کچھ لمحے بڑے قیمتی ہوتے ہیں۔سیپ میں بند موتی کی طرح ان ڈھکے،چھپے ہوۓ کہیں چرا نا لیے جائیں۔جیسے سب لمحے قیمتی نہیں ہوتے ویسے سب لمحے ارزاں بھی نہیں ہوتے۔ہر لمحے کاا پنا حسن ہوتا ہے۔ہر لمحہ متقاضی ہے کہ اسے ہر کان سے ناسنا جاۓ ہر آنکھ سے نادیکھا جاۓ۔
یہ وہ لمحے ہوتے ہیں جو انسان سب سے محبوب ہستی اللہ رب العزت کے قریب کرتے ہیں۔چاہے وہ اللہ کی خشیت سے گرنے والے آنسو ہو یا اس ذات کی یاد میں ادا کیا جانے والا سجدہ ۔۔دونوں انمول ہوتے ہیں۔دونوں کی حفاظت
ضروری ہے۔از حد ضروری۔دونوں کو مخلوق سے چھپانا ضروری ہے۔اللہ جانتا تھا انسان کی کمزوری کو جبھی اس نے اپنے بندوں کو رات کا آخری لمحہ عنایت کیا۔جب سارا جگ خواب خوگوش کے مزے لوٹ رہا ہو تو تب اس کے چاہنے والے اس کے آگے سربسجود ہو کر اپنے دل کا غبار نکالیں۔اس کی یاد میں آنسو بہائیں۔اس کی جہنم سے ڈرتے ہوۓ جنت کے طلب گار ہوں۔دنیاوی حاجتوں کے لیے اسی سی مانگیں۔کسی اور کے در پہ نا جھکیں۔بلکہ اسی سے فریاد کریں۔
ان لمحوں کی پاکیزگی یہ ہے کہ ان کودل کے نہال خانوں میں کسی پاکیزہ یاد کی طرح چھپا کر رکھا جاۓ۔،قیمتی موتی کی طرح یادوں کی لڑی میںں پرو کر سنبھال لیا جاۓ۔بالکل ایسے جیسے قدرت سیپ میں بند موتیوں کو سمندر کی تہوں میں چھپا کر رکھتی ہے۔
یہ حفاظت اس لیے ضروری ہے کہیں یہ لمحے بھاپ کی طرح اڑ نا جائیں مٹی میں بند ریت کی طرح پھسل نا جائیں۔اور انسان محروم ہو کر خالی ہاتھ نا رہ جاۓ۔اللہ کی یاد کے بن دل دل نہیں رہتا ،قبرستان بن جایا کرتا ہے۔اس کو قبرستان مت بننے دیں۔قبرستان دلوں کا ہو تو اس سے ویران شے اس دنیا میں نہیں۔ویرانی سے بچیں۔