546

ٹڈی دل کے بارے اسلام۔ کیا کہتا ہے؟

تحریر شئیر کریں

تحریر : لبنٰی جمشید

ٹڈی دل جسے caelifera بھی کہا جاتا ہے ۔ عموماََ یہ ہلکے براؤن کلر کی ہوتی ہیں ۔ ان کی چھ ٹانگیں دو سینے میں دو نچلی ٹانگوں سے ذرا اوپر مکمل گرفت رکھنے والی ہوتی ہیں۔ ٹڈی ان حشرات میں سے ہے جو لشکر کی طرح ایک ساتھ پرواز کرتی ہیں اور اپنے سردار کے تابع ہوتی ہیں اگر ٹڈیوں کا سردار پرواز کرتا ہے تو یہ بھی اسی کے ساتھ پرواز کرتی ہیں , اگر وہ کسی جگہ اتر جاتا ہے تو یہ بھی اسی کے ساتھ اتر جاتی ہیں۔

ٹڈی دل کے بارے میں انبیا اور علما۶ کے احکام و خیالات

احادیث سے یہ بات ثابت ہے کہ آپ ﷺ‎ نے ان کی ہلاکت کی دعا مانگی ہے۔ اور یہ بھی ارشاد فرمایا تم ٹڈیوں کو ہلاک مت کیا کرو کیونکہ یہ تو حق تعالی کا لشکر ہے _ (طبرانی و بہیقی). قتل کا حکم اس وقت ہے جب تک کھیتی وغیرہ کو کوئی نقصان نہ پہنچائے

امام دمیری فرماتے ہیں ٹڈی کا لعاب نباتات کے لیے زہر قاتل ہے اگر کسی نباتات پر پڑ جاتا ہے تو اسے ہلاک کر کے چھوڑتار ہے یہی وجہ ہے جس کھیت میں پہنچ جاتی ہے اس کو برباد کرتی ہیں ۔

ابن میسرہ کہتے ہیں کہ یحیی بن ذکریا اکثر ٹڈی کا گوشت اور پھلوں کا گودا استعمال فرمایا کرتے تھے۔ ۔

حضرت عبد اللہ بن ابو اوفی فرماتے ہیں کہ ہم نے آپﷺ‎ کے ساتھ غزوات میں شرکت کی جس میں ہم نے ٹڈی کا گوشت کھایا۔
آپ ﷺ‎ نے ارشاد فرمایا ہمارے لیے دو میتہ (مچھلی اور ٹڈی ) اور دو خون (جگر اور تلی ) حلال کردیے گئے

ٹڈی دل کے حملے

کہا جاتا ہے پہلی جنگ عظیم کے بعد شامکے علاقے میں ٹڈی دل نے فصلات و باغات پر حملہ کر دیا تھا۔ نتیجتا قحط کی صورتحال پیداہو گئی مگر ایک شخص ایسا تھا جس کا باغ محفوظ رہا۔ حکومت وقت نے اس سے اس بات کی بابت تو اس نے کہا کہ وہ ایک دوا استعمال کرتا ہے جسے زکواة کہتے ہیں ۔ نبی ﷺ‎ کا فرمان ہے کہ صدقہ و خیرات بلا کو ٹالتی ہے اس لیے میراباغ محفوظ ہے۔

ٹڈّی دل نے گذشتہ برس دسمبر 2019 میں صومالیہ اور ایتھوپیا میں پونے دو لاکھ ایکڑ رقبے پر پھیلے کھیت مکمل تباہ کر دیے تھے۔۔ اقوام متحدہ کے حکام کا خدشہ ہے کہ ٹڈّیوں کا یہ بحران ایک ایسے خطے میں زرعی پیداوار میں انتہائی کمی پیدا کر سکتا ہے جو پہلے ہی سے سیلاب اور خشک سالی کی وجہ سے خوراک کی کمی سے دو چار ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق دو کروڑ کے قریب افراد اس بحران سے متاثر ہو سکتے ہیں۔

پاکستان اور بھارت میں ٹڈی دل کے حملے

گذشتہ سال کی طرح اس سال بھی پاکستان میں پنجاب اور سندھ کے علاقوں میانوالی رحیم یار خان وغیرہ میں ٹڈی دل کے گروہوں نے ڈیرہ جما لیا ہے۔

کٹڈی دل نے گنےکی فصل اور آم کے باغات کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے جب کہ محکمہ زراعت کے مطابق متاثرہ علاقوں میں اسپرے جاری ہے۔

سندھ میں لاڑکانہ، نوڈیرو، رتوڈیرو اور ڈوکری میں بھی ٹڈی دل کی یلغار سے گندم اور دیگر تیار فصلوں کو نقصان پہنچا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے12 مئی 2020 وزیراعظم کو خط لکھ کر کہا ہے کہ  فصلوں پر ٹڈیاں 15 مئی کے بعد بڑا حملہ کرسکتی ہیں،

دوسری طرف پاکستان سے ہجرت کر کے انڈیا جانے والی ٹڈیوں ن راجستھان کے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے کر اجارہ داری قائم دی ہے ۔ اب حکومت ان سے نبٹنے کے اقدامات میں مصروف عمل ہے۔

ٹڈی دل مفید یا نقصان دہ؟

کہا جاتا ہے کہ ہر چیز میں خیر اور شر دونوں پہلو نمایاں ہوتے ہیں ایک جانب ٹڈی کو حلال کہہ کر کھانے کا حکم ہے وہیں دوری طرف وہ فصلوں کی تباہی کا سبب ہے۔اللہ نے کوئی بہی چیز ب سبب نہیں پیدا فرمائی بس نقصان پہنچانے والی چیز کے شر سے بچنے کی دعا کرنی چاہیے۔اللہ ہم سب کو آفتوں اور بلاؤں سے محفوظ رکھے آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں