70

نئے قرآن ٹیچرز کو سٹوڈنٹس کیوں نہیں ملتے؟

تحریر شئیر کریں

نئے قرآن ٹیچرز کو سٹوڈنٹس کیوں نہیں ملتے؟ ایک مخلصانہ مشورہ

نئے قاری اور قاریہ حضرات کو آن لائن قرآن کے سٹوڈنٹس نہیں مل رہے؟ جانیں فری شارٹ کورس، بہترین تدریس اور اعتماد کے ذریعے سٹوڈنٹس حاصل کرنے کا عملی طریقہ

اگر آپ ایک نئے آن لائن قرآن ٹیچر ہیں اور آپ کو بار بار یہ شکایت رہتی ہے کہ “مجھے سٹوڈنٹس نہیں ملتے” تو آج میں آپ کو ایک بہت سادہ اور مخلصانہ مشورہ دینا چاہتی ہوں۔

خاص طور پر وہ قاری اور قاریہ حضرات جو ابھی آن لائن قرآن پڑھانے کے شعبے میں نئے آئے ہیں اور سٹوڈنٹس کی تلاش میں ہیں، وہ اس طریقے کو ضرور آزما سکتے ہیں۔

یہ کوئی مہنگی مارکیٹنگ نہیں بلکہ محنت، خدمت اور اعتماد سے شروع ہونے والا ایک طریقہ ہے۔

ایک شارٹ قرآن کورس فری کروائیں

میرا مشورہ ہے کہ آپ اپنی مہارت کے مطابق کوئی ایک مختصر قرآن کورس مفت کروائیں۔

آپ ناظرہ قرآن، بنیادی تجوید، نورانی قاعدہ، نماز کی درستگی، بچوں کی بنیادی اسلامی تعلیمات یا قرآن ترجمہ کی ابتدائی کلاسز میں سے کوئی ایک مختصر کورس منتخب کر سکتے ہیں۔

لیکن صرف کورس فری کروانا کافی نہیں۔

اصل کامیابی اس بات میں ہے کہ آپ اس کورس کو کتنی محنت اور ذمہ داری سے پڑھاتے ہیں۔

فری سٹوڈنٹ کو بھی اتنی ہی اہمیت دیں

جب آپ فری کورس شروع کریں تو یہ نہ سوچیں کہ چونکہ سٹوڈنٹ فیس نہیں دے رہا، اس لیے اسے کم وقت یا کم توجہ دی جائے۔

بلکہ اپنے ذہن میں یہ تصور رکھیں:

“یہ میرا وہ سٹوڈنٹ ہے جو مجھے ایک اچھا معاوضہ دے رہا ہے، اور مجھے اسے بہترین طریقے سے پڑھانا ہے۔”

جس خوشی، تیاری، توجہ اور ذمہ داری کے ساتھ آپ ایک بیرونِ ملک سٹوڈنٹ کو پڑھائیں گے، اسی جذبے سے اپنے فری سٹوڈنٹ کو بھی پڑھائیں۔

کیونکہ یہ سٹوڈنٹ آپ کے لیے صرف ایک طالب علم نہیں بلکہ آپ کی تدریس کا عملی تعارف بھی بن سکتا ہے۔

وہ آپ کا پڑھانے کا طریقہ دیکھے گا، آپ کی وقت کی پابندی دیکھے گا، آپ کا اخلاق دیکھے گا اور آپ کی محنت کو محسوس کرے گا۔

سب سے بڑھ کر وہ یہ دیکھے گا کہ آپ واقعی ایک مخلص اور ذمہ دار قرآن ٹیچر ہیں۔

آن لائن قرآن ٹیچنگ میں اعتماد سب سے اہم ہے

آن لائن قرآن پڑھانے کے لیے صرف سوشل میڈیا پر یہ لکھ دینا کافی نہیں کہ:

“میں بہترین قرآن ٹیچر ہوں۔”

لوگ آپ کے دعوے سے زیادہ آپ کا کام دیکھنا چاہتے ہیں۔

خاص طور پر والدین یہ جاننا چاہتے ہیں کہ استاد وقت کا پابند ہے یا نہیں، بچے کو نرمی سے پڑھاتا ہے یا نہیں، تجوید کی غلطیاں درست کرواتا ہے یا نہیں، کلاس باقاعدگی سے لیتا ہے یا نہیں اور بچے کی کمزوری پر توجہ دیتا ہے یا نہیں۔

اگر آپ ایک فری شارٹ کورس کے دوران ان سوالات کا عملی جواب دے دیں تو یہی کورس آپ کے لیے اعتماد بنانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

Atomic Habits سے ایک خوبصورت سبق

مشہور کتاب Atomic Habits میں James Clear چھوٹی چھوٹی مثبت عادات اور مستقل مزاجی کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔

ان کا ایک معروف جملہ ہے:

«”Habits are the compound interest of self-improvement.”»

یعنی اچھی عادات وقت کے ساتھ جمع ہو کر انسان کی بہتری میں بڑا فرق پیدا کرتی ہیں۔

آن لائن قرآن ٹیچنگ میں بھی یہی اصول بہت خوبصورت انداز سے لاگو ہوتا ہے۔

ممکن ہے ابتدا میں آپ کے پاس صرف ایک سٹوڈنٹ ہو۔ آپ روزانہ اپنی تدریس میں ایک چھوٹی بہتری لائیں۔ آج کلاس بہتر تیار کریں، کل بچوں کو سمجھانے کا نیا طریقہ آزمائیں اور پرسوں اپنی تجوید کی وضاحت مزید آسان بنائیں۔

وقت کے ساتھ یہی چھوٹی چھوٹی بہتریاں آپ کے تدریسی معیار اور اعتماد کو مضبوط کر سکتی ہیں۔

اپنی توجہ ان چیزوں پر رکھیں جو آپ بہتر کر سکتے ہیں

نئے ٹیچرز اکثر یہ سوچ کر پریشان رہتے ہیں:

“مجھے سٹوڈنٹس کیوں نہیں مل رہے؟”

لیکن اس سوال کے بجائے ایک اور سوال زیادہ مفید ہے:

“میں اپنی تدریس کو بہتر کیسے بنا سکتا ہوں؟”

آپ یہ فیصلہ نہیں کر سکتے کہ آج کتنے لوگ آپ کو میسج کریں گے۔

لیکن آپ یہ ضرور طے کر سکتے ہیں کہ آپ کلاس کے لیے کتنی تیاری کریں گے، وقت کی کتنی پابندی کریں گے، سٹوڈنٹ کے ساتھ کیسا رویہ رکھیں گے اور اپنی تدریسی مہارت کیسے بہتر کریں گے۔

یہ وہ چیزیں ہیں جن پر آپ کا اختیار ہے۔

فری کورس آپ کی Marketing بھی بن سکتا ہے

فری قرآن کورس کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ آپ کو اپنی آن لائن مارکیٹنگ کے لیے حقیقی تجربہ حاصل ہوتا ہے۔

اگر سٹوڈنٹس آپ کے طریقۂ تدریس سے خوش ہوں تو ان کی اجازت سے آپ ان کا Feedback یا Testimonial اپنی پروفیشنل پروفائل اور سوشل میڈیا پر شیئر کر سکتے ہیں۔

اس طرح آپ کا کام خود آپ کے لیے ایک تعارف بن سکتا ہے۔

ایک مطمئن سٹوڈنٹ اپنے کسی جاننے والے کو آپ کے بارے میں بتا سکتا ہے، اور یوں ایک سٹوڈنٹ مزید مواقع کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

البتہ سٹوڈنٹ کی پرائیویسی اور اجازت کا ہمیشہ خیال رکھیں۔

قرآن سکھانے کا اجر بھی ہے

اس پورے معاملے کا سب سے خوبصورت پہلو یہ ہے کہ قرآنِ کریم کی تعلیم صرف ایک کاروباری سرگرمی نہیں۔

اگر نیت اللہ تعالیٰ کی رضا اور قرآن کی تعلیم پھیلانا ہو تو یہ ایک نیک عمل بھی ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«”خیرکم من تعلم القرآن وعلمه”»

ترجمہ: “تم میں سب سے بہترین وہ ہے جو قرآن سیکھے اور اسے سکھائے۔”

(صحیح البخاری)

اس لیے اگر آپ ایک مختصر کورس مفت پڑھا رہے ہیں تو اسے صرف Marketing کے طور پر نہ دیکھیں۔

اسے خدمتِ قرآن بھی سمجھیں۔

نئے قاری اور قاریہ حضرات کے لیے میرا مخلصانہ مشورہ

اگر آپ ابھی اس فیلڈ میں نئے ہیں تو شروع میں سٹوڈنٹس کی تعداد کم ہونے پر مایوس نہ ہوں۔

پہلے اپنی بنیاد مضبوط کریں۔

علم، اچھی تدریس، اخلاق، وقت کی پابندی اور مستقل مزاجی کو اپنی طاقت بنائیں۔

اپنے پہلے سٹوڈنٹ کو معمولی نہ سمجھیں۔

اسے اپنا بہترین سٹوڈنٹ سمجھ کر پڑھائیں۔

اپنی ہر کلاس کو اپنی قابلیت دکھانے کا موقع سمجھیں۔

اور ہر دن خود سے کہیں:

“آج مجھے کل سے بہتر استاد بننا ہے۔”

کیا فری کورس کے بعد سٹوڈنٹس ملنے کی گارنٹی ہے؟

یہاں ایک بات واضح کرنا ضروری ہے۔

فری کورس کرنے سے سٹوڈنٹس ملنے کی سو فیصد ضمانت نہیں دی جا سکتی، کیونکہ سٹوڈنٹس کی تعداد کئی عوامل پر منحصر ہوتی ہے۔

لیکن ایک اچھا فری کورس آپ کو تجربہ حاصل کرنے، اعتماد بنانے، اپنی تدریس دکھانے، Feedback لینے اور Word of Mouth Marketing پیدا کرنے کا موقع ضرور دے سکتا ہے۔

اس لیے اسے گارنٹی نہیں بلکہ ایک عملی موقع سمجھیں۔

آخر میں

میرا یہ مشورہ خاص طور پر ان نئے قاری اور قاریہ حضرات کے لیے ہے جو قرآن پڑھانا چاہتے ہیں لیکن انہیں آن لائن سٹوڈنٹس نہیں مل رہے۔

کوئی ایک مختصر کورس فری کروائیں، لیکن صرف نام کا فری کورس نہیں۔

ڈٹ کر محنت کریں۔

ایسے پڑھائیں جیسے آپ کا سٹوڈنٹ آپ کو بہت اچھی فیس دے رہا ہے۔

اس کی کلاس کے لیے تیاری کریں، وقت کی پابندی کریں، محبت سے پڑھائیں اور اس کی غلطیوں کی اصلاح کریں۔

ممکن ہے آپ کا یہی ایک سٹوڈنٹ مستقبل میں کسی دوسرے شخص کو آپ کے بارے میں بتائے اور یوں آپ کی محنت، خدمت اور اچھی تدریس آپ کی بہترین Marketing بن جائے۔

بس ایک بات یاد رکھیں:

سٹوڈنٹس کے پیچھے بھاگنے سے پہلے اپنے علم، کردار اور تدریس کو ایسا بنائیں کہ لوگ آپ کے پاس آنا چاہیں۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو قرآنِ کریم سیکھنے، سکھانے، سمجھنے، عمل کرنے اور آگے پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین یا رب العالمین۔

سلامت رہیں اور قرآن سے جڑے رہیں۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

کیا نئے قرآن ٹیچر کو فری کورس کروانا چاہیے؟

جی، نئے ٹیچر کے لیے یہ ایک مفید طریقہ ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب مقصد تجربہ، اعتماد اور اپنی تدریس لوگوں تک پہنچانا ہو۔

کیا فری قرآن کورس سے سٹوڈنٹس مل سکتے ہیں؟

ممکن ہے، لیکن اس کی سو فیصد ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ اچھا تدریسی تجربہ، اعتماد اور مثبت Word of Mouth مستقبل میں نئے سٹوڈنٹس کے امکانات پیدا کر سکتے ہیں۔

آن لائن قرآن ٹیچر سٹوڈنٹس کیسے حاصل کرے؟

اپنی تدریس بہتر کرنے کے ساتھ مفید تعلیمی Content، فری Introductory Classes، واضح Course Information اور حقیقی Feedback کے ذریعے اپنی پروفائل اور اعتماد کو مضبوط کیا جا سکتا ہے۔

نئے قرآن ٹیچر کے لیے سب سے اہم چیز کیا ہے؟

علم کے ساتھ اچھی تدریس، اخلاق، وقت کی پابندی، مستقل مزاجی اور سٹوڈنٹس کے ساتھ مخلصانہ رویہ بہت اہم ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں