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰہ (10 مرتبہ)
3. رَبِّ اشْرَحْ لِيْ صَدْرِي … وَيَفْقَهُوا قَوْلِي (10 مرتبہ، مکمل آیت)
یہ عمل نہ صرف طالبعلموں، بلکہ ہر اس فرد کے لیے روشنی کا مینار ہے جو ذہنی الجھن، بھولنے کی بیماری یا دباؤ کا شکار ہو۔ روحانی اثرات کے ساتھ ساتھ، ان اذکار سے ذہن کو سکون اور دل کو یقین حاصل ہوتا ہے۔
ڈیجیٹل دور کی شورش میں، جہاں ہم ڈیجیٹل نوٹس اور یاددہانیوں پر انحصار کرنے لگے ہیں، یہ روحانی نسخہ ہمیں اپنے اندر کے سکون، اعتماد اور علم کی اصل طاقت سے جوڑتا ہے۔
آج سے ہر نماز کے بعد یہ تین اذکار اپنائیے، اور اپنے حافظے کو ربانی روشنی سے منور کیجیے۔
-قوت حافظ تیز کیسے کریں؟