مولانا یوسف اصلاحی اور درزی
مولانا یوسف اصلاحی ہم میں نہیں رہے اور راہ عدم سدھار گئے ان کی زندگی سادگی اور علم کا مرقع تھی تاحیات قلم وقرطاس اور ترتیب و تحقیق سے ناطہ جوڑے رکھا ۔انکی شہرہ آفاق کتاب آداب زندگی جو اب تک کی زبانوں میں ترجمہ ہو چکی ہے ایک دنیا ہے جو اس کتاب کی دیوانی ہے اور کئ مدارس میں پڑھائی جا رہی ہے اس کے علاوہ سو سے زائد تصانیف کے مصنف ہیں تا حیات محدث میگزین میں علمی ادبی تحریریں لکھتے رہے جو علمی حلقوں میں ہسند کیے جاتے تھے۔
مولانا یوسف اصلاحی دین کی طرف کیسے آئے انھیں کس چیز نے متاثر کیا یہ وہ سوال یے جو بہت اہم اور قابل غور ہے
مولانا کہتے ہیں کہ میں نے کم عمری میں ہی حفظ قرآن کی تعلیم حاصل کر لی اور میرے والد نے مدسہ سہانپور میں داخل بھی کروا دیا مگر یہ سب والد صاحب کے کہنے پہ کر رہا تھا۔
پھر انکے محلے میں ایک درزی رہتا تھا جو مجھے کتاب پڑھنے کے لیے دیا کرتے تھے مجھے اس کی کتابوں سے کوئء لگاو نا تھا میں کتاب لے لیتا اور اسی طرح بغیر پڑھے واپس کر دیا کرتا تھا پھر ایک دن ان کی دی ہوئی ایک کتاب کھول بیٹھا جسے پڑھنے بعد میرے دل و دماغ میں ایک عظیم انقلاب برپا ہو گیا۔اس کتاب کا نام ہے تنقیحات جس کے مصنف سید مودودی ہیں جو علمی حلقوں میں ایک مقام رکھتی ہے۔
غور طلب نکات
درزی کا اسلوب دعوت ہے جس نے خاموشی سے اپنا کام کیا اور مولانا کی تاحیات نیکیوں میں اپنا حصہ پا لیا۔
مولانا کا ایک کتاب پڑھنا پھر خود کو بدلنا ہے کبھی کبھی ایک کتاب بھی کافی ہوجاتی ہے اگر عمل میں رچ بس جائے تو یم کتابیں تو بہت سی پڑھتے ہیں مگر عمل نہیں کرتے بغیر عمل کے علم ناقص ہے بلکہ قیامت کے دن وبال بن جائے گا۔مولانا کی ساری زندگی اس کتاب کو پڑھنے کے بعد عمل میں گزری جو ہمارے لیے مشعل راہ ہے

راقمہ نے یہ کتاب انٹر کے بعد ایک اسلامک کورس میں پڑھی تھی اپنے موضوع کے اعتبار سے منفرد اسلوب کی حامل یہ کتاب جسے ہر گھر اور ہر دل میں ہونا چاہیے۔
مولانا یوسف اصلاحی اور درزی