593

ماں بچه اور کتاب

تحریر شئیر کریں

ماوراء زیب

عموماً مائیں یہ سوال کرتی ہیں کہ بچوں کے ہاتھوں میں کتاب کیسے پکڑائی جائے۔ تو جناب اس کا سیدھا سا جواب یہ ہے کہ پہلے آپ کتاب ہاتھ میں پکڑیں۔.

آپ کے مطالعہ کرنے سے بچے کو فوراً ہی مطالعہ کرنا نہیں آجائے گا بلکہ اس کے دل میں شوق پیدا ہوگا کہ میں بھی کتاب پڑھوں…. کم از کم میرا تجربہ یہی ہے جب میں کتاب پکڑتی تھی تو میرے بچے میرے پاس آجاتے تھے کہ ہمیں بھی پڑھائیں ایک لائن پڑھاتی تھی اور وہ پھر بھاگ جاتے تھے پھر تھوڑی دیر بعد آتے تھے پھر یہی فرمائش ہوتھی تھی…… جو کتاب میں 2 گھنٹے میں ختم کر سکتی تھی اسے ختم کرنے میں دو دن لگ جاتے تھے۔ مکمل جملہ پڑھنے میں میرے بچوں کو 5 منٹ تو لگ ہی جاتے تھے۔ ظاہر ہے صاف بولنا نہیں آتا تھا اور لفظ بھی ان کے لیے مشکل ہوتے تھے۔

مجھے یاد ہے جب میرا بڑابیٹا تقریباً ڈیڑھ سال کا تھا اس وقت مجھے روسی ادب پڑھنے کا شوق چڑھا ہوا تھا۔ ان کے نام کافی مشکل ہوتے ہیں ایک کردار کے نام کا تلفظ اپنے بیٹے کے سامنے درست کرتے کرتے ہی مجھے 7 سے 8 منٹ لگ جایا کرتے تھے۔ بس اس کے بعد میرے بیٹے کی بس ہوجاتی تھی اور وہ میرے پاس سے بھاگ جایا کرتا تھا۔ مگر پھر دوبارہ ضرور آتا تھا۔ ایک سے دو سال کی عمر میں میرے بچوں نے کتابوں اور اخبارات کے کئی صفحے کھائے ہیں۔ کھلونوں کے ساتھ ساتھ پرانے ڈائجسٹ، کاپیاں اور سٹیشنری کے سامان کے ساتھ بہت کھیلے ہیں میرے بچے۔ انہیں کھلونے کم اور کتابیں زیادہ دلچسپ لگتی تھیں۔ اب بیٹی بھی ماشاءاللہ اپنے بھائیوں کے نقشِ قدم پر چل رہی ہے۔

میں نے پڑھائی کے لیے کبھی اپنے بچوں کو مارا نہیں ہے۔ غلط بات پر ڈانٹتی ضرور ہوں کبھی کبھی کسی غلط حرکت پر تھپڑ بھی لگایا ہے لیکن پڑھائی کے لیے کبھی نہیں مارا الحمدللہ۔ شاید یہی وجہ ہے پڑھائی سے بھاگتے نہیں ہیں، تھک ضرور جاتے ہیں مگر چڑتے نہیں۔ اسی لیے اردو کی کتاب پڑھانا بھی میرے لیے کافی آسان ثابت ہوا۔ الحمدللہ

یہ ساری گفتگو تو شوق پیدا کرنے کے لیے تھی۔ اصل سوال یہ ہے کہ اردو کی کتاب پڑھائی کیسے جائے؟

میں نے اس سلسلے میں سب سے زیادہ کام نورانی قاعدے پر کیا تھا۔ نورانی قاعدے کی مشق کےبعد میرا ہدف “مصوتے” تھا۔ اردو میں ا، و، ی اور ے مصوتے یعنی Vowels ہیں۔ اگر بچہ مصوتوں کی مشق بآسانی کر لے تو وہ کتاب میں بھی آرام سے جوڑ توڑ کر سکتا ہے۔ میں نے اپنے بیٹے کو نورانی قاعدے کی مشق کے بعد مصوتوں کی مشق کروائی اور اس کے بعد اس کے آگے آکسفورڈ کی شائع کردہ نرسری کی کتاب رکھ دی۔ جس میں چھوٹے چھوٹے اسباق ہیں۔چند ایک الفاظ کو چھوڑ کر الحمدللہ میرا بیٹا بآسانی کتاب پڑھنے لگ گیا۔ کچھ الفاظ جو مصوتوں سے ہٹ کر تھے وہ میں نے بتائے جیسے اللہ، شکریہ وغیرہ مگر عمومی جملے اس نے الحمدللہ خود پڑھے۔

اب یہاں سوال یہ ہے کہ مصوتوں کی مشق کیسے کروائی جائے۔ اس کا طریقہ درج ذیل ہے:

پہلے “ا” کو لیجیے اس کے ساتھ “ب” کوجوڑیے،
ب+ا= با اسے بچے کے سامنے ایسے ہی لکھیے اور باقاعدہ آواز نکال کر پڑھیے۔
بیٹا ب+ا= کیا بنتا ہے؟ با
پ+ا= کی آواز کیسے نکلتی ہے؟ پا
ت+ا= کو کیسے پڑھتے ہیں تا

اسی طرح تین سے 4 مزید حروفِ تہجی کا پوچھیے اور اس کے بعد والے حروف بچے سے پوچھیے۔ 4 یا 5 حروفِ تہجی کو ا کے ساتھ جوڑ کو آپ خود آواز نکالیے اس کے بعد بچے سے پوچھیے۔ اب جس حروفِ تہجی کو ا کے ساتھ جوڑیں گے ایک ہی آواز آئے گا اا کی۔ بچہ تین یا چار الفاط سن کر ہی سمجھ جائے گا کہ آگے ایسے ہی پڑھنا ہے۔
ن+ا= نا ہوگا
اسی طرح ل+ا= لا۔ اسی طرح سارے حروف کی مشق کرنی ہے۔

ا کے بعد ایسے ہی و کے ساتھ مشق کرنی ہے ہر حروفِ تہجی کو و کے ساتھ جوڑیے۔
ب+و= بو
پ+و= پو
ت+و= تو
اسی طرح تمام حروفِ تہجی۔
ی کے ساتھ بھی ایسے ہی مشق ہوگی اور ے کے ساتھ بھی۔ اگر بچہ اس میں ماہر ہوجائے کہ مصوتوں کو دیکھتے ہی ان کی آوازیں پہچان جائے تو بس سمجھ جائیے الحمدللہ اب آپ کا بچہ اردو کی کتاب پڑھنے کے لیے تیار ہے۔

اردو زبان بہت وسیع ہے آپ بچے کو ہر لفظ نہیں سکھا سکتے اس لیے میرا مشورہ یہی ہے کہ مصوتوں کی مشق کے بعد آپ بچے کو آسان جملوں والی کوئی کتاب پڑھنا سکھائیں۔ جس لفظ پر بچہ اٹک رہا ہو اس کے ہجے کروائیں بغیر حرکات(زبر، زیر اور پیش) کے، اور ساتھ ساتھ املاء کروائیں تاکہ بچے کے ذخیرۂ الفاظ میں اضافہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں